نجی تعلیمی اداروں پر ٹیکس سے طالبعلم متاثر ہونگے اے پی یو آئی

ٹیکس سے صرف3 ارب ملیں گے، متوسط طبقے کیلیے تعلیم کا حصول مشکل ہو جائے گا.

اسٹیوٹاکے سیمینار سے محمد علی جناح یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

QUETTA:
ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجٹ 2013/14 میں نجی تعلیمی اداروں پر لگائے جانے والے ٹیکسز کو واپس لے، ان تمام ٹیکس کے نفاذ کے نتیجے میںطالبعلم پر فیس کا25 سے35 فیصداضافی بوجھ پڑے گا۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کے مطابق کوئی بھی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ جس کا قیام منافع کے مقصد کے لیے نہیں تھا وہ آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ تھے لیکن حالیہ بجٹ کے مطابق تمام یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے ٹیکس کی ادائیگی کے پابند ہونگے جس کی وجہ سے ان کے ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوں گے، وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ شعبہ تعلیم و تحقیق پر عائد ٹیکس واپس لیا جائے کیونکہ اس ٹیکس کے ذریعے حکومت صرف3 ارب روپے وصول کرے گی۔




لیکن اس کے نتیجے میں متوسط اور نچلے طبقے پر بوجھ بڑھ جائے گا اور ان کے لیے اپنے بچوں کوتعلیمی دلانا مزید مشکل ہوجائے گا، ان خیالات کااظہار پرائیویٹ یونیورسٹیز ایسوسی ایشن کی جانب سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جناح یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب، ضیا الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر ڈاکٹر خالد امین نے کیا، پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ5 فیصد اسٹوڈنٹ ٹیکس سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ٹیوشن فیس میں فوری اضافہ ہوجائے گا،2001 سے اساتذہ ، تحقیق دان ، اسکالر کو75فیصد ٹیکس کی چھوٹ حاصل تھی جوکہ اس بجٹ میں ختم کر دی گئی ہے اس کے نتیجے میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اساتذہ یکساں متاثرہ ہونگے، ایسوسی ایشنزکے عہدیداروں نے کہا کہ نجی جامعات کو وفاقی یا صوبائی اداروں سے کوئی گرانٹ نہیں ملتی یہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے وسائل سے رقم جمع کرتے ہیں، اگر ٹیکس کا نفاذعمل میں آیا تو تعلیمی ادارے مالی بحران کا شکارہوجائیں گے اور اسپانسرفنڈ کم کرنے یا بالآخر تعلیمی اداروں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
Load Next Story