ایشیا کپ ہاکی ٹیم کے لئے رہی سہی ساکھ بچانے کا آخری موقع
ٹائٹل جیتنے کے لیے دفاع کی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا
ٹائٹل جیتنے کے لیے دفاع کی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا. فوٹو :فائل
پاکستانی سیاست میں ایسے کرداروں کی کوئی کمی نہیں جو ہر نئی حکومت میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جیسے ہی کوئی مسند اقتدار پر بیٹھتا ہے یہ شخصیات پہلے سے تیار کردہ خیر مقدمی بینرز لیے اس کے حضور جا پہنچتے ہیں۔
مستقل مزاج بیوروکریسی کی طرح ایسے افراد ہر حکومتی ایوان کی ضرورت بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں سپورٹس تنظیموں کا بھی یہی حال ہے، بے شمار عہدیدار ایسے ہیں کہ ملک میں آنے والی اعلیٰ سطحی تبدیلیاں بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتیں، ان کے عہدے بدلتے ہیں نہ ملک میں کھیلوں کی تقدیر بدلتی ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا تنازع اس کی تازہ مثال ہے۔ عارف حسن گروپ کو آئی او سی کی حمایت حاصل ہے تو اکرم ساہی گروپ حکومت کی نظروں میں لیگل باڈی قرار پائی۔ ملک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ نئے سربراہ کی نامزدگی کے بعد بین الصوبائی رابطہ کی وزارت ہی اس ضمن میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے کھیلوں کو بحرانی صورتحال سے نکالے گی مگر تاحال پراسرار خاموشی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ وہی پرانے چہرے روایتی محاذ آرائی میں مصروف اور ایک بار پھر اقتدار کے مزے لوٹنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
قومی کھیل کے فروغ کی ذمہ دار پاکستان ہاکی فیڈریشن بھی اس رجحان میں پیش پیش نظر آتی ہے، ٹیم مسلسل زوال کی طرف گامزن ہے۔ ایک دو مواقع پر اچھی کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے تو بڑے ایونٹس میں ساتویں اور آٹھویں پوزیشن کا داغ لگ جاتا ہے۔ دوسری طرف پی ایچ ایف حکام کھیلوں کی سیاست میں فریق بنتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت پر ہی سوالیہ نشان لگا چکے ہیں۔
آئندہ سال گلاسگو میں ہونے والے کھیلوں کے آرگنائزرز عارف حسن گروپ کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہاکی فیڈریشن اسی کے توسط سے نام بھجوائے۔ دوسری طرف حکام کا اصرار ہے کہ جس باڈی کو حکومت تسلیم نہیں کرتی وہ اس کے در پر کیوں جائیں، معاملات بدستور ہوا میں معلق ہیں۔
دوسری طرف قومی ہاکی ٹیم رہی سہی ساکھ پچانے کے آخری موقع کی صورت اختیار کرجانے والے ایشیا کپ کی مہم پر روانہ ہونے کے لئے تیار ہے۔ لاہور میں طویل ترین تربیتی کیمپ کے بعد 18 رکنی سکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے ایک بار پھر تجربہ کار کھلاڑیوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گول کیپر سلمان اکبر کو 2 سال بعد واپسی کا موقع فراہم کرتے ہوئے ان کی جگہ بنانے کے لئے عمران شاہ کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ورلڈ ہاکی لیگ کے دوران انتہائی ناقص کارکردگی میں برابر کے حصہ دار اور ٹیم کے خلاف ہونے والے 15 میں سے 11 گول کھانے والے عمران بٹ کو برقرار رکھا گیا ہے۔
ہیڈ کوچ اختر رسول اور ان کے معاون طاہر زمان کا کہنا ہے کہ مجموعی کارکردگی اور ٹمپرامنٹ کی بنیاد پر عمران بٹ کو ترجیح دی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرفارمنس کی جانچ کا معیار کس ایونٹ سے وضع کیا گیا اور ٹمپرامنٹ ماپنے کا پیمانہ کون سا تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ اثر و رسوخ سے کروایا گیا۔ محمد رضوان سینئر انجری کی وجہ سے ملائشیا کا ٹکٹ نہیں حاصل کرپائے۔ محمد عتیق کو ڈراپ کرکے فٹنس ثابت کرنے پر سینئر کھلاڑی وسیم احمد کو بطور فل بیک سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ عباس حیدر کی جگہ محمد رضوان جونیئر کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا جبکہ جونیئر ٹیم کے عمدہ پرفارمر محمد دلبر بھی مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ایک اور سینئر شکیل عباسی کو بھی سکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔
