پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی افسرکے بیان کی تحقیقات کررہے ہیں دفترخارجہ
کوشش کر رہے ہیں کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکی حکومت کو ہمارا مؤقف سمجھ میں آجائے، ترجمان دفترخارجہ
الطاف حسین کا معاملہ وزارت داخلہ سے تعلق رکھتا ہےلہذا اس معاملے پر وزارت داخلہ ہی بہتر جواب دے سکتی ہے، ترجمان دفترخارجہ۔ فوٹو : فائل
KHAIRPUR:
ترجمان دفترخارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت کے انکار کے باوجود پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارتی افسر ورما کے بیان کی تحقیقات کررہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے افسر ستیش ورما کے پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے بیان پر پاکستانی ہائی کمشنر بھارتی حکومت سے رابطے میں ہیں، ابتدائی طور پر بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ستیش ورما نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، لیکن بھارتی حکومت کی وضاحت کے باوجود اس بیان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سے مذاکرات چاہتے ہیں، اس حوالے سے بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری ہے جس میں پاکستان کی جانب سے شہریار خان کو سفیر مقرر کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں، ڈرون حملوں کے حوالے سے ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستانی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کو بھی ہمارا مؤقف سمجھ میں آجائے۔
اعزازچوہدری نے کہا کہ پاکستان قطرمیں افغان طالبان اورامریکا کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے تاہم اس میں تمام ا سٹیک ہولڈرزکو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے دورہ کابل کے موقع پر تمام مسائل پر بات ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا معاملہ وزارت داخلہ سے تعلق رکھتا ہےلہذا اس معاملے پر وزارت داخلہ ہی بہتر جواب دے سکتی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت کے انکار کے باوجود پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارتی افسر ورما کے بیان کی تحقیقات کررہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے افسر ستیش ورما کے پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے بیان پر پاکستانی ہائی کمشنر بھارتی حکومت سے رابطے میں ہیں، ابتدائی طور پر بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ستیش ورما نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، لیکن بھارتی حکومت کی وضاحت کے باوجود اس بیان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سے مذاکرات چاہتے ہیں، اس حوالے سے بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری ہے جس میں پاکستان کی جانب سے شہریار خان کو سفیر مقرر کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں، ڈرون حملوں کے حوالے سے ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستانی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کو بھی ہمارا مؤقف سمجھ میں آجائے۔
اعزازچوہدری نے کہا کہ پاکستان قطرمیں افغان طالبان اورامریکا کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے تاہم اس میں تمام ا سٹیک ہولڈرزکو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے دورہ کابل کے موقع پر تمام مسائل پر بات ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا معاملہ وزارت داخلہ سے تعلق رکھتا ہےلہذا اس معاملے پر وزارت داخلہ ہی بہتر جواب دے سکتی ہے۔