صدرکاخطاب متوازنجامع تھاحکومتی واپوزیشن ارکان
جمہوریت کاعکاس تھا، اسپیکر،اچھے نتائج برآمدہونگے،تمام مسائل کا احاطہ کیا
جمہوریت کاعکاس تھا، اسپیکر،اچھے نتائج برآمدہونگے،تمام مسائل کا احاطہ کیا فوٹو:ایکسپریس نیوز
SENDAI, JAPAN:
حکومتی اوراپوزیشن بنچوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اورسیاسی رہنماؤں نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کوقومی امنگوں کے مطابق قراردیتے ہوئے کہاکہ صدرنے جمہوریت کی عکاسی کی ہے۔
پیرکوصدرکے خطاب کے بعدسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری قومی ایشوزپرسنجیدہ تھے۔انہوں نے ملک وقوم کودرپیش تمام مسائل کامکمل احاطہ کیا، ان کے خطاب سے جمہوریت کے حسن کی بجاطورپرعکاسی ہوئی ہے۔ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی مرتضیٰ جاویدنے صدرکے خطاب کوسراہتے ہوئے کہاکہ انھوں نے قومی امنگوں کے مطابق بات کی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ صدرپاکستان ملک کانمائندہ ہے کسی پارٹی کا نہیں صدرکاخطاب جامع تمام مسائل کااحاطہ کیاگیا۔ محمودخان اچکزئی نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ20 سال میںپہلی مرتبہ پرسکون اورمتوازن خطاب سننے کوملا۔
قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاہے کہ صدرکاخطاب متوازن تھا اعتزازاحسن نے کہاکہ صدارتی خطاب مختصراورجامع تھا۔ صدارتی خطاب کے دوران مسلم لیگ ن نے 8مرتبہ ڈیسک بجائے ہیں جوکہ اچھی روایت ہے ۔شاہ محمودقریشی، سرورخان اورشفقت محمودنے صدرکے خطاب پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ خطاب مختصراورٹودی پوائنٹ تھاتاہم اس میں وہ بہت سی باتیں کی گئیںہیں جوعمل5سال میں دیکھنے کونہیں ملیں۔وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک نے کہاکہ خطاب ٹھیک تھا۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمااقبال ظفرجھگڑانے کہاکہ صدرکی تقریرمتوازن تھی وفاقی وزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل شاہدخاقان عباسی نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کوملک میں جمہوریت کے استحکام کیلیے نیک شگون قراردیا۔
حکومتی اوراپوزیشن بنچوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اورسیاسی رہنماؤں نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کوقومی امنگوں کے مطابق قراردیتے ہوئے کہاکہ صدرنے جمہوریت کی عکاسی کی ہے۔
پیرکوصدرکے خطاب کے بعدسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری قومی ایشوزپرسنجیدہ تھے۔انہوں نے ملک وقوم کودرپیش تمام مسائل کامکمل احاطہ کیا، ان کے خطاب سے جمہوریت کے حسن کی بجاطورپرعکاسی ہوئی ہے۔ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی مرتضیٰ جاویدنے صدرکے خطاب کوسراہتے ہوئے کہاکہ انھوں نے قومی امنگوں کے مطابق بات کی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ صدرپاکستان ملک کانمائندہ ہے کسی پارٹی کا نہیں صدرکاخطاب جامع تمام مسائل کااحاطہ کیاگیا۔ محمودخان اچکزئی نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ20 سال میںپہلی مرتبہ پرسکون اورمتوازن خطاب سننے کوملا۔
قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاہے کہ صدرکاخطاب متوازن تھا اعتزازاحسن نے کہاکہ صدارتی خطاب مختصراورجامع تھا۔ صدارتی خطاب کے دوران مسلم لیگ ن نے 8مرتبہ ڈیسک بجائے ہیں جوکہ اچھی روایت ہے ۔شاہ محمودقریشی، سرورخان اورشفقت محمودنے صدرکے خطاب پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ خطاب مختصراورٹودی پوائنٹ تھاتاہم اس میں وہ بہت سی باتیں کی گئیںہیں جوعمل5سال میں دیکھنے کونہیں ملیں۔وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک نے کہاکہ خطاب ٹھیک تھا۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمااقبال ظفرجھگڑانے کہاکہ صدرکی تقریرمتوازن تھی وفاقی وزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل شاہدخاقان عباسی نے صدرآصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کوملک میں جمہوریت کے استحکام کیلیے نیک شگون قراردیا۔