عمران خان کی ناجائز حکومت گرانے آرہے ہیں مولانا فضل الرحمان
نیشنل ایکشن پلان سے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)
عالمی ادارے متنبہ کررہے ہیں کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ کردیں گے، سربراہ جے یو آئی (فوٹو: فائل)
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی ناجائز حکومت کو بہت برداشت کرلیااب مزید وقت نہیں دیں گے ہم اس حکومت کو گرانے آرہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'سینٹر اسٹیج' کے میزبان رحمان اظہر کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شروع دن سے کہتے رہے ہیں کہ موجود حکومت یہودی ایجنڈے کی ترویج پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لیے قادیانیوں کی لابی کو اقتصادی کونسل میں شامل کیا گیا جب کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مضبوط آوازیں بھی اٹھیں جس پر احتجاج کیا گیا تو یہ آوازیں اب بند ہوگئیں۔
اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کی طاقت نہیں رکھتی اور نہ ہی ترمیم کے لیے اس کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے، بنیادی طور پر وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبوں کو مستحکم کرے لیکن فیڈریشن ایک طرف صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی اور دوسری طرف ان یونٹس کو مضبوط بھی نہیں کرتی، صوبوں کو ان کے حقوق دے کر واپس لینا اور صوبائی خودمختاری ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو نیا بحران پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کےچند نکات میں ردوبدل کے لیے مذاکرات کی کوشش کی جائے تو وہ بھی بے عمل ثابت ہوگی کیونکہ موجودہ حکومت کے ساتھ کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں جب کہ کچھ اتحادی جماعتیں بھی حکومت کو جعلی سمجھتی ہیں۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ہم عمران خان کی ناجائز حکومت کو گرانے کے لیے آرہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں ناجائز حکومت کے خلاف کھڑی ہوں گی اور حالات ایسے بن رہے ہیں کہ پی پی اور (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوجائیں گی، ماضی میں عمران خان نے کسی کے کہنے پر دھرنے دیے تھے جو کہ ناکام ہوگئے کیونکہ وہ ایک جائز حکومت کے خلاف آئے تھےجب کہ اب تمام لوگ ناجائز حکومت کے خلاف اکٹھے ہورہے ہیں، ہم حالات اور عام آدمی کی آواز ہیں ، دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ہمارے جلسوں میں آرہے ہیں ، ان کی دلی ہمدردیاں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے نیب کو تمام امراض کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے جو سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا اور اسے آج تک برقرار رکھا گیا ہے اور اس کی ذمہ داربھی پی پی اور (ن) لیگ ہے، اس ادارے کو نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ ریاستی ادارے پسِ پردہ بیٹھ کر نیب کو چلاتے ہیں ، احتساب سب کا ہونا چاہییے لیکن طریقے اور سلیقے سے ہونا چاہیے، کیا پاناما لیکس میں ایک شخص کے سوا کسی اور کے خلاف کارروائی ہوئی؟ جب سیاست ختم ہوجائے تو مالیاتی بنیادوں پر مخالفین کو پکڑنے کی پالیسی اپنائی گئی اور اگر مذہبی حوالوں سے ہوں تو انہیں دہشتگ رد قرار دے دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کالعدم اور مسلح جتھوں کے مخالف ہیں تاہم کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں اور نیشنل ایکشن پلان سے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'سینٹر اسٹیج' کے میزبان رحمان اظہر کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شروع دن سے کہتے رہے ہیں کہ موجود حکومت یہودی ایجنڈے کی ترویج پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لیے قادیانیوں کی لابی کو اقتصادی کونسل میں شامل کیا گیا جب کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مضبوط آوازیں بھی اٹھیں جس پر احتجاج کیا گیا تو یہ آوازیں اب بند ہوگئیں۔
اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کی طاقت نہیں رکھتی اور نہ ہی ترمیم کے لیے اس کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے، بنیادی طور پر وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبوں کو مستحکم کرے لیکن فیڈریشن ایک طرف صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی اور دوسری طرف ان یونٹس کو مضبوط بھی نہیں کرتی، صوبوں کو ان کے حقوق دے کر واپس لینا اور صوبائی خودمختاری ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو نیا بحران پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کےچند نکات میں ردوبدل کے لیے مذاکرات کی کوشش کی جائے تو وہ بھی بے عمل ثابت ہوگی کیونکہ موجودہ حکومت کے ساتھ کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں جب کہ کچھ اتحادی جماعتیں بھی حکومت کو جعلی سمجھتی ہیں۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ہم عمران خان کی ناجائز حکومت کو گرانے کے لیے آرہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں ناجائز حکومت کے خلاف کھڑی ہوں گی اور حالات ایسے بن رہے ہیں کہ پی پی اور (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوجائیں گی، ماضی میں عمران خان نے کسی کے کہنے پر دھرنے دیے تھے جو کہ ناکام ہوگئے کیونکہ وہ ایک جائز حکومت کے خلاف آئے تھےجب کہ اب تمام لوگ ناجائز حکومت کے خلاف اکٹھے ہورہے ہیں، ہم حالات اور عام آدمی کی آواز ہیں ، دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ہمارے جلسوں میں آرہے ہیں ، ان کی دلی ہمدردیاں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے نیب کو تمام امراض کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے جو سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا اور اسے آج تک برقرار رکھا گیا ہے اور اس کی ذمہ داربھی پی پی اور (ن) لیگ ہے، اس ادارے کو نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ ریاستی ادارے پسِ پردہ بیٹھ کر نیب کو چلاتے ہیں ، احتساب سب کا ہونا چاہییے لیکن طریقے اور سلیقے سے ہونا چاہیے، کیا پاناما لیکس میں ایک شخص کے سوا کسی اور کے خلاف کارروائی ہوئی؟ جب سیاست ختم ہوجائے تو مالیاتی بنیادوں پر مخالفین کو پکڑنے کی پالیسی اپنائی گئی اور اگر مذہبی حوالوں سے ہوں تو انہیں دہشتگ رد قرار دے دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کالعدم اور مسلح جتھوں کے مخالف ہیں تاہم کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں اور نیشنل ایکشن پلان سے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