ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
ایوبیہ پاکستان کا پرفضا مقام ہے، اپنی خوبصورتی، رعنائی، دلفریبی اور دلکشی کی بدولت یہ ہر سال ہزاروں ...
پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی 12 جولائی 1982ء کو پیدا ہوئے۔ فوٹو : فائل
ایوبیہ پاکستان کا پرفضا مقام ہے، اپنی خوبصورتی، رعنائی، دلفریبی اور دلکشی کی بدولت یہ ہر سال ہزاروں بلکہ لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، دل کو لبھا دینے والے اس سیاحتی مقام سے شمال کی جانب سفر کیا جائے تو 3 کلومیٹر کے فاصلے پر خانس پور کا علاقہ آتا ہے جہاں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش تو محنت مزوری ہے، بعض افراد اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کے لئے خلیجی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں، ان باشندوں میں سے ایک باسی افتخار حسین بھی تھے۔
جو بہتر معاش کے لیے قطر میں تھے۔ باہر سے آنے والی دولت کی وجہ سے دوسرے رہائشیوں کی نسبت اس گھرانے میں قدرے خوشحالی تھی، شادی کے چند برس بعد اللہ نے افتخار حسین کو اولادکی نعمت سے بھی نواز دیا۔ والدین کا خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور وہ اپنے لخت جگر کے چاند سے چہرے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تاہم ان کے خواب اس وقت چکناچور ہو گئے جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا ''راج دلارا'' عام بچوں کی طرح چیزوں کو واضح طور پر دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، انسان بڑا بے صبرا واقع ہوا ہے، امید اور آس کا دامن جلد ہی ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے، یہ سب کچھ بھی افتخار حسین اور اس کی فیملی کے ساتھ ہوا،انہیں سب کچھ تاریک نظر آنے لگا، سوچا کہ شاید اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور اس اندھیری رات کی روشن صبح کبھی طلوع نہیں ہوگی۔ انسان کبھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ قدرت کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔
والدین اس وقت اور زیادہ پریشان رہنا شروع ہو گئے جب ان کے بچے کی بینائی دن بدن مزید کمزور ہونے لگی، وہ اسے قریبی سکول بھیجتے ہیں لیکن بینائی اس بچے کے آڑے آ جاتی ہے اور وہ دوسرے بچوں کے لئے تماشا بن جاتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنا اعتماد کھو بیٹھے، اس کے والدین اسے لے کر راولپنڈی آتے ہیں اور اسے قندیل انسٹیٹیوٹ فار بلائنڈ سکول میں داخل کروا دیتے ہیں، وقت اپنی رفتار چلتا ہے، وہ بچہ دوسرے سپیشل بچوں کے ساتھ تعلیم کا نئے سرے سے سلسلہ شروع کرتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اساتذہ کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے، ہر کوئی اس کی عقل وذہانت کا قائل ہو جاتا ہے۔
پڑھائی کے ساتھ کھیل کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے والاکوئی نہیں ہوتا۔گریجوایشن کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ا ے ہسٹری اورعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ماسٹرکرتا ہے اور اسی سکول میں بچوں کو علم سے روشناس کرانا شروع کر دیتا ہے جہاں وہ کبھی خود تعلیم حاصل کیا کرتا تھا، اس دوران سپورٹس کا جنون سر چڑھ کر بولتا ہے اور وہ اپنے غیر معمولی کھیل کی وجہ سے قومی ٹیم کا حصہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اپنی کارکردگی سے پاکستان کو 2ورلڈ کپ سمیت متعدد عالمی ایونٹس جتوانے میں اپناکردار ادا کرتا ہے اور آج وہ بچہ کوئی معمولی نوجوان نہیں بلکہ کروڑوں دل اس کے لئے دھڑکتے ہیں، اس کی غیر معمولی کارکردگی پر شائقین ہی قدر دان نہیں بلکہ حکومت پاکستان بھی اس کی ملک وقوم کے لئے خدمات کو دیکھتے ہوئے اسے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نواز رہی ہے۔
