نئے صدر کا انتخاب جمہوری تسلسل کی جیت
پاکستانی عوام کے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ جمہوری عمل تسلسل سے جاری ہے اور بتدریج وہ بااختیار ہوتے جا رہے ہیں۔
پاکستانی عوام کے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ جمہوری عمل تسلسل سے جاری ہے اور بتدریج وہ بااختیار ہوتے جا رہے ہیں. فوٹو : فائل
پاکستانی عوام کے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ جمہوری عمل تسلسل سے جاری ہے اور بتدریج وہ بااختیار ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک جمہوری حکومت نے اپنی مدت آئینی طور پرمکمل کی پر امن الیکشن کا انعقاد کروایا اور عوام نے اس عمل میں بھرپور شمولیت اختیارکرتے ہوئے اپنا رائے حق دہی استعمال اور اپنے نمایندوں کا چنائوکیا ۔ نئی منتخب حکومت کو پرامن طریقے سے اقتدارکی منتقلی سے جمہوریت کو استحکام حاصل ہوا۔ اور ابھی اسی سلسلے کی آخری کڑی کے طور پر الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا ہے ملک کے نئے صدر کا انتخاب 6اگست کوقومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کریں گے، چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے صدارتی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کی منظوری دی جس کے بعد سیکریٹری الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا ہے، صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 24جولائی کوجمع کرائے جائیں گے۔
26 جولائی کوکاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی،کوئی بھی امیدوار 29جولائی کوکاغذات نامزدگی واپس لے سکے گا جب کہ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ6 اگست کو ہوگی اور سرکاری نتائج کا اعلان 7اگست کوکیا جائے گا۔ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی مرتضٰی جاویدعباسی نے کہاہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کااجلاس 5اگست کوبلائے جانے کاامکان ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار صدر اپنی آئینی مدت پوری کررہا ہے۔ صدرآصف زرداری کے عہدے کی مدت 9ستمبرکوختم ہورہی ہے۔آئینی طریقہ کارکے مطابق صدرکے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج سینٹ، قومی اسمبلی اور چاروںصوبائی اسمبلیاں ہیں اور ان ایوانوں کو ہی پولنگ اسٹیشن قراردیا جائے گا اور ارکان اپناحق رائے دہی استعمال کریں گے۔
لیکن منگل کو قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج مکمل نہیں، قومی اورصوبائی اسمبلیوں کی 42 نشستیںخالی ہیں، صدارتی الیکشن سے قبل الیکٹورل کالج کو مکمل کرنا ہو گا۔ اس کے جواب میں ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے الیکٹورل کالج مکمل ہے اور الیکشن ملتوی کرانے کے لیے خالی نشستوں کو جواز بنانا غلط ہے۔یہ توخیر تکنیکی بات ہے ۔ دراصل صدارتی انتخاب کے مرحلے تک پہنچانا بھی جمہوریت کی ایک فتح ہے ۔ اسے صرف قوم کی بدنصیبی ہی سمجھیں کہ اس جمہوریہ پر چار آمر طویل عرصے تک مسلط رہے اور ہماری قومی تاریخ کے نصف سے زائد سال فوجی آمریتوں کی بھینٹ چڑھ گئے اور قومی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب جمہوریت نہ ہونے کے باعث پورا نہ ہوسکا ۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ بیوروکریسی کے نمایندہ صدر نے منتخب اسمبلیاں توڑنے کا ریکارڈ ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پرکیا۔
صدر کا عہدہ وفاق کی یکجہتی اور اتحاد کی علامت ہے کیونکہ صدر ملک میں جمہوریت کا پاسبان اور پاسدار ہوتا ہے ۔ اب یہ منتخب نمایندوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی دانش کا امتحان ہے کہ وہ ایسے عہدے کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کرتے ہیں جو ملک وقوم کی بہتری ،فلاح ، محبت وبھائی چارے کے فروغ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کلیدی کردار بحسن وخوبی ادا کرے تاکہ جمہور بھی خوش ہو، اور جمہوری اداروں کو دوام حاصل ہو اورشاہراہ جمہوریت پر چلتے ہوئے ہم ترقی اورخوشحالی اور اقوام عالم میں باعزت مقام بناسکیں ۔
26 جولائی کوکاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی،کوئی بھی امیدوار 29جولائی کوکاغذات نامزدگی واپس لے سکے گا جب کہ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ6 اگست کو ہوگی اور سرکاری نتائج کا اعلان 7اگست کوکیا جائے گا۔ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی مرتضٰی جاویدعباسی نے کہاہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کااجلاس 5اگست کوبلائے جانے کاامکان ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار صدر اپنی آئینی مدت پوری کررہا ہے۔ صدرآصف زرداری کے عہدے کی مدت 9ستمبرکوختم ہورہی ہے۔آئینی طریقہ کارکے مطابق صدرکے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج سینٹ، قومی اسمبلی اور چاروںصوبائی اسمبلیاں ہیں اور ان ایوانوں کو ہی پولنگ اسٹیشن قراردیا جائے گا اور ارکان اپناحق رائے دہی استعمال کریں گے۔
لیکن منگل کو قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج مکمل نہیں، قومی اورصوبائی اسمبلیوں کی 42 نشستیںخالی ہیں، صدارتی الیکشن سے قبل الیکٹورل کالج کو مکمل کرنا ہو گا۔ اس کے جواب میں ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے الیکٹورل کالج مکمل ہے اور الیکشن ملتوی کرانے کے لیے خالی نشستوں کو جواز بنانا غلط ہے۔یہ توخیر تکنیکی بات ہے ۔ دراصل صدارتی انتخاب کے مرحلے تک پہنچانا بھی جمہوریت کی ایک فتح ہے ۔ اسے صرف قوم کی بدنصیبی ہی سمجھیں کہ اس جمہوریہ پر چار آمر طویل عرصے تک مسلط رہے اور ہماری قومی تاریخ کے نصف سے زائد سال فوجی آمریتوں کی بھینٹ چڑھ گئے اور قومی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب جمہوریت نہ ہونے کے باعث پورا نہ ہوسکا ۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ بیوروکریسی کے نمایندہ صدر نے منتخب اسمبلیاں توڑنے کا ریکارڈ ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پرکیا۔
صدر کا عہدہ وفاق کی یکجہتی اور اتحاد کی علامت ہے کیونکہ صدر ملک میں جمہوریت کا پاسبان اور پاسدار ہوتا ہے ۔ اب یہ منتخب نمایندوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی دانش کا امتحان ہے کہ وہ ایسے عہدے کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کرتے ہیں جو ملک وقوم کی بہتری ،فلاح ، محبت وبھائی چارے کے فروغ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کلیدی کردار بحسن وخوبی ادا کرے تاکہ جمہور بھی خوش ہو، اور جمہوری اداروں کو دوام حاصل ہو اورشاہراہ جمہوریت پر چلتے ہوئے ہم ترقی اورخوشحالی اور اقوام عالم میں باعزت مقام بناسکیں ۔