سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نواز شہباز شریف کی طلبی کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست
سپریم کورٹ فریقین کوطلب کرنے کا حکم صادر کرے، درخواست میں استدعا
درخواست میں لاہورہائی کورٹ اورٹرائل کورٹ کا فریقین کوعدالت میں نہ بلانے کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی: فوٹو: فائل
پاکستان عوامی تحریک نے نواز شریف اور شہبازشریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بلانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق پاکستان عوامی تحریک نے نواز شریف اور شہباز شریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بلانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی۔ درخواست میں نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، عابد شیر علی، چوہدری نثار، توقیر شاہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں لاہورہائی کورٹ اورٹرائل کورٹ کا فریقین کو عدالت میں نہ بلانے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ماڈل ٹاوٴن سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا، اس موقع پر 10 معصوم لوگوں کی جانیں لی گئیں، سپریم کورٹ فریقین کو طلب کرنے کا حکم صادر کرے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سیریٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جو کیس عدالت میں چل رہا ہے اس حوالے سے حکومت ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرسکتی، کیس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہے، بیوروکریٹ ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پراسیکیوٹرٹیم تبدیل کردی جس سے انصاف کا حصول آسان ہوگا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیرمذہبی پیرنورالحق قادری نے ایکسپریس نیوزسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پہلے دن سے سانحہ ماڈل ٹاؤن پرعوامی تحریک کے ساتھ کھڑی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل اپنے انجام تک پہنچ رہے ہیں۔
وفاقی وزیرمذہبی امور نے کہا کہ پنجاب میں دینی مدارس کو وزارت داخلہ کے بجائے وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ کیے جانے کی سفارشات حکومت کوبھیجی ہیں، پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں دینی مدارس کو بطوراین جی او وزارت داخلہ رجسٹرڈ کرتی ہے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق پاکستان عوامی تحریک نے نواز شریف اور شہباز شریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بلانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی۔ درخواست میں نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، عابد شیر علی، چوہدری نثار، توقیر شاہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں لاہورہائی کورٹ اورٹرائل کورٹ کا فریقین کو عدالت میں نہ بلانے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ماڈل ٹاوٴن سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا، اس موقع پر 10 معصوم لوگوں کی جانیں لی گئیں، سپریم کورٹ فریقین کو طلب کرنے کا حکم صادر کرے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سیریٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جو کیس عدالت میں چل رہا ہے اس حوالے سے حکومت ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرسکتی، کیس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہے، بیوروکریٹ ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پراسیکیوٹرٹیم تبدیل کردی جس سے انصاف کا حصول آسان ہوگا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیرمذہبی پیرنورالحق قادری نے ایکسپریس نیوزسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پہلے دن سے سانحہ ماڈل ٹاؤن پرعوامی تحریک کے ساتھ کھڑی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل اپنے انجام تک پہنچ رہے ہیں۔
وفاقی وزیرمذہبی امور نے کہا کہ پنجاب میں دینی مدارس کو وزارت داخلہ کے بجائے وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ کیے جانے کی سفارشات حکومت کوبھیجی ہیں، پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں دینی مدارس کو بطوراین جی او وزارت داخلہ رجسٹرڈ کرتی ہے۔