مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاریمزید شہادتیں

پاکستانی حکام کو کشمیریوں کے قتل عام کا مسئلہ پوری شدت سے عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے


Editorial December 24, 2018
پاکستانی حکام کو کشمیریوں کے قتل عام کا مسئلہ پوری شدت سے عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے (فوٹو: فائل)

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے علاوہ جنوبی ایشیا میں اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر جنگی صورت حال پیدا کر رکھی ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی چلی آ رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محاصرے اور گھر گھر تلاشی کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں وہاں بھارتی فوجی پاکستان کی سرحدوں پر بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ سے بھی باز نہیں آتے جس کے نتیجے میں کنٹرول لائن میں اس پار رہنے والے بے گناہ اور معصوم مرد و زن اور بچے شہید اور زخمی ہو جاتے ہیں۔ مقبوضہ وادی کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران 6کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

قابض بھارتی انتظامیہ نے ضلع پلوامہ میں موبائل فون' انٹرنیٹ اور ریل سروس بھی معطل کر دی۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بھارتی قابض فوج کے ظلم و بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی رکوائیں' پاکستان معصوم کشمیریوں کی شہادت کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ ادھر بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے راوٹہ سیکٹر میں پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس سے ایک جوان شہید ہو گیا۔

پاک فوج نے بھارتی گولہ باری کا موثر جواب دیا جس کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو بھی نشانہ بنایا جب کہ اسموگ بم گرنے سے جنگل میں آگ بھڑک اٹھی، بھارتی گولہ باری کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو گئے جب کہ تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر قبل از وقت بند کر دیے گئے۔

سرحدوں پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کوئی نئی بات نہیں، گزشتہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور بھارتی فوج سیکڑوں بار سرحدی خلاف ورزی کر چکی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے، جب بھی بھارت کی طرف سے سرحد پر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو پاکستانی حکام روایتی مذمت اور بیان بازی کر کے خاموش ہو جاتے ہیں جس سے بھارت کو اور شہ ملتی ہے اور وہ مزید جارحیت کے پروگرام بنانا شروع کر دیتا ہے جب کہ عالمی طاقتیں بھی بھارت کی اس جارحیت کا کوئی نوٹس نہیں لیتیں جس سے وہ زیادہ دیدہ دلیر ہو گیا ہے۔

پاکستانی حکام کو سرحدوں پر بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کا مسئلہ پوری شدت سے عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے تاکہ بھارت پر دباؤ پڑے اور وہ اپنی جارحیت سے باز رہے۔

اس صورت حال کووسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں عالمی محاذ پر ہماری کمزوری کا احساس ہو گا اس کا تدارک کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے تمام سفارتی مشن اس اہم مقصد کے لیے مختص کر دیں کہ وہ ہمارے ازلی دشمن کے معاندانہ پراپیگنڈے کا توڑ کریں اور اقوام عالم کو مقبوضہ وادی میں ہونے والے نہتے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم و تشدد پر متوجہ کریں تو شائد وہ دنیا بھر میں بدنامی کے خوف سے اپنی روش کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے۔

مقبول خبریں