معاشی بحران کے خاتمہ کی یقین دہانی

دورہ چین سے وزیراعظم کے ہمراہ وطن واپسی پر قوم اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا اشد ضروری تھا۔


Editorial November 08, 2018
دورہ چین سے وزیراعظم کے ہمراہ وطن واپسی پر قوم اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا اشد ضروری تھا۔ فوٹو:اسکرین گریب

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا نہیں، 12 ارب ڈالر درکار تھے جس میں 6 ارب ڈالر رواں سال سعودی عرب، باقی رقم چین دیگا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرخزانہ اسد عمر کی مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیرخزانہ اسد عمر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیلنس آف پیمنٹ کے حوالے سے پاکستان کا مسئلہ حل اور پاکستان فوری بحران سے نکل چکا ہے، توجہ طویل المیعاد استحکام پرمرکوز ہے، انھوں نے بتایا کہ اعلیٰ سطح کا وفد 9 نومبر کو چین جا رہا ہے، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک بھی شامل ہوں گے اور یہ وفد چین میں ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے خدوخال طے کرے گا۔

وزیرخزانہ نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے بعض خدشات، الزامات اور اعتراضات کا مثبت جواب دیتے ہوئے اقتصادی و معاشی حقائق پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ بلاشبہ دورہ چین سے وزیراعظم کے ہمراہ وطن واپسی پر قوم اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا اشد ضروری تھا، معاملہ معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز کا ہے، اپوزیشن کے ''شور'' سے قطع نظر حکومت نے سعودی عرب اور چین سے اشتراک، مالیاتی تعاون و انتظامی و تجرباتی حمایت سمیت اسٹرٹیجک، اقتصادی، سماجی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کی جن کوششوں کا آغاز کیا ہے وہ قومی مفاد کا حصہ ہیں۔

ان پر بلاجواز تنقید اور پوائنٹ اسکورنگ مناسب نہیں، تاہم ملکی معاشی نظام کے استحکام اور درپیش بحرانوں کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل تلاش کرنا بھی ناگزیر ہے، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ سعودی عرب اور اب چین سے طویل المیعاد، پائیدار اور مستحکم اقتصادی روابط اور دو طرفہ تاریخی تعلقات کی تجدید معمولی پیش رفت نہیں بلکہ حکومت کو دوست ملکوں سے روابط اور معاشی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا چاہیے اور اس عمل میں اس تاثر کو مٹانے کی سعی و جستجو جاری رکھنی چاہیے کہ معیشت کے استحکام کی تگ ودو کشکول اٹھانے کے مترادف نہیں۔

دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ وزیر خزانہ اپنے قومی اہداف تک رسائی کی راہ میں اپنی توجہ فروعی اختلافات، اعتراضات اور اپوزیشن سے تکرار کے بجائے مفاہمت، مشاورت اور خیر سگالی کی فضا پیدا کرنے پر مرکوز رکھیں، جمہوریت میں اپوزیشن کو دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں تمام جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کو قومی ترقی و عوامی خوشحالی کے ہدف کو اجتماعی کوششوں سے مکمل کرنا چاہیے۔

اسی ضمن میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم کا دورہ چین مثبت رہا، دورے سے پاک چین اسٹرٹیجک تعاون کو معاشی تعاون میں بدلنے میں مدد ملی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات سے متعلق حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا گیا۔ وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کو وزرائے خارجہ کی سطح پر لے جانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں چین سے دوستی سے متعلق غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاک چین تعلقات نہ صرف اچھے بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں، چین کے ساتھ تعلقات اسٹرٹیجک تو تھے ہی جنھیں تجارت تک لے جانا چاہتے تھے۔ اسٹرٹیجک تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشی شیرازہ بندی پر حکومت توجہ دینے کا عزم رکھتی ہے جو صائب طرز فکر ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں شارٹ فال پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں اور ٹیکس اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔

یہ مستعدی اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان نئے پروگرام سے متعلق بدھ سے باضابطہ مذاکرات شروع ہوگئے، پاکستانی احکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف جائزہ مشن گزشتہ رات پاکستان پہنچ گیا تھا، وفد کی قیادت جائزہ مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کررہے ہیں جب کہ اسی روز کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) بدھ کو سیمنٹ کی قیمتوں میں ردوبدل، شوگر انڈسٹری کی جانب سے کی جانیوالی ٹیکس چوری اور پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ کی ادائیگیوں اور پلانٹ کی بجلی و پانی بلوں کی ادائیگیوں کے لیے اکیاون کروڑ روپے فراہم کرنے سمیت 7 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لینے کا فیصلہ ہوا، دوسری طرف سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا نے ترجیحی تجارت کے معاہدے (پی ٹی اے) میں20 اضافی ٹیرف لائنز کی شمولیت کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کے معاملہ پر انڈونیشیا کے وزیر تجارت سے بات چیت کی ہے۔

سیکریٹری وزارت تجارت نے چین میں ہونے والی نمائش کے موقع پر انڈونیشیا کے وزیر تجارت سے ملاقات کی، دونوں اطراف سے دوطرفہ تجارت و باہمی تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اس موقع پر سیکریٹری تجارت نے کہاکہ انڈونیشیا میں پاکستانی مصنوعات جن میں فیبرکس، ایتھنول، ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات شامل ہیں، کی برآمد کے بڑے امکانات ہیں۔

کاروباری حلقوں کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورے کے بعد چین کی جانب سے پاکستان کی 35 ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر اور ڈائریکٹر ٹریڈ فار پاکستان ایلن برنز نے کہا ہے کہ پاکستان میں وفاق اور صوبائی حکومتیں کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے لیے پیش رفت کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری سے استفادہ کررہی ہیں، انھوں نے کہا کہ جاری کاروباری اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ میں گیارہویں پوزیشن پر آ گیا ہے جو پاکستان کی اقتصادی خوشحالی اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔

محولہ بالا معاشی منظرنامہ کی حرکیات خوش آیند ہیں مگر حکومت پیش آنے والے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ، مالیاتی سکینڈلز، حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے اور بینکوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کے واقعات کے پیچھے چھپے حقائق کو طشت از بام کرے تاکہ معاشی استحکام کی جستجو کو کوئی سبوتاژ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

مقبول خبریں