نائیجیریا میں مسلح گروہ نے 833 جنگجو بچوں کو رہا کردیا

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
مسلح گروہ میں 2 ہزار سے زائد کم سن بچوں کو بھرتی کیا گیا تھا (فوٹو : فائل)

مسلح گروہ میں 2 ہزار سے زائد کم سن بچوں کو بھرتی کیا گیا تھا (فوٹو : فائل)

ابوجہ: یونیسیف نے کہا ہے کہ نائیجیریا کے مسلح گروہ نے بھرتی کیے گئے 833 کم سن جنگجوؤں کو رہا کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیسیف نے نائیجیریا کے شدت پسند گروپ کی جانب سے 833 بچوں کو رہا کرنے کی تصدیق کی ہے۔ بچوں کی رہائی ایک معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی جس پر مکمل عمل درآمد کے لیے 60 فیصد بچوں کی رہائی باقی ہے۔

یونیسیف کے ترجمان کرسٹوفر بولیئریک کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے مسلح گروہ سویلین جوائنٹ ٹاسک فورس نے اپنی ملیشیا میں بچوں کو بھرتی نہ کرنے کی ہامی بھری تھی اور بھرتی کیے گئے کم سن بچوں کو آزاد کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے 2017ء میں ایک ایکشن پلان پر دستخط کیے تھے۔

سویلین ٹاسک فورس نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے 2 ہزار 69 بچوں میں سے 833 کو رہا کردیا ہے۔ رہا ہونے والے بچوں کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔ اب بھی 1236 بچے مسلح گروہ میں شامل ہیں جنہیں رواں برس کے آخر تک رہا کرکے عام بچوں جیسی زندگی گزارنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

یونیسیف مسلح گروہ سے آزاد ہونے والے باغی بچوں کی تعلیم ، خوراک اور رہائش کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں نفسیاتی طور پر بھی مضبوط کرے گی تاکہ ان بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکے۔ بعد ازاں بچوں کو والدین کے حوالے کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2013ء میں شدت پسند گروہ بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر مسلح گروپ سویلین جوائنٹ ٹاسک فورس بنائی گئی تھی جس کے لیے 2 ہزار سے زائد کم سن بچوں کو بھی بھرتی کیا گیا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