بھارت کا پاکستان اور بنگلا دیش کی سرحد پر خواتین افسران تعینات کرنے کا فیصلہ
پاکستان اور بنگلا دیش کی سرحدوں پر 25 سال یا اس سے کم عمر خواتین افسران کو تعینات کیا جائے گا،بھارتی وزارت دفاع
خواتین اہلکاروں کےلئے ڈپٹی کمانڈنٹس یا کمانڈنٹس کے عہدوں تک ترقی کے دروازے بھی کھلے ہوں گے ،بھارتی وزارت دفاع فوٹو: فائل
بھارت نے پاکستان اور بنگلا دیش سے ملحقہ سرحد پر خواتین افسران کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہےاس سلسلے میں بھرتی کا کام رواں برس کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق رواں سال بارڈر سکیورٹی فورس میں 110 نئے افسر بھرتی کئے جائیں گے،ان نئے افسران میں خواتین اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوگی، وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کی سرحدوں پر 25 سال یا اس سے کم عمر خواتین کو اسسٹنٹ کمانڈنٹس کے عہدوں پر فائض کیا جائے گا، خواتین اہلکاروں کےلئے ڈپٹی کمانڈنٹس یا کمانڈنٹس کے عہدوں تک ترقی کے دروازے بھی کھلے ہوں گے۔
بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ خواتین کی بارڈر سیکیورٹی فورس میں افسر کے حیثیت سے بھرتی اور اہم محاذوں پر ان کو تعینات کرنے کے اس اقدام کے ذریعے یہ پیغام عام ہوگا کہ خواتین کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں بارڈرسیکیورٹی فورس نے 2009 میں خواتین اہلکاروں کی بھرتی شروع کر دی تھی تاہم افسران کی حیثیت سے بھرتیوں کا فیصلہ اب کیا گیا ہے۔
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق رواں سال بارڈر سکیورٹی فورس میں 110 نئے افسر بھرتی کئے جائیں گے،ان نئے افسران میں خواتین اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوگی، وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کی سرحدوں پر 25 سال یا اس سے کم عمر خواتین کو اسسٹنٹ کمانڈنٹس کے عہدوں پر فائض کیا جائے گا، خواتین اہلکاروں کےلئے ڈپٹی کمانڈنٹس یا کمانڈنٹس کے عہدوں تک ترقی کے دروازے بھی کھلے ہوں گے۔
بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ خواتین کی بارڈر سیکیورٹی فورس میں افسر کے حیثیت سے بھرتی اور اہم محاذوں پر ان کو تعینات کرنے کے اس اقدام کے ذریعے یہ پیغام عام ہوگا کہ خواتین کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں بارڈرسیکیورٹی فورس نے 2009 میں خواتین اہلکاروں کی بھرتی شروع کر دی تھی تاہم افسران کی حیثیت سے بھرتیوں کا فیصلہ اب کیا گیا ہے۔