فلسطین و مشرق وسطیٰ کے بعد اسرائیل کا نیا ہدف افریقا

صابر ابو مریم  پير 11 فروری 2019
افریقی ممالک کو عرب دنیا کے حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

افریقی ممالک کو عرب دنیا کے حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ عرب دنیا یا (اس طرح کہا جائے کہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے) براعظم ایشیا کے ایک ایسے مرکز پر اسرائیل کی جعلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں سے مغرب و یورپ کے ایشیا سے سمندری راستوں سے جوڑا جانا سرمایہ دارانہ نظام کےلیے مفید تھا۔ جی ہاں! نہر سوئز یعنی سوئز کنال۔ 1948 سے، جب سے اسرائیل کی جعلی ریاست سرزمین فلسطین پر قائم ہوئی ہے، اس کے بعد سے گزرنے والے ستر برسوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو اس پورے خطے میں جس قدر بدامنی اور دہشت گردی نے فروغ پایا ہے وہ صرف اور صرف اسرائیل کی ایما پر اور اسرائیل کی اعلانیہ اور پس پشت حمایت کے نتیجے میں ہی سامنے آئی ہے۔ حالیہ دور کی تازہ مثال دیکھنی ہو تو داعش اور النصرۃ جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں کو وجود بخشنے میں امریکا اور اسرائیل کا کردار واضح ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ستر برس میں اسرائیل نے نہ صرف فلسطین میں تباہی و بربادی پھیلائی ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں بد امنی اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی ہمیشہ یہ سازشیں رہی ہیں کہ پورے ایشیا کے وسائل پر اپنا براہ راست یا بالواسطہ تسلط قائم کرے اور حکمرانی کرے۔ اس کام کےلیے ان ستر برسوں میں اسرائیل نے جہاں دہشت گرد گروہوں کی پرورش کرکے خطے کو غیر مستحکم کیا ہے وہیں خطے کی چند عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو بھی سنہرے خواب دکھلا کر رام کر لیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ عرب ممالک اور حکومتیں جو 1948 سے ہی اسرائیل کی جعلی ریاست کے قیام کے مخالف تھے آج کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا رہے ہیں۔ چند ایک ایسے بھی ہیں جو خفیہ طور پر یہ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ شاید ان کے اندر اب بھی عوام کی اس بیداری کا خوف ہے کہ جو کسی بھی وقت ان حکمرانوں کے تاج وتخت کو تاراج کرسکتی ہے۔

ایشیا کے علاقوں میں بدامنی اور دہشت کا راج پھیلانے کے بعد اب اسرائیل کی نظریں افریقا پر بھی جم چکی ہیں۔ افریقا بھی آبادی کے لحاظ سے بڑا براعظم ہے۔

عرب ممالک سے تعلقات کی دوڑ کے بعد اب اسرائیل نے افریقی ممالک کا رخ کیا ہے۔ اس کے بارے میں سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ امریکا نے جو گزشتہ برس فلسطین کے مسئلہ پر ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی منصوبہ پیش کیا ہے جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے پر امریکا نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ القدس پر اسرائیل کا حق ہے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے دوسرے ممالک سے کہا گیا کہ وہ بھی اپنے اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس شہر میں منتقل کرلیں۔ اس معاملے پر زیادہ پیش رفت تو نہ ہوسکی تاہم صدی کی ڈیل کا یہ ایک اہم ترین اعلان و فیصلہ تھا جس کے ساتھ امریکا نے یروشلم شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا یک طرفہ اعلان کردیا جسے دنیا نے مسترد کر دیا۔

اب کہا یہ جارہا ہے کہ اسرائیل کے عرب ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات جہاں امریکی پلان صدی کی ڈیل کا حصہ ہیں، وہیں افریقی ممالک میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور نفوذ بھی اسی امریکی صدی کی ڈیل کا ہی حصہ ہے کہ جسے فلسطینی عوام اور تمام سیاسی و مزاحمتی دھڑوں نے مسترد کردیا ہے اور دو ٹوک مؤقف دیا ہے کہ فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے اور امریکا سمیت کسی کو فلسطین کے مستقبل اور مسائل کے فیصلوں کا حق نہیں۔

