اقوام متحدہ کی ایک لرزہ خیز رپورٹ
اگر یہ لوگ اپنے مفادات کا کوئی مناسب ارینجمنٹ کر لیتے تو امریکا اور روس کو یہاں اپنی پراکسی جنگ لڑنے کا موقع نہ ملتا۔
اگر یہ لوگ اپنے مفادات کا کوئی مناسب ارینجمنٹ کر لیتے تو امریکا اور روس کو یہاں اپنی پراکسی جنگ لڑنے کا موقع نہ ملتا۔ فوٹو: فائل
اقوام متحدہ کی ایک لرزہ خیز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال جنوری سے لے کر اب تک بحیرہ روم کو عبور کرنے کی ناکام کوشش میں 2000 سے زائد تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آدھے سے زائد اٹلی جانا چاہتے تھے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر کے ترجمان نے بتایا کہ متذکرہ اعدادوشمار کے علاوہ ستر مزید افراد کی لاشیں اس ہفتے اسپین کے ساحل پر ملی ہیں جو سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ چارلی یکسلے نامی ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ تارکین وطن اور پناہ گزین اس سال یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
جب سے مشرق وسطیٰ میں شام کا بحران شروع ہوا ہے سمندر میں مسافروں سے بھری ہوئی کشتیاں ڈوبنے اور ان کشتیوں پر سوار کمسن بچوں کے سمندری لہروں پر بہتے ہوئے ساحل تک پہنچنے کی تصاویر نے حساس انسانوں کا دل دہلا دیا ہے۔ ایک چار سالہ معصوم بچے کی ساحل سمندر پر لاش کی تصویر دیکھ کر بعض یورپی ممالک نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے ملک کی سرحدوں میں قدرے نرمی کر دی اور دروازے کسی حد تک کھول دیے۔
دل دہلا دینے والی ایک اور تصویر اس چار سالہ بچے کی تھی جسے اقوام متحدہ کے امدادی عملے کے بعض ارکان نے شام سے نکل کر صحرائی راستے سے اردن کی طرف جاتے ہوئے پکڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپر بیگ تھا جس میں اس کی والدہ اور بہن کے کپڑے تھے جو دونوں شام پر ہونے والی بمباری سے لقمہ اجل بن چکی تھیں تاہم اس سال سمندر میں غرق ہونے والوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس انسانی المیے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے بار بار یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ اس المیے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ تارکین وطن جس سمندری راستے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خطرناک ترین راستہ ہے جس کے ذریعے بچ کر نکلنا تقریباً نا ممکن ہے۔
مہاجرین کے ادارے کے ایک اور ترجمان جوئل مل مین نے کہا ہے کہ یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تارکین وطن کے لیے سب سے بڑا ہدف اٹلی اور اسپین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اسپین میں اس سال پچاس ہزار مہاجرین داخل ہو چکے ہیں جب کہ یونان پہنچنے والوں کی تعداد 23 ہزار بتائی گئی ہے۔
غریب اورجنگ زدہ ملکوں کے بے بس اور مجبور انسان اپنی زندگی داؤ پر لگا کر خطرناک آبی اور زمینی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں' بہت سے لوگ اس مہم جوئی میں کامیاب ہو کر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں لیکن بہت سے راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے ہر سال سیکڑوں نوجوان روز گار کی تلاش میں یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں' ان میں سے کئی تو اپنے ہی ملک میں لسانی اور قومیت کی نفرت کا شکار ہو کر اپنوں کی ہی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جب کہ کئی ایران' ترکی اور یونان کی سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کی زد میں آ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
