معاشی اصلاحات کا پیکیج

ہمیں ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو۔

ہمیں ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے منی بجٹ میں بینک ٹرانزیکشنز پر فائلرز کے لیے 0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اور سستے گھر بنانے کے لیے قرض حسنہ فراہم کرنے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز دی ہیں، نان فائلرز زیادہ ٹیکس دیکر 1300 سی سی تک گاڑی خرید سکیں گے۔

سستے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی، چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کر کے 5ہزار کرنے کی تجویز ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے وضاحت کی کہ یہ منی بجٹ نہیں معاشی اصلاحات کا پیکیج ہے، پچھلی حکومت نے معیشت تباہ کر دی، اگلے ہفتے میڈیم ٹرم اکنامک فریم ورک پیش کریں گے، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے بغیر روزگار کے مواقعے پیدا نہیں ہوسکتے، ایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کا ٹیکس39فیصد سے کم کر کے20 فیصد کررہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری اداروں پر ٹیکس آدھا کیا جارہا ہے۔

فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کا وعدہ ہے پچاس لاکھ گھر بنانے کی کوشش کریں گے، اس کے لیے بینک چھوٹے گھروں کے لیے جو قرض دیں گے اس پر ٹیکس 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں، 5 ارب روپے کی قرضِ حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں، نان فائلر پر1300 سی سی تک گاڑیاں خریدنے کی بندش ختم کررہے ہیں، نان فائلر چھوٹی اور درمیانے سائز کی گاڑی لے سکتا ہے، چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے 5 ہزار کردیا گیا ہے۔ حقیقی جمہوریت کے لیے آزاد صحافت چاہیے۔

اس لیے نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔ بلاشبہ منی بجٹ پر عوامی ، تجارتی اور کاروباری حلقوں کی طرف سے ملاجلا رد عمل سامنے آیا ، بجٹ پر ماہرین معاشیات کا تبصرہ بھی محتاط تھا،ان کے نزدیک یہ ملکی معیشت ، اس کے صنعتی شعبوں اور بعض مالیاتی فیصلوں سے پیدا ہونے والے مغالطوں کی اصلاح کی کوشش ہے تاکہ آیندہ بجٹ زیادہ شفاف اور عوامی امنگوں کے مطابق ہو، مگرمتحدہ اپوزیشن نے اسے یکسر مسترد کردیا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شور شرابا ہوا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی دی گئیں اور بجٹ تجاویز کی حمایت کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

سابق وزیر خزانہ و رہنما مسلم لیگ ن اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک اب تجربوں کی بنیاد پر نہیں چل سکتا، نئی حکومت پاکستان کو50ارب ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں، پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں نے اسے ایک نیا بم قراردیا جو عوام پر منی بجٹ کی تشویش کے تناظر میں گرادیا گیا۔

اسد عمر نے کہا کہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں ہی بننے چاہئیں، اس لیے دوسرے ضمنی بجٹ میں قابل تجدید توانائی مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام پر 5 سال کے لیے ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ یکم جولائی سے بینکنگ آمدن پر سپر ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، کارپوریٹ اِنکم ٹیکس پر ایک فیصد سالانہ کمی برقرار رہے گی۔ کاروباری اکاؤنٹس پر 6فیصد ٹیکس رجیم کو ختم کر رہے ہیں، اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری لانے پر توجہ ہے، زرعی قرضوں پر بھی ٹیکس 39فیصد سے کم کر کے 20فیصد پر لے کر آرہے ہیں۔


تمام نان بینکنگ کمپنیز کا سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج ممبران پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور سیونگز پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویزہے۔وفاقی حکومت نے دوسرے منی بجٹ میں بیرون ممالک آف شور اثاثہ جات و جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں کے سامنے آنے والے اثاثہ جات پر فوری25 سے 30 فیصد ٹیکس وصولی کے لیے عبوری اسیسمنٹ آرڈرز جاری کرنے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے بجٹ تجاویز کی منظوری دی۔ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ میں موجود تھے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اختر مینگل اور مولانا اسعد محمود اہم اجلاس میں غیر حاضر رہے ۔تاہم تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ترمیمی فنانس بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری و برآمدات میں اضافے کے لیے معاون قرار دیا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر دفتر کراچی میں وزیر خزانہ کی تقریر کو لائیو سنا گیا اس موقعے پر ایف پی سی سی آئی کے صدر داروخان، سینئر نائب صدر اختیار بیگ، سابق سینئر نائب صدر مظہر علی ناصر اور دیگر موجود تھے۔

بجٹ تقریر سننے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاق ایونہائے تجارت و صنعت (ایف پی سی سی آئی) کے صدر انجینئر داروخان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ترمیمی فنانس بل کے اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے، یہ منی بجٹ نہیں بلکہ صنعت وبرآمدات کے لیے معاون پیکیج ہے، ایف پی سی سی آئی کے سینئر رہنما مظہر علی ناصر نے کہا کہ ہم امپورٹ روکنے اور ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے حکومتی سطح پر کیے گئے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں، فائرفائٹنگ آلات پر ٹیکس چھوٹ اچھا فیصلہ ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز،امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر وحید احمد نے زرعی شعبے کے لیے آمدن پر ٹیکس میں کمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے قلیل مدت کے بجائے طویل مدتی اقدامات کرنا ہونگے، زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، ادھر ضمنی مالیاتی بل 2019ء اپوزیشن کے احتجاج اور شور شرابے میں سینیٹ میں بھی پیش کر دیا گیا، اپوزیشن نے اس پر واک آؤٹ کیا، منی بجٹ وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر نے سینیٹ میں پیش کیا تھا۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔ قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ بل قانون کے مطابق ہے پیش کرنے سے نہ روکا جائے۔چیئرمین نے بھی رولنگ دی کہ بل کو قانون کے مطابق پیش کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ چیئرمین نے منی بجٹ پر اراکین سے آیندہ جمعے تک سفارشات طلب کرلیں۔ سینیٹ سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوائی جائیں گی۔

اب جب کہ منی بجٹ پیش ہوچکا اور اس کے مالیاتی پہلوؤں کے حوالے سے وزیرخزانہ کی جانب سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ یہ معاشی اصلاحات کی حامل ایک سنجیدہ کوشش تھی، منی بنٹ نہ تھا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں ملکی معیشت کی صورتحال پر کسی ایڈونچرازم سے گریز کریں، اگر اپوزیشن حکومت کو کام کرنے کے لیے نیک نیتی سے فری ہینڈ دینے کے دعوے پر قائم ہے تو حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ معاشی امور پر پوائنٹ اسکورنگ س نہ کرے، مفاہمانہ اقتصادی مشاورت ہونی چاہیے، تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔

ملک بلاشبہ قرضوں کی بیساکھیوں پر نہیں چل سکتا، موجودہ حکومت کو دلیرانہ، مشکل فیصلوں اور ٹھوس اقتصادی روڈ میپ کے ذریعے ترقی واستحکام کی شاہراہ پر گامزن ہونا پڑیگا اور اس کام کے لیے اب تک ہونے والے اقتصادی ،مالیاتی اور سماجی اقدامات اور فیصلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کن معاشی بریک تھرو کی کوششیں جاری رکھنا ہونگی۔ یہ منزل ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے نہیں مل سکے گی۔
Load Next Story