بجلی بحران چاروں چیف سیکریٹریز اور سی ای او کے ای ایس سی ریکارڈ سمیت طلب
آئی پی پیز کو ادائیگی کے باوجود بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیوں نہیں ہورہا، چیف جسٹس
ہماری بدقسمتی ہے کہ گیس کوجلایا جاتا ہے جبکہ پٹرول سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، چیف جسٹس۔ فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے لوڈ شیڈنگ کیس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز ، سیکریٹری خزانہ اور کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے توانائی بحران سےمتعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت سوئی ناردرن گیس کے ایم ڈی نے عدالت کوبتایا کہ پنجاب میں 10 فیصد گیس چوری ہورہی ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سی این جی اسٹیشن اور فیکٹریوں میں بھی گیس چوری ہوتی ہے، گیس حکام گیس کی چوری روک سکتے ہیں لیکن روکنا نہیں چاہتے، بدانتظامی کے باعث امیر امیرتراور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ چوری کی جانے والی گیس سے 4 سے 5 بجلی گھر چل سکتے ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ آئی پی پیز کو ادائیگی کے باوجود بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیوں نہیں ہورہا، ہماری بدقسمتی ہے کہ گیس کوجلایا جاتا ہے جبکہ پٹرول سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، اگر گیس کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے تو سستی ہوگی، انتظامی معاملات درست کرلئے جائیں تو ملک میں بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔ کے ای ایس سی اپنے صارفین کی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کررہی ہے جو قابل ستائش ہے۔
عدالت نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور سیکریٹری خزانہ سے آئی پی پیز کو ادائیگیوں اور بجلی پیداوار کے ساتھ ساتھ گیس کی پیداوار اور طلب کے حوالے سے اعداد و شمار کا ریکارڈ جبکہ کے ای ایس سی کے سی ای او کو بجلی کی طلب اور پیداواری گنجائش سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے توانائی بحران سےمتعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت سوئی ناردرن گیس کے ایم ڈی نے عدالت کوبتایا کہ پنجاب میں 10 فیصد گیس چوری ہورہی ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سی این جی اسٹیشن اور فیکٹریوں میں بھی گیس چوری ہوتی ہے، گیس حکام گیس کی چوری روک سکتے ہیں لیکن روکنا نہیں چاہتے، بدانتظامی کے باعث امیر امیرتراور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ چوری کی جانے والی گیس سے 4 سے 5 بجلی گھر چل سکتے ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ آئی پی پیز کو ادائیگی کے باوجود بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیوں نہیں ہورہا، ہماری بدقسمتی ہے کہ گیس کوجلایا جاتا ہے جبکہ پٹرول سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، اگر گیس کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے تو سستی ہوگی، انتظامی معاملات درست کرلئے جائیں تو ملک میں بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔ کے ای ایس سی اپنے صارفین کی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کررہی ہے جو قابل ستائش ہے۔
عدالت نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور سیکریٹری خزانہ سے آئی پی پیز کو ادائیگیوں اور بجلی پیداوار کے ساتھ ساتھ گیس کی پیداوار اور طلب کے حوالے سے اعداد و شمار کا ریکارڈ جبکہ کے ای ایس سی کے سی ای او کو بجلی کی طلب اور پیداواری گنجائش سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