بہرحال، اب اسرائیل صدی کی ڈیل کے منصوبوں کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے میں مصروف ہے اور اس کوشش میں ہے کہ ان تعلقات کے نتیجے میں افریقی مسلمان ممالک سے اسرائیل کے حق میں تسلیم کا اعلان کروائے اور ساتھ ساتھ اگلے مرحلے میں افریقی ممالک میں موجود وسائل پر بھی اپنا براہ راست یا پھر بالواسطہ تسلط حاصل کرے۔

یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ جس طرز پر مشرق وسطیٰ میں امریکی و صہیونی حمایت سے دہشت گرد گروہوں نے جنم لیا تھا، ٹھیک اسی طرح افریقی ممالک میں بھی ان گروہوں کی موجودگی ہے جن میں داعش کا افریقی ورژن ’’بوکو حرام‘‘ منظر عام پر آچکا ہے جبکہ مزید نہ جانے کتنے ایسے دہشت گرد گروہ پنپ رہے ہیں کہ جنہیں براہ راست اسرائیل سپروائز کر رہا ہے۔

گزشتہ دنوں اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یکے بعد دیگر افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ ان میں سے ایک افریقی ملک چاڈ تھا، جہاں دو طرفہ تعلقات سازی کےلیے اہم پیش رفت کی گئی۔ یاد رہے کہ چاڈ نے، جو مسلم اکثریت کا حامل ملک ہے، 1972 میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرچکا تھا۔ تاہم اس کے بعد اب ازسرنو تعلقات کی بنیاد رکھی گئی ہے جسے ماہرین سیاسیات نے امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل کی کڑی قرار دیا ہے۔ اس سے قبل چاڈ کے صدر ادریس دیبی نے نومبر 2016 میں مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی تھی اور یہ اس وقت گزشتہ سینتالیس برس کسی چاڈ کے سیاسی حکمران کی پہلی ملاقات تھی۔

دوسری طرف فلسطینی سیاسی و مزاحمتی دھڑوں نے عرب اور افریقی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی قربت کے عنوان سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور گزشتہ دنوں اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیراعظم کے دورہ چاڈ کو افریقی ممالک کےلیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے چاڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فلسطینی حمایت کے مؤقف پر قائم رہے اور اسرائیل جیسی خونخوار اور دہشت گرد جعلی ریاست کے ساتھ تعلقات بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ تاہم چاڈ حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کےلیے تاحال کوئی مثبت پیغام سامنے نہیں آیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسرائیلی جعلی ریاست کے اس وقت مصر اور اردن کے ساتھ اعلانیہ سفارتی تعلقات قائم ہیں البتہ نیتن یاہو مسقط کا دورہ بھی کرچکے ہیں جبکہ اسرائیلی عہدیدار ابوظہبی، سعودی عرب، عرب امارات، دبئی، شارجہ، بحرین، کویت اور قطر سمیت دیگرعرب ممالک کے دورے بھی کرتے رہتے ہیں؛ حتیٰ بعض مقامات پر اسرائیلی ثقافت پر مبنی پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف اب اسرائیل نے انگولا، سوڈان اور چاڈ جیسے افریقی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرنا شروع کردیئے ہیں جبکہ نائجیریا میں بھی اسرائیلی مداخلت کے شواہد موجود ہیں جو نائجیرین حکومت اور فوج کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔

بہرحال افریقی ممالک کو عرب دنیا کے حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج خطے میں جو کچھ بھی اسرائیل اور امریکا کی دوستی کے باعث ہورہا ہے، شاید ایسا سب کچھ ان عرب حکمرانوں کی طرف سے امریکا اور اسرائیل کی دشمنی کے نتیجے میں نہ ہوتا۔ آج جو بھی عرب حکومت امریکا اور اسرائیل کی دوستی کا دم بھرتی ہوئی نظر آرہی ہے، اس کی ذلت و تحقیر بھی اسی قدر زیادہ ہے جبکہ جن چند ایک حکمرانوں نے اسرائیل کو دشمن قرار دیا ہے وہ آج بھی عزت کے ساتھ سربلند ہیں اور فخر و حمیت کے ساتھ قائم و دائم ہیں۔

اب فیصلہ افریقی عوام اور ان کے حکمرانوں کو کرنا ہے کہ آیا وہ اسرائیلی نوکری کرکے اپنے ممالک کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے دفاع اور بالخصوص مظلوم فلسطینی ملت اور القدس کے دفاع کی خاطر اسرائیل کی دوستی کو ٹھکرائیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