قوت بینائی سے محروم یہ بچہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کا کپتان ذیشان عباسی ہے۔ افتخار حسین عباسی کے گھر12 جولائی 1982ء کو پیدا ہونے والا مایہ ناز کرکٹر جو اپنے 6 بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے، اللہ تعالی نے اس آنگن میں آنکھ کھولنے والے سب بچوں کو بینائی کی نعمت سے نوازا ہے لیکن ذیشان عباسی سے قوت بصارت لے کر ان صلاحیتیوں اور اعزازات سے نوازا جس کا آج کل کا نوجوان خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ذیشان عباسی سے پہلے پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالرزاق بھی دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرانے میں پیش پیش رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت پاکستان نے انہیں 2سال قبل تمغہ امتیاز سے نوازا۔
یہ تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کی زوال پذیری تاریک مستقبل کا اشارہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ قومی کھیل ہاکی کے ساتھ ساتھ سکواش میں بھی ہماری حکمرانی ختم ہو چکی ہے،کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہیں جبکہ دیگر انفرادی نوعیت کے کھیلوں میں بھی ہمارے کھلاڑی شرمندگی کے سوا کچھ بھی قوم کی جھولی میں نہیں ڈال سکے۔ مایوسی اور تاریکی کے اس عالم میں خودبصارت کی روشنی سے محروم ذیشان عباسی اور عبدالرزاق جیسے کرکٹرز روشن ستارے بنے ہوئے ہیں ۔
بلائنڈ کرکٹرز پر مشتمل یہ پاکستان کی واحد ٹیم ہے جس کی کارکردگی میں تسلسل بھی ہے اور اس سے مزید فتوحات کی توقع بھی کی جا سکتی ہے، اس ٹیم کو جہاں مسلسل 2 بار ورلڈ کپ جیتنے ، متعدد عالمی اعزازات سمیٹنے کا اعزاز حاصل ہے وہاں اس کے بیشتر کھلاڑی بیشتر ورلڈ ریکارڈزبنانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ راولپنڈی ، اسلام آباد میں ہونے والے تیسرے عالمی کپ میں قومی ٹیم نے ورلڈ کپ میں اپنے اعزاز کے دفاع کے ساتھ ساتھ تمام انفرادی اعزاز بھی اپنے نام کئے۔
روایتی حریف بھارت کو فائنل میں بآسانی زیر کرنے والی ٹیم کے عامر اشفاق ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ، جبکہ عبدالرزاق نے بہترین فاسٹ بولر، محمد فیاض بہترین فیلڈر کا اعزاز حاصل کیا۔ قومی ٹیم نے اس ایونٹ میں نیوزی لینڈ کو 10 وکٹوں سے ہرا کر کئی عالمی ریکارڈز قائم کئے۔ پہلا ریکارڈ حریف ٹیم کو 21 رنز پر آؤٹ کرنا تھا۔ عامر اشفاق کے 6 اوورز میں 4 رنز کے عوض 5 وکٹ لینا، میزبان ٹیم کے خلاف صرف 7 گیندوں پر ہدف حاصل کرنا اور میچ سب سے کم وقت وقت میں ختم ہونا، یہ ایسے عالمی ریکارڈز ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
یہاں پر بگ برادرڈاکٹر خالد جمیل کا ذکر کرنا بھی زیادہ مناسب ہوگا۔حکومت پاکستان کی طرف سے گزشتہ برس تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والے ڈاکٹر خالد جمیل نے اپنی زندگی کھلاڑیوں بالخصوص خصوصی افراد کے لئے وقف کر رکھی ہے، ان کے بیشتر شاگرد، کرکٹ، ہاکی، سکواش، فٹبال سمیت دوسری ملکوں فیڈریشنوں کے ساتھ منسلک رہ کر قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرخالد جمیل خود بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن میڈیکل کمیشن کے چیئرمین کے علاوہ پی سی بی کے کنسلٹنٹ سپورٹس میڈیسن بھی رہ چکے ہیں اور ان دنوں میو ہسپتال کے شعبہ بحالی معذوراں کے سربراہ کے علاوہ فکیلٹی آف دی ری ہیبلی ٹیشن فزیشنز سرجن پاکستان کے ہیڈ ہیں۔