ورلڈ ہاکی لیگ میں صرف وکٹری سٹینڈ پر آنے کی صورت میں پاکستان ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرجاتا لیکن کارکردگی میں عدم تسلسل کی وجہ سے اہم موقعوں پر کمزور کھیل نے مہم کو بری طرح ناکام کیا۔ روایتی انداز میں ایک بار پھر خامیاں دور کرکے نئے عزم کے ساتھ ایشیا کپ کیلئے جان لڑانے کے دعوے کیے گئے۔ نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں تربیتی کیمپ کے دوران ویڈیوز کی مدد سے حکمت عملی بنانے، کھلاڑیوں کو مختلف ڈرلز کے ذریعہ حریف ٹیموں کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنے کی باتیں بہت کی گئیں، ٹرینر اور نیوٹریشن رانا غضنفر بھی پلیئرز کی فٹنس پر کام کرتے نظر آئے لیکن میدان میں عملی مظاہرہ ہی ثابت کرے گا کہ اس کٹھن امتحان میں سرخرو ہونے کے کس قدر امکانات موجود ہیں۔
24 اگست سے ملائشیا میں شروع ہونے والے ایونٹ کے پول اے میں پاکستان کے ساتھ ملائشیا، جاپان اور چائنیز تائپے جیسی ٹیمیں شامل ہوں گی، اگر گرین شرٹس کامیاب ہوگئے تو انہیں دوسرے پول میں شامل کوریا، بھارت، اومان اور بنگلہ دیش میں سے ٹاپ سائیڈز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ملائشیا اور جاپان کے بعد کوریا اور بھارت جیسی ٹیموں کو بھی زیر کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔
بڑے میچوں میں بڑی غلطیاں کرنے کے عادی کھلاڑیوں نے کئی بار جیتی ہوئی بازی ہارنے کے بعد اپنا سفر دشوار کیا ہے، اس بار دفاع کا شعبہ مضبوط کرنے کے لئے وسیم احمد کو فل بیک کی اہم ذمہ داری سونپنے کے ساتھ گول کیپنگ میں سلمان اکبر کو اعتماد کے قابل سمجھا گیا ہے لیکن جب تک ٹیم کمبی نیشن حریف ٹیموں کی حکمت عملی کا توڑ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا دفاعی کھلاڑیوں کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی نہ کرنے کی رسوائی سے بچنا اہم ترین چیلنج ہے۔اس صوتحال میں پاکستان کے ایشیا کپ جیتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں، اس مشن میں ناکامی کے بعد بدلتی حکومتوں میں بھی مستقل مزاجی کے ساتھ عہدوں پر قابض رہنے والے حکام کے پاس یہ کہنے کا موقع بھی باقی نہیں رہے گا کہ آئندہ ایونٹ میں خامیاں دور کرکے نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
abbas.raza@express.com.pk
مستقل مزاج بیوروکریسی کی طرح ایسے افراد ہر حکومتی ایوان کی ضرورت بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں سپورٹس تنظیموں کا بھی یہی حال ہے، بے شمار عہدیدار ایسے ہیں کہ ملک میں آنے والی اعلیٰ سطحی تبدیلیاں بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتیں، ان کے عہدے بدلتے ہیں نہ ملک میں کھیلوں کی تقدیر بدلتی ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا تنازع اس کی تازہ مثال ہے۔ عارف حسن گروپ کو آئی او سی کی حمایت حاصل ہے تو اکرم ساہی گروپ حکومت کی نظروں میں لیگل باڈی قرار پائی۔ ملک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ نئے سربراہ کی نامزدگی کے بعد بین الصوبائی رابطہ کی وزارت ہی اس ضمن میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے کھیلوں کو بحرانی صورتحال سے نکالے گی مگر تاحال پراسرار خاموشی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ وہی پرانے چہرے روایتی محاذ آرائی میں مصروف اور ایک بار پھر اقتدار کے مزے لوٹنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
قومی کھیل کے فروغ کی ذمہ دار پاکستان ہاکی فیڈریشن بھی اس رجحان میں پیش پیش نظر آتی ہے، ٹیم مسلسل زوال کی طرف گامزن ہے۔ ایک دو مواقع پر اچھی کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے تو بڑے ایونٹس میں ساتویں اور آٹھویں پوزیشن کا داغ لگ جاتا ہے۔ دوسری طرف پی ایچ ایف حکام کھیلوں کی سیاست میں فریق بنتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت پر ہی سوالیہ نشان لگا چکے ہیں۔
آئندہ سال گلاسگو میں ہونے والے کھیلوں کے آرگنائزرز عارف حسن گروپ کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہاکی فیڈریشن اسی کے توسط سے نام بھجوائے۔ دوسری طرف حکام کا اصرار ہے کہ جس باڈی کو حکومت تسلیم نہیں کرتی وہ اس کے در پر کیوں جائیں، معاملات بدستور ہوا میں معلق ہیں۔
