الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پرروکا فواد چوہدری

ضمنی انتخابات محدود حلقوں میں ہو رہے ہیں اس لئے پورے صوبے میں تبادلوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، فواد چوہدری

اپوزیشن سے لوٹے ہوئے پیسوں کا نہ پوچھاجائےتو حکومت اچھی ہے، وزیر اطلاعات (فوٹو: فائل)

ISLAMABAD:
وفاقی وزیراطلاعات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر آئی جی کے تبادلے کو روکا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو جو سہولت دی جاسکتی ہے ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کے مطالبات کچھ زیادہ ہیں، اپوزیشن سے لوٹے ہوئے پیسوں کا نہ پوچھا جائے تو حکومت اچھی ہے، ان کی جمہوریت کا مطلب سب کرپٹ لوگ مل جائیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سب کو خوش کرکے نہیں چل سکتے

وفاقی وزیرنے کہا کہ اپوزیشن کا شور شرابے کا مقصد ہے کہ ان سے پیسوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے، لیکن احتساب کا سلسلہ نہیں رکے گا اور اس کو چلنا ہے، تحریک انصاف کو مینڈیٹ اس نظام کےخلاف ملا ہے، عوام سے کئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔


اس خبرکوبھی پڑھیں: آئی جی پنجاب طاہر خان کی تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کے تبادلے کو غیر قانونی طور پر روکا، ضمنی انتخابات محدود حلقوں میں ہو رہے ہیں اس لئے پورے صوبے میں تبادلوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ، الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہےکہ آئی جی کے تبادلے سے متعلق حکم واپس لیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن تحقیقات سے متعلق پیش رفت نہ ہونے پرآئی جی کا تبادلہ کیا، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر آزادانہ تحقیقات کرائیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: احتساب کے اعلان سے اپوزیشن کی سانسیں خشک ہوگئیں

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیوروکریسی پر منتخب نمائندوں کا احترام لازم ہے، کوئی ایم این اے یا ایم پی اے آپ کو فون کریں، جواباً آپ ان کو فون نہ کریں ایسا نہیں ہو سکتا، بیوروکریسی کا کام پالیسی بنانا نہیں، پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہے، جو ہماری پالیسی پر عملدرآمد نہیں کرے گا اس کو گھر جانا ہوگا۔

 
Load Next Story