ڈاکٹر صاحب زمانہ طالب علمی میں پاکستان کے نمبر ون مقرر کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں کے مایہ ناز اتھلیٹ بھی رہے ہیں، ان کا اتھلیٹکس مقابلوں میں بنایا ہوا قومی ریکارڈ کئی سال تک ناقابل تسخیر رہا۔ ڈاکٹر صاحب کے سنہرے خواب اس وقت کرچی کرچی ہو گئے جب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران ایک کار حادثہ میں ان کی ریڑھ کی ہڈی پر فریکچر آیا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔ اس وقت سائنس یہ کہتی تھی کہ ریڑھ کی ہڈی کا مریض زندگی بھر پر اپنے قدموں پر چل سکتا ہے، پیشاب پر کنٹرول کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے اولادکی خوشیاں نصیب ہو سکتی ہیں لیکن ڈاکٹرخالد جمیل نے اپنی قوت ارادی سے اس نظریئے اور اس تھیوری کو غلط ثابت کر دکھایا۔
بگ برادر اس وقت نہ صرف اپنے قدموں پر چل کر دن رات انسانی خدمت کرنے میں پیش پیش ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں3 بیٹیوں اور ایک ایک بیٹے کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔ ڈاکٹرخالد جمیل اپنی شہرہ آفاق کتاب تیسرا جنم میں لکھتے ہیں ''جن مریضوں کو ٹھیک ہو جانے کا یقین ہوتا ہے ، وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، جنہیں صرف امید ہوتی ہے، وہ کچھ حد تک بہتر ہو جاتے ہیں اور جنہیں شک ہو وہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔
ذیشان عباسی، عبدالرزاق اور ڈاکٹر خالد جمیل جیسے لوگ پاکستان میں بسنے والے لاکھوں،کروڑوں مایوس نوجوانوں کے لئے امید کی وہ کرنیں ہین جو پیغام دے رہی ہیں کہ انسان کے حوصلے ہمالیہ کی چوٹیوں سے بلند اور عزائم بحرالکاہل سے زیادہ گہرے ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی رکاوٹیں، مصیبتیں اور پریشانیاں انہیں منزل مقصود تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا کہنا ہے کہ جو تلاش کرے گا ، پا لے گا، یعنی دروازہ کھٹکھٹاؤ، ضرور ملے گا، مانگو گے، ضرورملے گا،مایوس نہ ہونا، اللہ تعالی نے اپنے جاننے والوں، اپنے چاہنے والوں کو بڑی آسانیوں کا وعدہ فرمایا ہے، شرط صرف ایک یہ ہے کہ متلاشی تلاشی نہ چھوڑے، منزل پالے گا۔
mian.asghar@express.com.pk
جو بہتر معاش کے لیے قطر میں تھے۔ باہر سے آنے والی دولت کی وجہ سے دوسرے رہائشیوں کی نسبت اس گھرانے میں قدرے خوشحالی تھی، شادی کے چند برس بعد اللہ نے افتخار حسین کو اولادکی نعمت سے بھی نواز دیا۔ والدین کا خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور وہ اپنے لخت جگر کے چاند سے چہرے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تاہم ان کے خواب اس وقت چکناچور ہو گئے جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا ''راج دلارا'' عام بچوں کی طرح چیزوں کو واضح طور پر دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، انسان بڑا بے صبرا واقع ہوا ہے، امید اور آس کا دامن جلد ہی ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے، یہ سب کچھ بھی افتخار حسین اور اس کی فیملی کے ساتھ ہوا،انہیں سب کچھ تاریک نظر آنے لگا، سوچا کہ شاید اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور اس اندھیری رات کی روشن صبح کبھی طلوع نہیں ہوگی۔ انسان کبھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ قدرت کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔
