ہاکی پلیئرز سینٹرل کنٹریکٹ کے معاوضوں سے محروم

6 ماہ کی تنخواہیں ملیں نہ معاہدے کی تجدید کی گئی، حکومت فیڈریشن کی فوری مالی مدد کرے، کھلاڑیوں کا مطالبہ

6 ماہ کی تنخواہیں ملیں نہ معاہدے کی تجدید کی گئی، حکومت فیڈریشن کی فوری مالی مدد کرے، کھلاڑیوں کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
قومی ہاکی کھلاڑی ایک سال سے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاوضوں سے محروم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن نے ماہانہ تنخواہیں مقرر کرکے بہترین اقدام اٹھایا مگر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک واجبات کی وصولی کے منتظر ہیں، حکومت ہنگامی بنیادوں پر رقم جاری کرے تاکہ پلیئرز اور کھیل کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔ پی ایچ ایف نے دو سال قبل کرکٹ بورڈ کی طرز پر کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے گذشتہ برس جون سے دسمبر تک کی ادائیگیاں ہوئیں نہ ہی معاہدے کی تجدید کی گئی، ہاکی پلیئرز کو کرکٹرز کی بانسبت معاوضہ بھی انتہائی کم ملتا ہے، اے کیٹیگری کے کھلاڑی کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار، بی کی 40 اور سی کیٹیگری کی 30 ہزار مقرر ہے۔

کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ فیڈریشن نے تو پلیئرز کے معاشی مستقبل کی بہتری کیلیے کنٹریکٹ دیا تھا مگر فنڈز کی کمی آڑے آرہی ہے، حکومت کوچاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے اقدامات اٹھائے، بدقسمتی سے فیڈریشن کے پاس پی سی بی کی طرح اسپانسرشپ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے اضافی آمدنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی کھیل کا بھی خیال رکھے۔


انھوں نے کہا کہ پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کی خدمات کرکٹرز سے کم نہیں، ہم دسمبر 2012 میں ایشین چیمپئن بنے، اسی دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت کو اس کی سرزمین پر زیر کرنے میں کامیاب ہوئی، وزیر اعظم اور صدر کی جانب سے کرکٹرز کیلیے بونس کا اعلان کیا گیا لیکن بدقستمی سے ہمیں نظر انداز کر دیا گیا۔



انھوں نے کہا کہ قومی کھیل زندہ رکھنے کیلیے کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ دینے کی ضرورت ہے، ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ ہاکی نے پاکستان کو 4 بار عالمی چیمپئن بنوایا اور 3 بار اولمپک گولڈ میڈل جتوایا،اب قومی کھیل کے ساتھ اپنایا جانے والا دہرا معیار ختم ہونا چاہیے، ہمیں بھی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب حکومت قومی کھیل کو ماضی کی شاندار ڈگر پر لانے کیلیے خصوصی اقدامات کرے گی۔

سابق کپتان محمد وسیم نے کہا کہ ہاکی کے کئی ٹاپ لیول کھلاڑی بھی مستقل ملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ نوجوان اس کھیل کی جانب نہیں آرہے کیونکہ انھیں اپنا مستقبل محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ انھوں نے کہا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ میرے پاس مستقل ملازمت ہے، دیگر پلیئرز میں سے زیادہ تر کنٹریکٹ پر یا بے روزگار ہیں۔ گول کیپر عمران بٹ نے کہا کہ ایشین چیمپئن بننے پر اعلان کردہ انعامی رقم کا ابھی تک انتظار ہے، چند کھلاڑیوں کو تو قسطوں میں پیسے مل رہے ہیں لیکن کئی ایک پائی بھی حاصل نہیں کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم ناکام ہوتے ہیں تو تنقید کرنے والے میدان میں کود پڑتے ہیں مگر فتح پر حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں، یہ رویہ کھلاڑیوں کو مایوسی کی جانب لے جارہا ہے۔
Load Next Story