صرف بجلی پیدا نہیں کرنی اسے تقسیم بھی کرنا ہے ڈاکٹر مصدق
اس ماہ کے آخر تک تمام فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ جائیں گے: پروگرام کل تک میں گفتگو
اس ماہ کے آخر تک تمام فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ جائیں گے: پروگرام کل تک میں گفتگو فوٹو : فائل
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بجلی کے مسئلے کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ہم نے صرف بجلی پیدا نہیں کرنی، اس کو ڈسٹری بیوٹ بھی کرنا ہے۔ انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے قرضہ لیا جائیگا، اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹرکی بھی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ منگل کو ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ اگر بجلی چوری نہ روکی گئی تو اگلے سال تک سرکلر ڈیٹ 500 ارب سے زائد ہوجائیگا۔ زیرولائن لاسز بھی ہوں تو سرکلر ڈیٹ ختم نہیں ہوگا۔150 ارب سالانہ بجلی چور کھا جاتے ہیں،ہم نے ہر حال میں بجلی چوروں کو پکڑنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ90 فی صد فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ چکے ہیں، اس ماہ کے آخر تک تمام فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ جائیں گے، ان فیڈرز کے ذمے دار ایس ڈی اوزاور ایکسئین ہوں گے اورجتنی بجلی جائے گی اتنی ادائیگی کے وہ خود ذمے دار ہوں گے۔
بڑی بڑی فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملز کے لوگ بجلی چوری میں ملوث ہیں ،متعدد ڈسکوز کے ہیڈز کو ہٹایا جارہاہے۔انھوں نے کہا کہ 125 ارب روپے سرکاری اداروں نے دینے تھے ہم نے تمام صوبوں کو خط لکھا ہے کہ ادائیگی کو ہرحال میں یقینی بنایا جائے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والہ نے کہا کہ حکومت نے ادھار لے کر سرکلر ڈیٹ ادا کیا ہے، یہ ہماری حکومت بھی کرسکتی تھی لیکن ہم نے اس ادھار کو لینے سے اجتناب کیا ۔حکومت نے جو بھی کیا ہے یہ مسائل کا حل نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی لانگ ٹرم حل ہے۔ یہ وقتی طورپر کیے گئے اقدامات ہیں، اگلے سال سرکلر ڈیٹ اور بھی زیادہ ہوجائیگا کیونکہ بجلی کی پیداوار زیادہ ہوجائیگی۔
سیلزٹیکس لگانا بجلی کا ٹیرف بڑھانا آسان کام تھے جو ہماری حکومت بھی کرسکتی تھی لیکن ہم چاہتے تھے کہ پہلے انرجی کا انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے پر توجہ دی جائے۔سرکلر ڈیٹ کی ابتدا ڈسکوز سے ہوتی ہے ہماری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہی سرکلرڈیٹ کی ذمے دار ہیں۔سسٹم کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا حکومت اس کے لیے اقدامات کررہی ہے جہاں بھی پرابلم ہے اس کو ٹھیک کرنا چاہئے اگر موجودہ حکومت بجلی کے بحران کو حل کرلے تو میں اس کو سلام کرونگا کیونکہ یہ ایک اہم قومی ایشو ہے جس کا حل ہونا ہمارے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا سرکلر ڈیٹ پہلی مرتبہ نہیں پہلے بھی3 مرتبہ اداکیا گیا ہے حکومت کا کمال یہ ہے کہ اس میں کمال کچھ نہیں ہے۔۔پاکستان میں بجلی کے نرخ بڑھانے سے بجلی چوری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔بجلی چوری روکنے کے لیے اوپر سے نیچے تک سسٹم کو ٹھیک کرنا پڑیگا۔ایک ادارہ بننا چاہیے جو ایگزیکٹوز کے کنٹرول میں نہ ہو۔پاکستان کے ہرصوبے میں بڑے بڑے بجلی چور موجود ہیں ان کو پکڑنا بہت ضروری ہے ۔
ہم نے صرف بجلی پیدا نہیں کرنی، اس کو ڈسٹری بیوٹ بھی کرنا ہے۔ انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے قرضہ لیا جائیگا، اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹرکی بھی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ منگل کو ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ اگر بجلی چوری نہ روکی گئی تو اگلے سال تک سرکلر ڈیٹ 500 ارب سے زائد ہوجائیگا۔ زیرولائن لاسز بھی ہوں تو سرکلر ڈیٹ ختم نہیں ہوگا۔150 ارب سالانہ بجلی چور کھا جاتے ہیں،ہم نے ہر حال میں بجلی چوروں کو پکڑنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ90 فی صد فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ چکے ہیں، اس ماہ کے آخر تک تمام فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز لگ جائیں گے، ان فیڈرز کے ذمے دار ایس ڈی اوزاور ایکسئین ہوں گے اورجتنی بجلی جائے گی اتنی ادائیگی کے وہ خود ذمے دار ہوں گے۔
بڑی بڑی فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملز کے لوگ بجلی چوری میں ملوث ہیں ،متعدد ڈسکوز کے ہیڈز کو ہٹایا جارہاہے۔انھوں نے کہا کہ 125 ارب روپے سرکاری اداروں نے دینے تھے ہم نے تمام صوبوں کو خط لکھا ہے کہ ادائیگی کو ہرحال میں یقینی بنایا جائے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والہ نے کہا کہ حکومت نے ادھار لے کر سرکلر ڈیٹ ادا کیا ہے، یہ ہماری حکومت بھی کرسکتی تھی لیکن ہم نے اس ادھار کو لینے سے اجتناب کیا ۔حکومت نے جو بھی کیا ہے یہ مسائل کا حل نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی لانگ ٹرم حل ہے۔ یہ وقتی طورپر کیے گئے اقدامات ہیں، اگلے سال سرکلر ڈیٹ اور بھی زیادہ ہوجائیگا کیونکہ بجلی کی پیداوار زیادہ ہوجائیگی۔
سیلزٹیکس لگانا بجلی کا ٹیرف بڑھانا آسان کام تھے جو ہماری حکومت بھی کرسکتی تھی لیکن ہم چاہتے تھے کہ پہلے انرجی کا انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے پر توجہ دی جائے۔سرکلر ڈیٹ کی ابتدا ڈسکوز سے ہوتی ہے ہماری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہی سرکلرڈیٹ کی ذمے دار ہیں۔سسٹم کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا حکومت اس کے لیے اقدامات کررہی ہے جہاں بھی پرابلم ہے اس کو ٹھیک کرنا چاہئے اگر موجودہ حکومت بجلی کے بحران کو حل کرلے تو میں اس کو سلام کرونگا کیونکہ یہ ایک اہم قومی ایشو ہے جس کا حل ہونا ہمارے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا سرکلر ڈیٹ پہلی مرتبہ نہیں پہلے بھی3 مرتبہ اداکیا گیا ہے حکومت کا کمال یہ ہے کہ اس میں کمال کچھ نہیں ہے۔۔پاکستان میں بجلی کے نرخ بڑھانے سے بجلی چوری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔بجلی چوری روکنے کے لیے اوپر سے نیچے تک سسٹم کو ٹھیک کرنا پڑیگا۔ایک ادارہ بننا چاہیے جو ایگزیکٹوز کے کنٹرول میں نہ ہو۔پاکستان کے ہرصوبے میں بڑے بڑے بجلی چور موجود ہیں ان کو پکڑنا بہت ضروری ہے ۔