زمبابوین کرکٹرز نے علم بغاوت بلند کردیا بورڈ ہتھیار ڈالنے پر مجبور
ٹی ٹوئنٹی کیلیے 1500 ڈالرز فیس مانگ لی، گلوبل ایونٹ کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ بھی پانے کے طلبگار، پلیئرز کے تیور دیکھ۔۔۔
جلد واجبات ادا کرنے کے ساتھ میچ فیس دینے پر بھی اتفاق،آج معاہدے پردستخط متوقع، کھلاڑیوں کی پریکٹس شروع، پاکستان سے ہوم سیریز پر موجود خدشات ختم۔ فوٹو: فائل
احساس محرومی کے شکار زمبابوین کرکٹرز نے علم بغاوت بلند کر دیا، ٹریننگ سیشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی یونین بھی بنالی۔
پلیئرز نے بورڈ سے بقایاجات کی ادائیگی اور مستقبل کے ہر ٹیسٹ میں 5 ہزار ڈالر فی کس فیس کا مطالبہ کیا،انھوں نے ہر ون ڈے کے3 ہزار جبکہ ٹی ٹوئنٹی کیلیے1500 ڈالرز میچ فیس بھی طلب کی، اسی کے ساتھ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے ہر گلوبل ایونٹ کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ بھی پانے کے طلبگار نظر آئے، کھلاڑیوں کے تیور دیکھتے ہوئے حکام نے بھی ہتھیار ڈال دیے، جلد واجبات کی ادائیگی کے ساتھ میچ فیس دینے پر بھی اتفاق ہو گیا، پلیئرز نے پریکٹس شروع کر دی، ہفتے کو معاہدے پردستخط کا امکان ہے، یوں پاکستان سے سیریز پر موجود خدشات ختم ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق زمبابوین کرکٹرز کے مالی معاملات پر بورڈ سے اختلافات سنگین رخ اختیار کرنے کے بعد حل ہو گئے،اپریل میں بنگلہ دیش کیخلاف سیریز سے قبل بھی ٹیم نے غیرسینٹرل کنٹریکٹ پلیئرز کے ناکافی ڈیلی الائونس پر بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، ایسے ہی ایک پلیئر گریگ ایرون نے ملکی نمائندگی کے بجائے انگلینڈ میں کلب کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دی، انھیں زمبابوے میں ہفتے کے 100 ڈالر ملنے تھے۔
گذشتہ سیریز میں بھارتی ٹیم کا شاہانہ انداز دیکھ کر میزبان کرکٹرز میں احساس محرومی مزید بڑھ گیا، انھیں کھانے کیلیے بھی دن میں تین بار ہوٹل سے اسٹیڈیم جانا پڑتا تھا، ایسے میں پاکستان کیخلاف جمعے سے2 ٹی ٹوئنٹی، 3 ون ڈے اور 2 ٹیسٹ کی سیریز سے قبل کھلاڑیوں نے بغاوت کر دی، انھوں نے بقایاجات کی ادائیگی اور مستقبل کے ہر ٹیسٹ میں 5 ہزار ڈالر فی کس کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹریننگ کا بائیکاٹ کیا، ہر ون ڈے کے 3 ہزار جبکہ ٹی ٹوئنٹی کیلیے 1500 ڈالرز میچ فیس بھی طلب کی گئی،اس وقت پلیئرز سال کے7 مہینوں میں اوسطاً 2 ہزار ڈالر ماہانہ وصول کرتے ہیں، کپتان کو دیگرکے مقابلے میں زیادہ ادائیگی ہوتی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے ٹیم اس رقم سے بھی محروم ہے،جولائی میں معیاد مکمل ہونے پر بورڈ نے پلیئرز کے معاہدوں میں ایک ماہ کی توسیع کر دی تھی، ٹیم کو منگل کے روز اکھٹا ہونا تھا مگر حالیہ بغاوت کی وجہ سے اسکواڈ کا اعلان مؤخر ہوگیا، زمبابوے کرکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ولفریڈ موکونڈیوا کے نام خط میں کھلاڑیوں نے پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے میچ فیس کا مطالبہ کیا، انھوں نے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے زمبابوے کرکٹ پلیئرز یونین بنانے کا بھی اعلان کیا، اسے نئے ملکی آئین کی مطابقت سے بنایا گیا ہے۔
