انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیے کی ضرورت

بچوں کو ایسا نصاب پڑھایا جائے جس سے انھیں دیگر مذاہب وعقائد کا نہ صرف علم ہو بلکہ ان میں برداشت کا حوصلہ بھی پیدا ہو

بچوں کو ایسا نصاب پڑھایا جائے جس سے انھیں دیگر مذاہب وعقائد کا نہ صرف علم ہو بلکہ ان میں برداشت کا حوصلہ بھی پیدا ہو (فوٹو: فائل)

لاہور:
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کیا۔ ان کا خطاب اپنی ہمہ گیری اور اسٹرٹیجک حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ملک میں امن بہت بھاری قیمت چکا کر حاصل کیا گیا ہے، ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی بحالی کے لیے بہت بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اور اپنے خون سے قیمت چکائی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے جنگوں کی نوعیت اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے، سائنس، ٹیکنالوجی میں جدید ترقی سے خود کو باخبر رکھنا ضروری ہے، ہم ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے خطرات کا شکار ہیں جس سے نمٹنے کے لیے ہمیں روایتی سوچ کو بدلنا ہو گا اور نیا طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا، دشمن کی نئی چالوں کو سمجھ کر ان کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا، میڈیا، فکری محاذ اور سائبر اسپیس میں بھی کسی سرجیکل اسٹرائیک کا جواب دینے کے لیے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

ہم خود پر مسلط غیر علانیہ جنگ کے سبوتاژ مرحلے یا دہشت گردی سے ابھی باہر نہیں نکلے، پہلے کی طرح نئے خطرات کے مرکزی کردار ہمارے اپنے لوگ ہیں، یہ لوگ نفرت، خواہشات، زبان، مذہب یا سوشل میڈیا کے حملوں سے گمراہ ہو گئے ہیں، ہمارے بعض اپنے نوجوان لڑکے، لڑکیاں ایسے خطرناک اور جارحانہ بیانیوں کا شکار بن جاتے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں زیادہ بہتر بیانیہ پیش کرنا ہو گا، دانشورانہ مہارت اور منطق کے ذریعے ان خطرات سے نمٹنا ہو گا، یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم میں صبر سے تنقید کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہو۔

سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے زوال کے بعد عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی آنا فطرت کی بات تھی' امریکا' نیٹو اور اس کے اتحادی ممالک سوویت یونین کے انہدام اور کمیونزم کی پسپائی پر مطمئن تھے اور انھوں نے سرد جنگ کی باقیات کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس وقفے کا فائدہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دہشتگرد گروپوں نے اٹھایا۔ اسی دوران نائن الیون کا واقعہ ہو گیا' اس واقعے نے عالمی صف بندیوں کی ری ایڈجسٹمنٹ کر دی' امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا' امریکا نے القاعدہ پر نائن الیون سانحے کا الزام عائد کر کے افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ نے کئی ملکوں کو برباد کر دیا ہے۔


عراق' افغانستان' شام' یمن' صومالیہ اور سوڈان کی تباہی سب کے سامنے ہے' اس عالمی منظرنامے کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کے اثرات پاکستان پر پڑنا لازمی امر تھا' پاکستان پر برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتوں نے بھی افغانستان کے مسئلے اور ملک کے اندر پروان چڑھنے والی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے دانشمندانہ حکمت عملی اختیار نہیں کی' اس کمزوری یا کم فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے اندر مختلف قسم کے انتہا پسند گروہ طاقتور ہونا شروع ہو گئے' حتیٰ کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہونے لگے' افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں سے بھی لوگ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں گھس آئے اور یہاں مقامی لوگوں میں گھل مل گئے۔

مختلف حکومتوں نے اس مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی بلکہ بعض سیاسی جماعتیں ایسے غیر ریاستی گروہوں کی حمایت کرنے لگیں۔پاکستان میں برسرعمل مختلف قسم کے گروہوں کو پاکستان مخالف قوتوں نے بھی مدد فراہم کی اور وہ یہ مدد اب بھی فراہم کر رہی ہیں' شاید پاک فوج کے سربراہ نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خود پر مسلط غیر اعلانیہ جنگ کے سبوتاژ مرحلے یا دہشتگردی سے ابھی باہر نہیں نکلے' انھوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے کی طرح نئے خطرات کے مرکزی کردار ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ یا گروہ موجود ہیں جو اپنے ہی ملک کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ پاک فوج دہشتگردی کے خلاف بڑی جرات مندی سے جنگ کر رہی ہے' فاٹا کو دہشتگردوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے' پاکستان اب بحالی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے' یہ مرحلہ بہت زیادہ توجہ کا متقاضی ہے۔

اس مرحلے میں سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ کثیرالجہتی حکمت عملی پر عمل کیا جائے' اس مقصد کے حصول کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم دو طرح کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے' شارٹ ٹرم حکمت عملی کے تحت اندرون ملک موجود خطرناک گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا' ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرنا شامل ہے' گو شارٹ ٹرم حکمت عملی اب بھی جاری ہے اور دہشتگردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردوں کا خوف اب ختم ہو گیا ہے اور ان کے کوئی مضبوط اور مستقل ٹھکانے ملک میں موجود نہیں ہیں۔ اب لانگ ٹرم حکمت عملی پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

اس حکمت عملی کے تحت ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جس کے نتیجے میں ملک کے اندر صوبائی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو 'مختلف لسانی اور نسلی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو جب کہ انتہا پسند نظریات اور فکر کے خاتمے کے لیے متبادل بیانیے کو پروموٹ کیا جائے' حکومت کو ملک میں جاری تعلیمی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے' اس کے تحت ملک میں اسکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کی کڑی اسکروٹنی ہونی چاہیے۔

بچوں کو ایسا نصاب پڑھایا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں انھیں دوسرے مذاہب اور عقائد کا نہ صرف ضروری علم بھی ہو اور ان میں دوسروں کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی پیدا ہو۔ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم یکساں ہونا چاہیے۔ اس لانگ ٹرم حکمت عملی پر عملدرآمد کے مثبت نتائج نکلیں گے اور معاشرے میں عدم برداشت اور انتہا پسندی پر مبنی رویے زوال پذیر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ امید ہے کہ ملک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان ایک جدید ریاست کی شکل اختیار کر کے اقوام عالم کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کے قابل ہو جائے گا۔
Load Next Story