والدین اس وقت اور زیادہ پریشان رہنا شروع ہو گئے جب ان کے بچے کی بینائی دن بدن مزید کمزور ہونے لگی، وہ اسے قریبی سکول بھیجتے ہیں لیکن بینائی اس بچے کے آڑے آ جاتی ہے اور وہ دوسرے بچوں کے لئے تماشا بن جاتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنا اعتماد کھو بیٹھے، اس کے والدین اسے لے کر راولپنڈی آتے ہیں اور اسے قندیل انسٹیٹیوٹ فار بلائنڈ سکول میں داخل کروا دیتے ہیں، وقت اپنی رفتار چلتا ہے، وہ بچہ دوسرے سپیشل بچوں کے ساتھ تعلیم کا نئے سرے سے سلسلہ شروع کرتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اساتذہ کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے، ہر کوئی اس کی عقل وذہانت کا قائل ہو جاتا ہے۔
پڑھائی کے ساتھ کھیل کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے والاکوئی نہیں ہوتا۔گریجوایشن کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ا ے ہسٹری اورعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سپیشل ایجوکیشن میں ماسٹرکرتا ہے اور اسی سکول میں بچوں کو علم سے روشناس کرانا شروع کر دیتا ہے جہاں وہ کبھی خود تعلیم حاصل کیا کرتا تھا، اس دوران سپورٹس کا جنون سر چڑھ کر بولتا ہے اور وہ اپنے غیر معمولی کھیل کی وجہ سے قومی ٹیم کا حصہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اپنی کارکردگی سے پاکستان کو 2ورلڈ کپ سمیت متعدد عالمی ایونٹس جتوانے میں اپناکردار ادا کرتا ہے اور آج وہ بچہ کوئی معمولی نوجوان نہیں بلکہ کروڑوں دل اس کے لئے دھڑکتے ہیں، اس کی غیر معمولی کارکردگی پر شائقین ہی قدر دان نہیں بلکہ حکومت پاکستان بھی اس کی ملک وقوم کے لئے خدمات کو دیکھتے ہوئے اسے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نواز رہی ہے۔
قوت بینائی سے محروم یہ بچہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کا کپتان ذیشان عباسی ہے۔ افتخار حسین عباسی کے گھر12 جولائی 1982ء کو پیدا ہونے والا مایہ ناز کرکٹر جو اپنے 6 بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے، اللہ تعالی نے اس آنگن میں آنکھ کھولنے والے سب بچوں کو بینائی کی نعمت سے نوازا ہے لیکن ذیشان عباسی سے قوت بصارت لے کر ان صلاحیتیوں اور اعزازات سے نوازا جس کا آج کل کا نوجوان خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ذیشان عباسی سے پہلے پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالرزاق بھی دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرانے میں پیش پیش رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت پاکستان نے انہیں 2سال قبل تمغہ امتیاز سے نوازا۔
یہ تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کی زوال پذیری تاریک مستقبل کا اشارہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ قومی کھیل ہاکی کے ساتھ ساتھ سکواش میں بھی ہماری حکمرانی ختم ہو چکی ہے،کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہیں جبکہ دیگر انفرادی نوعیت کے کھیلوں میں بھی ہمارے کھلاڑی شرمندگی کے سوا کچھ بھی قوم کی جھولی میں نہیں ڈال سکے۔ مایوسی اور تاریکی کے اس عالم میں خودبصارت کی روشنی سے محروم ذیشان عباسی اور عبدالرزاق جیسے کرکٹرز روشن ستارے بنے ہوئے ہیں ۔
بلائنڈ کرکٹرز پر مشتمل یہ پاکستان کی واحد ٹیم ہے جس کی کارکردگی میں تسلسل بھی ہے اور اس سے مزید فتوحات کی توقع بھی کی جا سکتی ہے، اس ٹیم کو جہاں مسلسل 2 بار ورلڈ کپ جیتنے ، متعدد عالمی اعزازات سمیٹنے کا اعزاز حاصل ہے وہاں اس کے بیشتر کھلاڑی بیشتر ورلڈ ریکارڈزبنانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ راولپنڈی ، اسلام آباد میں ہونے والے تیسرے عالمی کپ میں قومی ٹیم نے ورلڈ کپ میں اپنے اعزاز کے دفاع کے ساتھ ساتھ تمام انفرادی اعزاز بھی اپنے نام کئے۔
