بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ و کشمیر میں یوم سیاہ ہڑتال مظاہرے جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی

سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی حصار میں بھارت کے یومِ آزادی کی تقریب

تنظیموں کی ریلیاں، اقوام متحدہ مبصرمشن کو یادداشت پیش کی گئی،علی گیلانی کی پھر ہڑتال کی کال۔ فوٹو اے ایف پی/فائل

BRUSSELS:
وزیراعظم آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کی مشترکہ کال پر ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف، پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت، بلتستان سمیت پوری دنیا میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔

مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں کاروباری مراکز مکمل بند رہے، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، کشمیری قیادت کی جانب سے جلسے جلوس اور مظاہرے کیے گئے، سری نگر سمیت وادی کے مختلف شہروں میں فوج اور پولیس کی بھارت نفری تعینات کی گئی، وائرلیس انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی۔ پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے، اقوام متحدہ کے مبصرمشن کو یادداشت پیش کی گئی۔




حریت کانفرنس کی کال پر مقبوضہ کشمیر میں ہرسال کی طرح جمعرات کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ کڑے حفاظتی حصار میں بھارتی پرچم لہرانے کی مختلف تقاریب ہوئیں۔ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی سب سے بڑی تقریب ہوئی لیکن اس میں حسبِ روایت عام لوگ شریک نہیں ہوئے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ مخصوص کمیٹیوں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے آج ہفتے کو ہڑتال کی جائے گی۔
Load Next Story