ہمیں دوسروں پر انحصار کی پالیسی کو ختم کرنا ہوگا عمران خان

آج کے مالی بحران قوم کے لیے بڑا موقع بن سکتا ہے ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا، وزیراعظم

ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے جب کہ عوام طبقات میں تقسیم ہوگئی،وزیراعظم، فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں دوسروں پر انحصار کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا جب کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے مختلف ممالک سے معاہدے کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ میں سفرا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی وقار کی بات کرنے پرلوگ مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان قومی غیرت ختم ہونے کی سوچ سے ہوا جب قوم میں غیرت آجائے تو وہ طاقت ور سے بھی زیادہ کام کرسکتی ہے، آج کے مالی بحران قوم کے لیے بڑا موقع بن سکتا ہے ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا۔


وزیراعظم نے کہا کہ ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے جب کہ عوام طبقات میں تقسیم ہوگئی اوربیرونی قرضے سے اشرافیہ فائدہ اٹھاتی رہی اور غریب قرض ادا کرتا رہا جب کہ ماضی میں ملک کی اشرافیہ نے پیسے لینے کے لیے خود کو لبرل بنا کر قوم کو تقسیم کردیا تھا،مانتا ہوں ملک میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی ہے لیکن یہ تو پوری دنیا میں ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وزارت خارجہ سب سے پہلے اپنی سوچ تبدیل کرے اور ہم سفیروں سے وہ کام چاہتے ہیں جو آج تک نہیں ہوا، سمندر پار پاکستانی ہمارا سب سے بڑااثاثہ ہیں ،تمام ممالک میں موجود پاکستانی کاروباری حضرات کی فہرست تیار کریں اور ان افراد سے مسلسل روابط قائم کریں ، یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔

وزیراعظم ن نے سفیروں کو ہدایت کی کہ بیرون ممالک موجود ہمارے محنت کش انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ان کی خصوصی مدد کریں اور سہولیات مہیا کریں ،ان کا خاص خیال رکھیں، ہم حکومتی سطح پر مختلف ممالک سے منی لانڈرنگ روکنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے معاہدے کررہے ہیں آپ لوگ بھی غیر قانونی راستے سے پیسے کی ترسیل کو روکنے میں کردار ادا کریں۔
Load Next Story