صدر ٹرمپ کی دھمکی پر سعودی عرب کا بھرپور ردعمل
جمال خشوگی کے قتل کا شبہ کسی دوسرے ملک استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر ظاہر کیا جا رہا ہے
جمال خشوگی کے قتل کا شبہ کسی دوسرے ملک استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر ظاہر کیا جا رہا ہے۔فوٹو:فائل
استنبول میں 2اکتوبر کو سعودی قونصل خانے پر دستاویزات کے حصول کے لیے جانے والے جلا وطن صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی عالمی قوتوں کی توجہ کا مرکز بننے کے بعد سعودی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ اس معاملے پر امریکا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا' صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ اور قریبی تعلقات کی پروا کیے بغیر دھمکی دے ڈالی کہ اگر ریاض پر سعودی صحافی جمال خشوگی کا قتل ثابت ہو گیا تو اسے سنگین سزا دی جائے گی۔
برطانیہ نے بھی امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے سعودی عرب میں منعقد ہونے والی انوسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے' بات یہیں تک رکی نہیں بلکہ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ریفارم ایجنڈے کو پروموٹ کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی انوسٹمنٹ کانفرنس کے متعددا سپانسرز اور میڈیا گروپس نے بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی خبررساں اداروں نے کہا ہے کہ استنبول حکام کا خیال ہے کہ سعودی جاسوسوں نے سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خشوگی کو سفارت خانے کے اندر قتل کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سعودی عرب نے بھی بھرپور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دھمکیوں کا موثر جواب دے گا۔ ریاض حکومت کی جانب سے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ''سلطنت ہر قسم کی دھمکیوں اور معاشی پابندیوں' سیاسی دباؤ یا غلط الزامات کی تکرار کے ذریعے سلطنت کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہے''۔ حکومت مخالف صحافیوں کا قتل کوئی نئی بات نہیں' ایسا پوری دنیا میں ہوتا رہتا ہے' حکومتیں اپنے ان ناقد صحافیوں کو جو ان کے لیے باقاعدہ طور پر درد سر بن جائیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔
چونکہ جمال خشوگی کے قتل کا شبہ کسی دوسرے ملک استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر ظاہر کیا جا رہا ہے اس لیے اس مسئلے کو عالمی سطح پر بہت زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے اس مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت اور سعودی عرب کو دھمکیاں دینا کسی مستقبل کے خوفناک منصوبے کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے ورنہ سعودی عرب سے اپنے دوستانہ تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے امریکا اس مسئلے سے چشم پوشی بھی کر سکتا تھا۔ سعودی عرب اپنے طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے' شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلی فون پر ترکی کے صدر طیب اردگان سے اس معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا نیا کھیل کھیلتا اور سعودی عرب اس بحران سے کیسے نکلتا ہے۔
برطانیہ نے بھی امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے سعودی عرب میں منعقد ہونے والی انوسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے' بات یہیں تک رکی نہیں بلکہ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ریفارم ایجنڈے کو پروموٹ کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی انوسٹمنٹ کانفرنس کے متعددا سپانسرز اور میڈیا گروپس نے بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی خبررساں اداروں نے کہا ہے کہ استنبول حکام کا خیال ہے کہ سعودی جاسوسوں نے سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خشوگی کو سفارت خانے کے اندر قتل کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سعودی عرب نے بھی بھرپور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دھمکیوں کا موثر جواب دے گا۔ ریاض حکومت کی جانب سے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ''سلطنت ہر قسم کی دھمکیوں اور معاشی پابندیوں' سیاسی دباؤ یا غلط الزامات کی تکرار کے ذریعے سلطنت کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہے''۔ حکومت مخالف صحافیوں کا قتل کوئی نئی بات نہیں' ایسا پوری دنیا میں ہوتا رہتا ہے' حکومتیں اپنے ان ناقد صحافیوں کو جو ان کے لیے باقاعدہ طور پر درد سر بن جائیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔
چونکہ جمال خشوگی کے قتل کا شبہ کسی دوسرے ملک استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر ظاہر کیا جا رہا ہے اس لیے اس مسئلے کو عالمی سطح پر بہت زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے اس مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت اور سعودی عرب کو دھمکیاں دینا کسی مستقبل کے خوفناک منصوبے کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے ورنہ سعودی عرب سے اپنے دوستانہ تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے امریکا اس مسئلے سے چشم پوشی بھی کر سکتا تھا۔ سعودی عرب اپنے طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے' شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلی فون پر ترکی کے صدر طیب اردگان سے اس معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا نیا کھیل کھیلتا اور سعودی عرب اس بحران سے کیسے نکلتا ہے۔