پاکستان میں خون عطیہ کرنے کا رجحان بہت کم ہے ماہرین طب
خون عطیہ کرنے سے انسانی صحت بہتر ہوتی ہے،ایک بوتل خون 4 انسانوں کی جان بچاتی ہے،آج عطیہ خون کا عالمی دن منایا جائیگا
خون کا نعم البدل ایجاد نہ ہوسکا،صحت مند انسان کو سال میں 3 بار خون عطیہ کرنا چاہیے، عطیہ خون سے لاکھوں زندگیاں بچ جاتی ہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاکستان سمیت دنیا بھر میں رضاکارانہ خون کے عطیات دینے والوںکاعالمی دن آج منایاجائیگا۔
یہ دن14جون1868 کوآسٹریلیا کے ڈاکٹرکارل لینڈ شٹائنرکے یوم پیدائش کے موقع پرمنایاجاتا ہے جنھوں نے خون کے اجزا کو4 گروپوں میں تقسیم کیا جس پر انھیں نوبل انعام ملا تھا،ماہرین طب کے مطابق خون کاعطیہ دینے سے انسانی صحت بہتر ہوتی ہے خون کا عطیہ 18سال سے 60 سال کے افراد دے سکتے ہیں، خون کی ایک بوتل سے 4 انسانوںکی جان بچائی جا سکتی ہے خون میں 4 اجزا شامل ہوتے ہیں جوانسانی زندگیاں بچانے کے کام آتے ہیں، دنیا بھر میں طبی سائنس خون کا نعم البدل ایجاد نہیںکرسکی یہی وجہ ہے متاثرہ مریضوںکی جان بچانے کیلیے خون کے عطیات کی ضرورت پڑتی ہے تاہم پاکستان کی آبادی کے 25 فیصد افراد رضاکارانہ خون کے عطیات دیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں خون کی شدید قلت ہے۔
ملک میں سالانہ 2.5 ملین بوتل خون کی ضرورت پڑتی ہے یومیہ 7 ہزار سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہے جبکہ کل 1.3 ملین وصول ہونے والے خون کے عطیات میں سے60 فیصد خون تھیلیسمیا کے مریضوں کو فراہم کیا جاتا ہے،ماہرین امراض خون کے مطابق ایک صحت مند انسان کو سال میں زیادہ سے زیادہ 3 بار خون کا عطیہ دینا چاہیے خون کا عطیہ دینے والے مختلف امراض سے محفوظ رہتے ہیں،پاکستان میں خون کی ضرورت اور اس کی فراہمی میں واضح فرق ہے جس کی وجوہات میں لوگوں میں خون کاعطیہ دینے کے بارے میں مختلف قسم کے خوف پائے جاتے ہیں جبکہ 4 مہینے میں ایک بارخون دینے سے انسانی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
امسال دنیا بھر میں خون عطیہ کرنے کا عنوان ''خون عطیہ کرو اورزندگی کا تحفہ دو'' رکھا گیاہے، اس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں خون عطیہ کرکے لوگوںکی جانیں بچانے کا شعور اجاگرکرنا اور رضا کارانہ طورپرخون عطیہ کرنے والوںکاشکریہ اداکرنا ہے ، انتقال خون سے ہر سال لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد ملتی ہے،عالمی ادارہ صحت نے 2020 تک پوری دنیا کے ممالک کورضاکارانہ طور پرخون دینے کا ہدف مقرر کیا ہے،اس وقت صرف62 ممالک میں رضاکارانہ طور پور عطیہ کیا جانے والا خون سپلائی کیا جارہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں رضاکارانہ خون کے عطیات دینے والوںکاعالمی دن آج منایاجائیگا۔
یہ دن14جون1868 کوآسٹریلیا کے ڈاکٹرکارل لینڈ شٹائنرکے یوم پیدائش کے موقع پرمنایاجاتا ہے جنھوں نے خون کے اجزا کو4 گروپوں میں تقسیم کیا جس پر انھیں نوبل انعام ملا تھا،ماہرین طب کے مطابق خون کاعطیہ دینے سے انسانی صحت بہتر ہوتی ہے خون کا عطیہ 18سال سے 60 سال کے افراد دے سکتے ہیں، خون کی ایک بوتل سے 4 انسانوںکی جان بچائی جا سکتی ہے خون میں 4 اجزا شامل ہوتے ہیں جوانسانی زندگیاں بچانے کے کام آتے ہیں، دنیا بھر میں طبی سائنس خون کا نعم البدل ایجاد نہیںکرسکی یہی وجہ ہے متاثرہ مریضوںکی جان بچانے کیلیے خون کے عطیات کی ضرورت پڑتی ہے تاہم پاکستان کی آبادی کے 25 فیصد افراد رضاکارانہ خون کے عطیات دیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں خون کی شدید قلت ہے۔
ملک میں سالانہ 2.5 ملین بوتل خون کی ضرورت پڑتی ہے یومیہ 7 ہزار سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہے جبکہ کل 1.3 ملین وصول ہونے والے خون کے عطیات میں سے60 فیصد خون تھیلیسمیا کے مریضوں کو فراہم کیا جاتا ہے،ماہرین امراض خون کے مطابق ایک صحت مند انسان کو سال میں زیادہ سے زیادہ 3 بار خون کا عطیہ دینا چاہیے خون کا عطیہ دینے والے مختلف امراض سے محفوظ رہتے ہیں،پاکستان میں خون کی ضرورت اور اس کی فراہمی میں واضح فرق ہے جس کی وجوہات میں لوگوں میں خون کاعطیہ دینے کے بارے میں مختلف قسم کے خوف پائے جاتے ہیں جبکہ 4 مہینے میں ایک بارخون دینے سے انسانی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
امسال دنیا بھر میں خون عطیہ کرنے کا عنوان ''خون عطیہ کرو اورزندگی کا تحفہ دو'' رکھا گیاہے، اس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں خون عطیہ کرکے لوگوںکی جانیں بچانے کا شعور اجاگرکرنا اور رضا کارانہ طورپرخون عطیہ کرنے والوںکاشکریہ اداکرنا ہے ، انتقال خون سے ہر سال لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد ملتی ہے،عالمی ادارہ صحت نے 2020 تک پوری دنیا کے ممالک کورضاکارانہ طور پرخون دینے کا ہدف مقرر کیا ہے،اس وقت صرف62 ممالک میں رضاکارانہ طور پور عطیہ کیا جانے والا خون سپلائی کیا جارہا ہے۔