بعض کرکٹرز نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہم نے دیگر ممالک کے کھلاڑیوں سے تبادلہ خیال کے بعد معاوضوں کی رقم طے کی، اگر دوسری ٹیسٹ اقوام کو دیکھا جائے تو ہم نے ان کے مقابلے میں بہت کم معاوضہ طلب کیا، اس معاہدے کا ٹیم میں شامل ہونے والے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم نوجوان کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔ پلیئرز بورڈ سے اس بات کی بھی ضمانت چاہتے ہیں کہ آئندہ برس شیڈول آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 سے انھیں گلوبل شوکیس ایونٹس کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ دیا جائے، انھوں نے کہا تھا کہ جب تک جولائی کی تنخواہیں ادا نہیں ہوتیں وہ پریکٹس پر واپس نہیں آئیں گے، مطالبات پورے ہونے تک یونین کا کوئی رکن پاکستان کیخلاف ہوم سیریز اور مستقبل کے دیگر مقابلوں میں حصہ نہیں لے گا،۔
یہ تیور دیکھ کر بورڈ کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور اس نے جلد معاوضے کی ادائیگی اور میچ فیس دینے کا اعلان کر دیا، پلیئرز نے بھی پریکٹس شروع کر دی اور ہفتے کو معاہدے پر دستخط کا امکان ہے، یوں پاکستان سے سیریز شیڈول کے مطابق ہو گی، جمعرات کو سینئر کرکٹرز بشمول الٹن چگمبرا، پراسپر اتسیا، موجودہ قائد برینڈن ٹیلر، ہیملٹن مساکیڈزا اورووسی سبانڈا نے بورڈ حکام سے ملاقات کی مگر کسی معاہدے پر نہیں پہنچا جا سکا، جمعے کو مذاکرات کا ایک اور دور ہوا جس میں بیشتر معاملات طے پا گئے، البتہ میچ فیس کی رقم ظاہر نہیں کی گئی، ایک پلیئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم بورڈ کو احساس دلانا چاہتے تھے کہ زمبابوے واحد ٹیم ہے جس کے پلیئرز کو میچ فیس ادا نہیں کی جاتی، اب ہمیں فیس ملا کرے گی۔ دریں اثنا آئی سی سی گلوبل ایونٹ کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ دینے کے معاملے پر زمبابوین بورڈ نے وقت مانگ لیا، اس حوالے سے بعد میں مزید بات چیت ہوگی۔
پلیئرز نے بورڈ سے بقایاجات کی ادائیگی اور مستقبل کے ہر ٹیسٹ میں 5 ہزار ڈالر فی کس فیس کا مطالبہ کیا،انھوں نے ہر ون ڈے کے3 ہزار جبکہ ٹی ٹوئنٹی کیلیے1500 ڈالرز میچ فیس بھی طلب کی، اسی کے ساتھ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے ہر گلوبل ایونٹ کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ بھی پانے کے طلبگار نظر آئے، کھلاڑیوں کے تیور دیکھتے ہوئے حکام نے بھی ہتھیار ڈال دیے، جلد واجبات کی ادائیگی کے ساتھ میچ فیس دینے پر بھی اتفاق ہو گیا، پلیئرز نے پریکٹس شروع کر دی، ہفتے کو معاہدے پردستخط کا امکان ہے، یوں پاکستان سے سیریز پر موجود خدشات ختم ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق زمبابوین کرکٹرز کے مالی معاملات پر بورڈ سے اختلافات سنگین رخ اختیار کرنے کے بعد حل ہو گئے،اپریل میں بنگلہ دیش کیخلاف سیریز سے قبل بھی ٹیم نے غیرسینٹرل کنٹریکٹ پلیئرز کے ناکافی ڈیلی الائونس پر بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، ایسے ہی ایک پلیئر گریگ ایرون نے ملکی نمائندگی کے بجائے انگلینڈ میں کلب کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دی، انھیں زمبابوے میں ہفتے کے 100 ڈالر ملنے تھے۔
