25او لیول 23 کمپری ہینسو اسکول اور2انجینئرنگ کالج بنانے کا منصوبہ
کمپری ہینسو اسکولوں کیلیے46کروڑمختص، تعلیم کی ترقی پر 13.48ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ
او لیول اسکولوں پر ایک ارب 2کروڑ، کمپری ہینسو اسکولوں کیلیے46کروڑمختص، تعلیم کی ترقی پر 13.48ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ. فوٹو: ایکسپریس/ فائل
صوبائی حکومت نے سندھ میں تعلیم کے شعبے کے لیے آئندہ مالی سال 2013/14کے آئندہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 13.48ارب روپے کی رقم مختص کردی ہے۔
جبکہ مجموعی طورپرترقیاتی اورغیرترقیاتی منصوبوں کیلیے132.22ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے 118.74 ارب روپے غیرترقیاتی اخراجات (تنخواہوں اوردیگرغیرترقیاتی) مدوں کے رکھے گئے ہیں حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال 2013/14کے بجٹ کی ترقیاتی منصوبوںسندھ کے اسکولوں میں موجودہ نصاب کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے''کریکولم ڈویلپمنٹ''کے 3 سالہ پروگرام کے سلسلے میں 50لاکھ روپے،سندھ کے ہرضلع میں نرسری سے اولیول اسکولوں کے قیام کے لیے 25تعلیمی اداروں کے 1ارب 2کروڑ50لاکھ روپے جبکہ 23کمپری ہینسیوواسکولوں کے قیام کے سلسلے میں46کروڑروپے مختص کیے ہیں۔
مزیدبراں کراچی کے لیاری ٹائون میں بلاول بھٹوانجینیئرنگ کالج کے قیام کامنصوبہ بنایاگیاہے اوراس منصوبے کے لیے10کروڑروپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں اسی طرح کراچی کے میمن گوٹھ گڈاپ میں شہید ذوالفقارعلی بھٹوانجینیئرنگ کالج کے قیام کے لیے ساڑھے 7کروڑ روپے، جامعہ کراچی میں شہید محترمہ بینظیربھٹو چیئراورکنونشن سینٹرکے لیے ڈھائی کروڑ روپے، کراچی میں قائم ہونے والی شہید ذوالفقارعلی بھٹولاء یونیورسٹی کے لیے 10کروڑ روپے،این ای ڈی یونیورسٹی میں ڈاکٹرعشرت العباد خان گرین کیمپس کے قیام کے لیے 1لاکھ روپے،کراچی میں ایجوکیشن کمپلکس کی کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 20کروڑروپے،صدارتی احکام کے تحت جیل ملازمین کے بچوں کے لیے جیل میں اسکولوں کے قیام کے لیے 2کروڑ 49لاکھ روپے اورچائینیز زبان کی تعلیم کے لیے 5کروڑ روپے کی رقم ترقیاتی بجٹ میں مختص کی گئی ہے۔
دریں اثناء صوبائی محکمہ تعلیم نے گزشتہ سال قائم ہونے والے صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لیے بجٹ مختص نہیں کیاہے جس کے سبب سندھ کی سرکاری جامعات ماضی کی طرح اس سال بھی وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی محتاج رہیں گی ۔یہ ادارے سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعدگزشتہ سال قائم کیاگیاتھاجس کامقصد صوبے کی جامعات کوفنڈز اوراسکالرشپ کی فراہمی تھاسابق صوبائی وزیرتعلیم پیرمظہرالحق نے اس سلسلے میں ایچ ای سی پرتنقید کرتے ہوئے کہاتھاکہ وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مجموعی طورپر10ہزاراسکالرشپ میں سے سندھ کوصرف 700اسکالرشپ دی تھی اور گرانٹ میں سندھ کو نظر اندازکیاگیاتھا۔
جبکہ مجموعی طورپرترقیاتی اورغیرترقیاتی منصوبوں کیلیے132.22ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے 118.74 ارب روپے غیرترقیاتی اخراجات (تنخواہوں اوردیگرغیرترقیاتی) مدوں کے رکھے گئے ہیں حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال 2013/14کے بجٹ کی ترقیاتی منصوبوںسندھ کے اسکولوں میں موجودہ نصاب کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے''کریکولم ڈویلپمنٹ''کے 3 سالہ پروگرام کے سلسلے میں 50لاکھ روپے،سندھ کے ہرضلع میں نرسری سے اولیول اسکولوں کے قیام کے لیے 25تعلیمی اداروں کے 1ارب 2کروڑ50لاکھ روپے جبکہ 23کمپری ہینسیوواسکولوں کے قیام کے سلسلے میں46کروڑروپے مختص کیے ہیں۔
مزیدبراں کراچی کے لیاری ٹائون میں بلاول بھٹوانجینیئرنگ کالج کے قیام کامنصوبہ بنایاگیاہے اوراس منصوبے کے لیے10کروڑروپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں اسی طرح کراچی کے میمن گوٹھ گڈاپ میں شہید ذوالفقارعلی بھٹوانجینیئرنگ کالج کے قیام کے لیے ساڑھے 7کروڑ روپے، جامعہ کراچی میں شہید محترمہ بینظیربھٹو چیئراورکنونشن سینٹرکے لیے ڈھائی کروڑ روپے، کراچی میں قائم ہونے والی شہید ذوالفقارعلی بھٹولاء یونیورسٹی کے لیے 10کروڑ روپے،این ای ڈی یونیورسٹی میں ڈاکٹرعشرت العباد خان گرین کیمپس کے قیام کے لیے 1لاکھ روپے،کراچی میں ایجوکیشن کمپلکس کی کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 20کروڑروپے،صدارتی احکام کے تحت جیل ملازمین کے بچوں کے لیے جیل میں اسکولوں کے قیام کے لیے 2کروڑ 49لاکھ روپے اورچائینیز زبان کی تعلیم کے لیے 5کروڑ روپے کی رقم ترقیاتی بجٹ میں مختص کی گئی ہے۔
دریں اثناء صوبائی محکمہ تعلیم نے گزشتہ سال قائم ہونے والے صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے لیے بجٹ مختص نہیں کیاہے جس کے سبب سندھ کی سرکاری جامعات ماضی کی طرح اس سال بھی وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی محتاج رہیں گی ۔یہ ادارے سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعدگزشتہ سال قائم کیاگیاتھاجس کامقصد صوبے کی جامعات کوفنڈز اوراسکالرشپ کی فراہمی تھاسابق صوبائی وزیرتعلیم پیرمظہرالحق نے اس سلسلے میں ایچ ای سی پرتنقید کرتے ہوئے کہاتھاکہ وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مجموعی طورپر10ہزاراسکالرشپ میں سے سندھ کوصرف 700اسکالرشپ دی تھی اور گرانٹ میں سندھ کو نظر اندازکیاگیاتھا۔