حکومت پی آئی اے کے امور کی شفاف انداز میں تحقیقات کرائے چیف جسٹس
پی آئی اے ایک بڑا ادارہ ہے اس میں چیرمین اور ایم ڈی کی مستقل بنیادوں پر تقرری ہونی چاہیے،چیف جسٹس
پی آئی اے ایک بڑا ادارہ ہے اس میں چیئرمین اور ایم ڈی کی مستقل بنیادوں پر تقرری ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس فوٹو: فائل
سپریم کورٹ میں پی آئی اے کرپشن کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت پی آئی اے کے امور کی شفاف انداز میں تحقیقات کرائے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے کہا کہ پی آئی اے ایک بڑا ادارہ ہے اس میں چیئرمین اور ایم ڈی کی مستقل بنیادوں پر تقرری ہونی چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری دفاع نے خود کو ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے قائم مقام چیئرمین بنا لیا،وفاقی حکومت اس معاملے پر فیصلہ کرے ورنہ عدالت کارروائی کرنے کے بعد خود فیصلہ کرے گی۔
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کا کہنا تھا کہ خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت پی آئی اے کے امور کی شفاف انداز میں تحقیقات کرائے، عدالت نے اٹارنی جنرل کی طرف سے چیرمین اور ایم ڈی کی تعیناتی پر حکومت سے بات کرنے کے لیے وقت مانگنے کی استدعا پر کیس کی سماعت 24جون تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے کہا کہ پی آئی اے ایک بڑا ادارہ ہے اس میں چیئرمین اور ایم ڈی کی مستقل بنیادوں پر تقرری ہونی چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری دفاع نے خود کو ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے قائم مقام چیئرمین بنا لیا،وفاقی حکومت اس معاملے پر فیصلہ کرے ورنہ عدالت کارروائی کرنے کے بعد خود فیصلہ کرے گی۔
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کا کہنا تھا کہ خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت پی آئی اے کے امور کی شفاف انداز میں تحقیقات کرائے، عدالت نے اٹارنی جنرل کی طرف سے چیرمین اور ایم ڈی کی تعیناتی پر حکومت سے بات کرنے کے لیے وقت مانگنے کی استدعا پر کیس کی سماعت 24جون تک ملتوی کردی۔