بہرحال بحیرہ روم میں جو لوگ ڈوب کر زندگی سے نجات پا گئے' وہ بدقسمت ہیں جنھیں شام' عراق اور لیبیا میں جنگ کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے' یہ لوگ دمشق' بغداد اور طرابلس جیسے خوشحال شہروں میں رہتے تھے لیکن جنگ نے انھیں برباد کر دیا' کچھ سمندر میں ڈوب کر دنیا سے چلے گئے اور کچھ یورپ اور دیگر ملکوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعدادوشمار طاقتور ملکوں کے پالیسی سازوں اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کی لیے کافی ہونی چاہئیں۔ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے طاقتور حکمرانوں کی مفاد پرستی اور موقع پرستی کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔اگر یہ لوگ اپنے مفادات کا کوئی مناسب ارینجمنٹ کر لیتے تو امریکا اور روس کو یہاں اپنی پراکسی جنگ لڑنے کا موقع نہ ملتا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر کے ترجمان نے بتایا کہ متذکرہ اعدادوشمار کے علاوہ ستر مزید افراد کی لاشیں اس ہفتے اسپین کے ساحل پر ملی ہیں جو سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ چارلی یکسلے نامی ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ تارکین وطن اور پناہ گزین اس سال یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
جب سے مشرق وسطیٰ میں شام کا بحران شروع ہوا ہے سمندر میں مسافروں سے بھری ہوئی کشتیاں ڈوبنے اور ان کشتیوں پر سوار کمسن بچوں کے سمندری لہروں پر بہتے ہوئے ساحل تک پہنچنے کی تصاویر نے حساس انسانوں کا دل دہلا دیا ہے۔ ایک چار سالہ معصوم بچے کی ساحل سمندر پر لاش کی تصویر دیکھ کر بعض یورپی ممالک نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے ملک کی سرحدوں میں قدرے نرمی کر دی اور دروازے کسی حد تک کھول دیے۔
دل دہلا دینے والی ایک اور تصویر اس چار سالہ بچے کی تھی جسے اقوام متحدہ کے امدادی عملے کے بعض ارکان نے شام سے نکل کر صحرائی راستے سے اردن کی طرف جاتے ہوئے پکڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپر بیگ تھا جس میں اس کی والدہ اور بہن کے کپڑے تھے جو دونوں شام پر ہونے والی بمباری سے لقمہ اجل بن چکی تھیں تاہم اس سال سمندر میں غرق ہونے والوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس انسانی المیے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے بار بار یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ اس المیے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ تارکین وطن جس سمندری راستے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خطرناک ترین راستہ ہے جس کے ذریعے بچ کر نکلنا تقریباً نا ممکن ہے۔
مہاجرین کے ادارے کے ایک اور ترجمان جوئل مل مین نے کہا ہے کہ یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تارکین وطن کے لیے سب سے بڑا ہدف اٹلی اور اسپین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اسپین میں اس سال پچاس ہزار مہاجرین داخل ہو چکے ہیں جب کہ یونان پہنچنے والوں کی تعداد 23 ہزار بتائی گئی ہے۔
غریب اورجنگ زدہ ملکوں کے بے بس اور مجبور انسان اپنی زندگی داؤ پر لگا کر خطرناک آبی اور زمینی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں' بہت سے لوگ اس مہم جوئی میں کامیاب ہو کر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں لیکن بہت سے راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے ہر سال سیکڑوں نوجوان روز گار کی تلاش میں یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں' ان میں سے کئی تو اپنے ہی ملک میں لسانی اور قومیت کی نفرت کا شکار ہو کر اپنوں کی ہی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جب کہ کئی ایران' ترکی اور یونان کی سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کی زد میں آ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
بہرحال بحیرہ روم میں جو لوگ ڈوب کر زندگی سے نجات پا گئے' وہ بدقسمت ہیں جنھیں شام' عراق اور لیبیا میں جنگ کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے' یہ لوگ دمشق' بغداد اور طرابلس جیسے خوشحال شہروں میں رہتے تھے لیکن جنگ نے انھیں برباد کر دیا' کچھ سمندر میں ڈوب کر دنیا سے چلے گئے اور کچھ یورپ اور دیگر ملکوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعدادوشمار طاقتور ملکوں کے پالیسی سازوں اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کی لیے کافی ہونی چاہئیں۔ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے طاقتور حکمرانوں کی مفاد پرستی اور موقع پرستی کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔اگر یہ لوگ اپنے مفادات کا کوئی مناسب ارینجمنٹ کر لیتے تو امریکا اور روس کو یہاں اپنی پراکسی جنگ لڑنے کا موقع نہ ملتا۔