گذشتہ سیریز میں بھارتی ٹیم کا شاہانہ انداز دیکھ کر میزبان کرکٹرز میں احساس محرومی مزید بڑھ گیا، انھیں کھانے کیلیے بھی دن میں تین بار ہوٹل سے اسٹیڈیم جانا پڑتا تھا، ایسے میں پاکستان کیخلاف جمعے سے2 ٹی ٹوئنٹی، 3 ون ڈے اور 2 ٹیسٹ کی سیریز سے قبل کھلاڑیوں نے بغاوت کر دی، انھوں نے بقایاجات کی ادائیگی اور مستقبل کے ہر ٹیسٹ میں 5 ہزار ڈالر فی کس کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹریننگ کا بائیکاٹ کیا، ہر ون ڈے کے 3 ہزار جبکہ ٹی ٹوئنٹی کیلیے 1500 ڈالرز میچ فیس بھی طلب کی گئی،اس وقت پلیئرز سال کے7 مہینوں میں اوسطاً 2 ہزار ڈالر ماہانہ وصول کرتے ہیں، کپتان کو دیگرکے مقابلے میں زیادہ ادائیگی ہوتی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے ٹیم اس رقم سے بھی محروم ہے،جولائی میں معیاد مکمل ہونے پر بورڈ نے پلیئرز کے معاہدوں میں ایک ماہ کی توسیع کر دی تھی، ٹیم کو منگل کے روز اکھٹا ہونا تھا مگر حالیہ بغاوت کی وجہ سے اسکواڈ کا اعلان مؤخر ہوگیا، زمبابوے کرکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ولفریڈ موکونڈیوا کے نام خط میں کھلاڑیوں نے پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے میچ فیس کا مطالبہ کیا، انھوں نے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے زمبابوے کرکٹ پلیئرز یونین بنانے کا بھی اعلان کیا، اسے نئے ملکی آئین کی مطابقت سے بنایا گیا ہے۔
بعض کرکٹرز نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہم نے دیگر ممالک کے کھلاڑیوں سے تبادلہ خیال کے بعد معاوضوں کی رقم طے کی، اگر دوسری ٹیسٹ اقوام کو دیکھا جائے تو ہم نے ان کے مقابلے میں بہت کم معاوضہ طلب کیا، اس معاہدے کا ٹیم میں شامل ہونے والے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم نوجوان کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔ پلیئرز بورڈ سے اس بات کی بھی ضمانت چاہتے ہیں کہ آئندہ برس شیڈول آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 سے انھیں گلوبل شوکیس ایونٹس کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ دیا جائے، انھوں نے کہا تھا کہ جب تک جولائی کی تنخواہیں ادا نہیں ہوتیں وہ پریکٹس پر واپس نہیں آئیں گے، مطالبات پورے ہونے تک یونین کا کوئی رکن پاکستان کیخلاف ہوم سیریز اور مستقبل کے دیگر مقابلوں میں حصہ نہیں لے گا،۔
یہ تیور دیکھ کر بورڈ کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور اس نے جلد معاوضے کی ادائیگی اور میچ فیس دینے کا اعلان کر دیا، پلیئرز نے بھی پریکٹس شروع کر دی اور ہفتے کو معاہدے پر دستخط کا امکان ہے، یوں پاکستان سے سیریز شیڈول کے مطابق ہو گی، جمعرات کو سینئر کرکٹرز بشمول الٹن چگمبرا، پراسپر اتسیا، موجودہ قائد برینڈن ٹیلر، ہیملٹن مساکیڈزا اورووسی سبانڈا نے بورڈ حکام سے ملاقات کی مگر کسی معاہدے پر نہیں پہنچا جا سکا، جمعے کو مذاکرات کا ایک اور دور ہوا جس میں بیشتر معاملات طے پا گئے، البتہ میچ فیس کی رقم ظاہر نہیں کی گئی، ایک پلیئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم بورڈ کو احساس دلانا چاہتے تھے کہ زمبابوے واحد ٹیم ہے جس کے پلیئرز کو میچ فیس ادا نہیں کی جاتی، اب ہمیں فیس ملا کرے گی۔ دریں اثنا آئی سی سی گلوبل ایونٹ کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ دینے کے معاملے پر زمبابوین بورڈ نے وقت مانگ لیا، اس حوالے سے بعد میں مزید بات چیت ہوگی۔