آئی جی کے اسٹینڈنگ آرڈر کیخلاف حکم امتناع میں توسیع
چیف سیکریٹری،محکمہ داخلہ،سیکریٹری سروسزوآئی جی سندھ کوجواب داخل کرنیکی ہدایت
چیف سیکریٹری،محکمہ داخلہ،سیکریٹری سروسزوآئی جی سندھ کوجواب داخل کرنیکی ہدایت۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے من پسند افسران کو تنزلی سے بچانے کیلیے جاری کردہ آئی جی سندھ کے اسٹینڈنگ آرڈرکے خلاف حکم امتناع میں16اگست تک توسیع کرتے ہوئے چیف سیکریٹری،محکمہ داخلہ، سیکریٹری سروسز اور آئی جی سندھ کوجواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس محمدعلی مظہرپرمشتمل سنگل بینچ نے سی آئی ڈی کے سب انسپکٹرچوہدری عارف حسین کی درخواست کی سماعت کی۔درخواست میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ ترقیاں منسوخ کرنے کاحکم دیا تھا جس پرمحکمہ پولیس میں بھی بڑی تعداد میں افسران کی تنزلی ہوئی جس سے درخواست گزاراوردیگرسنیئرافسران کی ترقیوں کے امکانات روشن ہوئے تھے مگرآئی جی سندھ اورمحکمہ پولیس نے من پسندافسران کو بچانے کیلیے سرگرمیاں تیزکردی ہیں،آئی جی سندھ کی جانب سے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ امین یوسفزئی نے3اپریل2013کو ایک اسٹینڈنگ آرڈر جاری کیاہے جس کے تحت من پسند افسران کوعمرکی حدمیں لچک اور لازمی کورسزسے استثنیٰ دے دیا گیا ہے اوراس اسٹینڈنگ افسران کا اطلاق صرف سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثرہونے والے افسران پر ہوگا۔
درخواست میں کہاگیاہے کہ یہ حکم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور قانون میں ترامیم کے مترادف ہے،آئی جی سندھ کو اس طرح کے احکامات جاری کرنے کااختیارنہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ مذکورہ اسٹینڈنگ آرڈر کو غیرقانونی قراردیاجائے۔عدالت نے گزشتہ سماعت پرحکم امتناع جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف کسی افسرکوتقری نہ دی جائے،پولیس کی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کوہدایت کی کہ قانون پر سختی سے عمل درآمدکرائیں،اگر کسی کی ترقی ناگزیرہوتواس کی ترقی سے متعلق تفصیلی وضاحت کی جائے اوروجوہات سے بھی آگاہ کیاجائے اوریہ کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔
جسٹس محمدعلی مظہرپرمشتمل سنگل بینچ نے سی آئی ڈی کے سب انسپکٹرچوہدری عارف حسین کی درخواست کی سماعت کی۔درخواست میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ ترقیاں منسوخ کرنے کاحکم دیا تھا جس پرمحکمہ پولیس میں بھی بڑی تعداد میں افسران کی تنزلی ہوئی جس سے درخواست گزاراوردیگرسنیئرافسران کی ترقیوں کے امکانات روشن ہوئے تھے مگرآئی جی سندھ اورمحکمہ پولیس نے من پسندافسران کو بچانے کیلیے سرگرمیاں تیزکردی ہیں،آئی جی سندھ کی جانب سے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ امین یوسفزئی نے3اپریل2013کو ایک اسٹینڈنگ آرڈر جاری کیاہے جس کے تحت من پسند افسران کوعمرکی حدمیں لچک اور لازمی کورسزسے استثنیٰ دے دیا گیا ہے اوراس اسٹینڈنگ افسران کا اطلاق صرف سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثرہونے والے افسران پر ہوگا۔
درخواست میں کہاگیاہے کہ یہ حکم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور قانون میں ترامیم کے مترادف ہے،آئی جی سندھ کو اس طرح کے احکامات جاری کرنے کااختیارنہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ مذکورہ اسٹینڈنگ آرڈر کو غیرقانونی قراردیاجائے۔عدالت نے گزشتہ سماعت پرحکم امتناع جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف کسی افسرکوتقری نہ دی جائے،پولیس کی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کوہدایت کی کہ قانون پر سختی سے عمل درآمدکرائیں،اگر کسی کی ترقی ناگزیرہوتواس کی ترقی سے متعلق تفصیلی وضاحت کی جائے اوروجوہات سے بھی آگاہ کیاجائے اوریہ کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