کوئٹہ کو اسلحے سے پاک اورکراچی کیلئے سیکیورٹی پلان ترتیب دیدیا گیا چوہدری نثار

دہشت گرد انٹیلی جنس میں فورسز سے بہت آگے چلے گئے ہیں، چوہدری نثارعلی خان

ہمیں پاکستان کی سلامتی سے بڑھ کرکوئی چیزعزیز نہیں چوہدری نثارعلی خان فوٹو: فائل

وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ کوئٹہ کو مکمل طور پر اسلحے سے پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جب کراچی کے لیے بھی سیکورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد انٹیلی جنس میں فوسز سے زیادہ آگے ہیں اور بارہ کہو میں ہونے والے واقعے 8 نوجوان لڑکوں کی کارروائی ہے تاہم اس حوالے سے اہم ثبوت حاصل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہےاور اس کا انعقاد رواں ماہ کیا جائے گا، ہم نے امن اور جنگ دونوں کے لیے تیاری کر لی ہے، اے پی سی میں جو بھی فیصلہ کیا گیا حکومت اس پرعمل کرے گی۔


چوہدری نثارعلی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی سلامتی سے بڑھ کرکوئی چیزعزیز نہیں ، ہم نے پہلے بھی امن کے لئے کوششیں کیں لیکن ایک ڈرون حملے نے تمام کوششوں کو سبوتاژ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی کے دوران ڈی جی آئی ایس آئی قومی قیادت کو بریفنگ دیں گے اور اگر اے پی سی میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا تو ہم جنگ لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن جنگ ہوئی تو پوری قوم کو اس کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور پورے دل کے ساتھ اس جنگ کو لڑنا پڑے گا کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر فوج اکیلے جنگ نہیں لڑ سکتی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے 8 سالہ دور میں لوگ ذبح ہوتے رہے، 13 سال سے ملک میں کسی نے سیکورٹی پالیسی کا نام نہیں لیا، نیشنل سیکورٹی پالیسی بنانا گڈے اور گڈی کا کھیل نہیں ہے، فریم ورک ایک دن میں بن سکتا ہے مگر ہم ایک جامع اور موثر چیز لانا چاہتے ہیں۔ 2 ہفتوں میں نیشنل سیکورٹی پالیسی کا مسودہ وزیر اعظم نوازشریف کو پیش کیا جائے گا، نیشنل سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسی کو 2 حصوں اندرونی اور بیرونی سیکورٹی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں نیکٹا نام سے ایک ادارہ بنایا جا رہا ہے جو کہ ملک بھر کی سیکیورٹی کےحوالے سے کام کرے گا، نیکٹا نام کا ادارہ پہلے بھی ملک میں موجود تھا لیکن فعال نہیں تھا ہم اسے فعال کریں گے اور آئند چند روز میں اس میں ملازمتوں کے حوالے سے اشتہار جاری کر دیا جائے گا۔

چوہدری نثارعلی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یہ ادارہ 6 ماہ کے اندر کام شروع کر دے، اس ادارے میں دنیا کے بہتری سیکورٹی ماہرین کو بھاری تنخواہوں پر ملازمت دی جائے گا اور یہ 24 گھنٹے کام کرے گا، ادارے کا کام ملک بھر سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کو اکٹھا کرکے ان کی روشنی میں فوری کارروائی کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریپڈ ڈپلائمنٹ فورس بھی بنائی جا رہی ہے جس میں ابتدائی طور پر ریٹائرڈ فوجیوں سمیت 500 افراد کو شامل کیا جائے گا، اس فورس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیلی کاپٹرز اور دیگر آلات فراہم کیے جائیں گے، پہلے مرحلے ميں وفاقی سطح پر اس فورس کو بنایا جائے گا تاہم بعد میں اسے صوبوں میں بھی بنایا جائے گا۔
Load Next Story