روایتی حریف بھارت کو فائنل میں بآسانی زیر کرنے والی ٹیم کے عامر اشفاق ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ، جبکہ عبدالرزاق نے بہترین فاسٹ بولر، محمد فیاض بہترین فیلڈر کا اعزاز حاصل کیا۔ قومی ٹیم نے اس ایونٹ میں نیوزی لینڈ کو 10 وکٹوں سے ہرا کر کئی عالمی ریکارڈز قائم کئے۔ پہلا ریکارڈ حریف ٹیم کو 21 رنز پر آؤٹ کرنا تھا۔ عامر اشفاق کے 6 اوورز میں 4 رنز کے عوض 5 وکٹ لینا، میزبان ٹیم کے خلاف صرف 7 گیندوں پر ہدف حاصل کرنا اور میچ سب سے کم وقت وقت میں ختم ہونا، یہ ایسے عالمی ریکارڈز ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
یہاں پر بگ برادرڈاکٹر خالد جمیل کا ذکر کرنا بھی زیادہ مناسب ہوگا۔حکومت پاکستان کی طرف سے گزشتہ برس تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والے ڈاکٹر خالد جمیل نے اپنی زندگی کھلاڑیوں بالخصوص خصوصی افراد کے لئے وقف کر رکھی ہے، ان کے بیشتر شاگرد، کرکٹ، ہاکی، سکواش، فٹبال سمیت دوسری ملکوں فیڈریشنوں کے ساتھ منسلک رہ کر قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرخالد جمیل خود بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن میڈیکل کمیشن کے چیئرمین کے علاوہ پی سی بی کے کنسلٹنٹ سپورٹس میڈیسن بھی رہ چکے ہیں اور ان دنوں میو ہسپتال کے شعبہ بحالی معذوراں کے سربراہ کے علاوہ فکیلٹی آف دی ری ہیبلی ٹیشن فزیشنز سرجن پاکستان کے ہیڈ ہیں۔
ڈاکٹر صاحب زمانہ طالب علمی میں پاکستان کے نمبر ون مقرر کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں کے مایہ ناز اتھلیٹ بھی رہے ہیں، ان کا اتھلیٹکس مقابلوں میں بنایا ہوا قومی ریکارڈ کئی سال تک ناقابل تسخیر رہا۔ ڈاکٹر صاحب کے سنہرے خواب اس وقت کرچی کرچی ہو گئے جب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران ایک کار حادثہ میں ان کی ریڑھ کی ہڈی پر فریکچر آیا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔ اس وقت سائنس یہ کہتی تھی کہ ریڑھ کی ہڈی کا مریض زندگی بھر پر اپنے قدموں پر چل سکتا ہے، پیشاب پر کنٹرول کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے اولادکی خوشیاں نصیب ہو سکتی ہیں لیکن ڈاکٹرخالد جمیل نے اپنی قوت ارادی سے اس نظریئے اور اس تھیوری کو غلط ثابت کر دکھایا۔
بگ برادر اس وقت نہ صرف اپنے قدموں پر چل کر دن رات انسانی خدمت کرنے میں پیش پیش ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں3 بیٹیوں اور ایک ایک بیٹے کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔ ڈاکٹرخالد جمیل اپنی شہرہ آفاق کتاب تیسرا جنم میں لکھتے ہیں ''جن مریضوں کو ٹھیک ہو جانے کا یقین ہوتا ہے ، وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، جنہیں صرف امید ہوتی ہے، وہ کچھ حد تک بہتر ہو جاتے ہیں اور جنہیں شک ہو وہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔
ذیشان عباسی، عبدالرزاق اور ڈاکٹر خالد جمیل جیسے لوگ پاکستان میں بسنے والے لاکھوں،کروڑوں مایوس نوجوانوں کے لئے امید کی وہ کرنیں ہین جو پیغام دے رہی ہیں کہ انسان کے حوصلے ہمالیہ کی چوٹیوں سے بلند اور عزائم بحرالکاہل سے زیادہ گہرے ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی رکاوٹیں، مصیبتیں اور پریشانیاں انہیں منزل مقصود تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا کہنا ہے کہ جو تلاش کرے گا ، پا لے گا، یعنی دروازہ کھٹکھٹاؤ، ضرور ملے گا، مانگو گے، ضرورملے گا،مایوس نہ ہونا، اللہ تعالی نے اپنے جاننے والوں، اپنے چاہنے والوں کو بڑی آسانیوں کا وعدہ فرمایا ہے، شرط صرف ایک یہ ہے کہ متلاشی تلاشی نہ چھوڑے، منزل پالے گا۔
mian.asghar@express.com.pk