غریب کہاں جائے پرانے کپڑوں کی درآمد پر 325 فیصد ٹیکس عائد

ان رجسٹرڈ سپلائز پر مزید2 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا،پرانے کپڑے بھی مہنگے، سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ مرچنٹس ایسوسی ایشن

کراچی: آل پاکستان سیکنڈہینڈ کلوتھنگ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے ارکان حکومت کی جانب سے پرانے کپڑوں کی درآمد پر لگائے گئے ٹیکسوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

نو منتخب جمہوری حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے پرانے اور استعمال شدہ کپڑے بھی مہنگے کردیے ہیں۔

جبکہ پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ مرچنٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب لوگوں کو تن ڈھانپنے کے لیے سستے داموں کپڑوں کی دستیابی کی سہولت برقرار رکھی جائے، زیرو ریٹڈ ایس آر او سے نکالے جانے والے چیپٹر 63 کے ذریعے پرانے کپڑوں کی درآمد پر ختم کی جانے والی رعایتی ڈیوٹی وٹیکسوں کی سہولت بحال کی جائے اور ان کپڑوں کی درآمد کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں اضافہ بھی واپس لیا جائے۔




گزشتہ روز جاری بیان میں پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ مرچنٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ بجٹ پیش ہونے سے قبل استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد کو زیرو ریٹنگ کی سہولت حاصل تھی اور ان کپڑوں کی درآمد پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 2 فیصد سیلز ٹیکس، 2 فیصد اضافی سیلز ٹیکس اور 3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد تھا مگر آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں زیرو ریٹڈ ایس آر او سے چیپٹر 63 نکال دیا گیا ہے جس کے بعد استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح تو 5 فیصد ہی برقرار ہے تاہم سیلز ٹیکس کی شرح بڑھ کر 17 فیصد اور اضافی سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ساڑھے 5 فیصد ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ ان رجسٹرڈ لوگوں کو استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت پر 2فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نئے اسٹرکچر کے تحت استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر عائد مجموعی ٹیکسوں کی شرح بڑھ کر32.5 فیصد ہوگئی ہے جس سے غریب لوگوںکے لیے استعمال شدہ کپڑے بھی مہنگے ہوجائیں گے۔
Load Next Story