دوسری طرف قومی ہاکی ٹیم رہی سہی ساکھ پچانے کے آخری موقع کی صورت اختیار کرجانے والے ایشیا کپ کی مہم پر روانہ ہونے کے لئے تیار ہے۔ لاہور میں طویل ترین تربیتی کیمپ کے بعد 18 رکنی سکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے ایک بار پھر تجربہ کار کھلاڑیوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گول کیپر سلمان اکبر کو 2 سال بعد واپسی کا موقع فراہم کرتے ہوئے ان کی جگہ بنانے کے لئے عمران شاہ کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ورلڈ ہاکی لیگ کے دوران انتہائی ناقص کارکردگی میں برابر کے حصہ دار اور ٹیم کے خلاف ہونے والے 15 میں سے 11 گول کھانے والے عمران بٹ کو برقرار رکھا گیا ہے۔
ہیڈ کوچ اختر رسول اور ان کے معاون طاہر زمان کا کہنا ہے کہ مجموعی کارکردگی اور ٹمپرامنٹ کی بنیاد پر عمران بٹ کو ترجیح دی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرفارمنس کی جانچ کا معیار کس ایونٹ سے وضع کیا گیا اور ٹمپرامنٹ ماپنے کا پیمانہ کون سا تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ اثر و رسوخ سے کروایا گیا۔ محمد رضوان سینئر انجری کی وجہ سے ملائشیا کا ٹکٹ نہیں حاصل کرپائے۔ محمد عتیق کو ڈراپ کرکے فٹنس ثابت کرنے پر سینئر کھلاڑی وسیم احمد کو بطور فل بیک سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ عباس حیدر کی جگہ محمد رضوان جونیئر کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا جبکہ جونیئر ٹیم کے عمدہ پرفارمر محمد دلبر بھی مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ایک اور سینئر شکیل عباسی کو بھی سکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔
ورلڈ ہاکی لیگ میں صرف وکٹری سٹینڈ پر آنے کی صورت میں پاکستان ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرجاتا لیکن کارکردگی میں عدم تسلسل کی وجہ سے اہم موقعوں پر کمزور کھیل نے مہم کو بری طرح ناکام کیا۔ روایتی انداز میں ایک بار پھر خامیاں دور کرکے نئے عزم کے ساتھ ایشیا کپ کیلئے جان لڑانے کے دعوے کیے گئے۔ نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں تربیتی کیمپ کے دوران ویڈیوز کی مدد سے حکمت عملی بنانے، کھلاڑیوں کو مختلف ڈرلز کے ذریعہ حریف ٹیموں کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنے کی باتیں بہت کی گئیں، ٹرینر اور نیوٹریشن رانا غضنفر بھی پلیئرز کی فٹنس پر کام کرتے نظر آئے لیکن میدان میں عملی مظاہرہ ہی ثابت کرے گا کہ اس کٹھن امتحان میں سرخرو ہونے کے کس قدر امکانات موجود ہیں۔
24 اگست سے ملائشیا میں شروع ہونے والے ایونٹ کے پول اے میں پاکستان کے ساتھ ملائشیا، جاپان اور چائنیز تائپے جیسی ٹیمیں شامل ہوں گی، اگر گرین شرٹس کامیاب ہوگئے تو انہیں دوسرے پول میں شامل کوریا، بھارت، اومان اور بنگلہ دیش میں سے ٹاپ سائیڈز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ملائشیا اور جاپان کے بعد کوریا اور بھارت جیسی ٹیموں کو بھی زیر کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔
بڑے میچوں میں بڑی غلطیاں کرنے کے عادی کھلاڑیوں نے کئی بار جیتی ہوئی بازی ہارنے کے بعد اپنا سفر دشوار کیا ہے، اس بار دفاع کا شعبہ مضبوط کرنے کے لئے وسیم احمد کو فل بیک کی اہم ذمہ داری سونپنے کے ساتھ گول کیپنگ میں سلمان اکبر کو اعتماد کے قابل سمجھا گیا ہے لیکن جب تک ٹیم کمبی نیشن حریف ٹیموں کی حکمت عملی کا توڑ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا دفاعی کھلاڑیوں کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی نہ کرنے کی رسوائی سے بچنا اہم ترین چیلنج ہے۔اس صوتحال میں پاکستان کے ایشیا کپ جیتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں، اس مشن میں ناکامی کے بعد بدلتی حکومتوں میں بھی مستقل مزاجی کے ساتھ عہدوں پر قابض رہنے والے حکام کے پاس یہ کہنے کا موقع بھی باقی نہیں رہے گا کہ آئندہ ایونٹ میں خامیاں دور کرکے نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
abbas.raza@express.com.pk