شامی فورسز ترکی کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے منبج میں داخل

منبج سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد کردوں نے ترکی کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی فوج سے مدد طلب کی

شام کا علاقہ منبج کرد جنگجوؤں کے قبضے میں ہے۔ فوٹو : فائل

شامی فورسز ترکی کے ممکنہ حملے کے خلاف کرد جنگجوؤں کی مدد کرنے منبج میں داخل ہوگئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی حکومت کے فوجی دستے کرد ملیشیا گروپوں کے زیر تسلط علاقے منبج میں داخل ہو گئے ہیں، شامی دستے کرد ملیشیا کی دعوت پر اس علاقے میں داخل ہوئے جہاں ترکی حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔


بشارالاسد کے فوجی دستوں اور شامی کردوں نے ترکی کے ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے صف بندی کرلی، قبل ازیں امریکی فوج کردوں کی مدد کے لیے موجود تھیں،کرد رہنما نے تمام شامیوں سے ترک حملے کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر شامی حکومت نے کرد باغیوں کی مدد کی اپیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردوں کے واپس اپنے وطن سے جڑنے پر بے حد خوشی ہے، ہم سب کا ایک مشترکہ دشمن ہے اور یہ لڑائی ہمیں مل کر لڑنی ہے۔

دوسری جانب ترکی کا کہنا ہے کہ شام میں کرد باغی دراصل کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ ہیں اور اس جماعت سے ترکی کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہیں، اسی لیے ترک فورسز ان باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
Load Next Story