نان ٹیرف رکاوٹیںبھارت کوسیمنٹ کی برآمد میں 20 فیصدکمی

رواںسال ایکسپورٹ4لاکھ82ہزارٹن تک محدود، 2007-08 میں 7 لاکھ 86 ہزار ٹن تھی

حکومت مساوی مواقع کی فراہمی تک بھارت کوایم ایف این قرار نہ دے،سیمنٹ انڈسٹری فوٹو: فائل

پاکستان سے بھارت کو سیمنٹ کی برآمدات نان ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے کم ترین سطح پر آگئی جو کئی ماہ سے تنزلی کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت پاکستان کی طرف سے پسندیدہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ حاصل کرنے کی خواہ ہے مگر اس ضمن میں اس نے پاکستانی مصنوعات پر اپنے دروازے کھولنے کے بجائے مزید تنگ کر دیے ہیں جس سے آنے والے دور کی مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس سے پاکستانی برآمدکنندگان اور سیمنٹ کی صنعت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے، بھارت میں سیمنٹ کی طلب میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی وجہ بھارتی تعمیراتی صنعت کی غیرمعمولی ترقی ہے ۔




جبکہ سمینٹ بنانے والی پاکستانی کمپنیاں پڑوسی ممالک کی ضروریات کو پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں لیکن بھارتی پالیسیاں پاکستانی سیمنٹ کمپنیوں کی برآمدبڑھنے نہیں دیتی، رواں سال بھارت کو پاکستانی سیمنٹ کی برآمدات 20.35 فیصد کمی سے صرف 4لاکھ 82ہزار 214ٹن تک رہ گئیں جس کا حجم سال 2007-08 میں 7لاکھ 86 ہزار 672 ٹن تھا، بھارتی حکومت نے ایک طرف تو پاکستانی کمپنیوں پر نان ٹیرف بندشیںبڑھا دی ہیں تو دوسری طرٖف اب مقامی سیمنٹ کی صنعت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

جس سے پاکستانی سیمنٹ کی بھارت کو برآمدات کم ہو جائیں گی اور باہمی تجارت بڑھانے کی کوششیں دھری کر دھری رہ جائیں گی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے گجرات اور مدھیا پردیش کی بڑھتی ہوئی سیمنٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے راجستھان کی مقامی کمپنیوں کے فروغ کیلے اقدامات شروع کردیے ہیں جبکہ پاکستانی کمپنیوں کی رسائی کو محدود رکھا گیا ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری کے پاکستانی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا اس وقت تک مناسب نہیں ہوگا جب تک دونوں ممالک کے تاجروں کو برابری کی بنیاد پر تجارتی مواقع حاصل نہ ہوں۔
Load Next Story