تمام خالی نشستوں پرضمنی انتخابات 22اگست کو ہی ہوں گےالیکشن کمیشن
پولنگ اسٹیشن پر پریزائڈنگ آفیسر کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے افسر کو بھی میجسٹریٹ کے اختیارات ہوں گے، سیکریٹری الیکشن کمیشن
چند حلقوں میں خدشات کے علاوہ 11 مئی کے انتخابات کی شفافیت کو سب نے تسلیم کیا ہے، قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق جیلانی۔ فوٹو: آن لائن
KARACHI:
الیکشن کمیشن نے دہشتگردی اور سیلاب کے باوجود تمام خالی نشستوں پر 22 اگست کو ضمنی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین گیلانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے اجلاس میں چاروں صوبائی چیف الیکشن کمشنرز، چیف سیکرٹریز،سیکریٹری دفاع آصف یاسین ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، چیرمین این ڈی ایم اے اور چیرمین نادرا نے شرکت کی، اجلاس میں بریفنگ کے دوران سیکریٹری دفاع آصف یاسین کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر ضمنی انتخاب ملتوی کردیا جائے جبکہ سیلاب کے باعث جھل مگسی میں بھی انتخاب کے التوا کا معاملہ زیر غور آیا، محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ضمنی انتخابات مون سون بارشوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق جیلانی نےکہا کہ چند حلقوں میں خدشات کے علاوہ 11 مئی کے انتخابات کی شفافیت کو سب نے تسلیم کیا ہے سیلاب کے باعث فوج ریڈ الرٹ پر ہے اس لئے ضمنی انتخابات میں پاک فوج کی جانب سے مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے بتایا کہ جھل مگسی میں سیلاب کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور مقامی انتظامیہ سے بات کرنے پر پتہ شلا کہ سیلاب سے حلقے کے 4 پولنگ اسٹیشنز متاثر ہوئے ہیں جس کے لئے متبادل انتطامات کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ضمنی انتخاب کے دوران دہشتگردی کے خدشے کے پیش نظر اس حلقے کے امیدواروں سے مشاورت کی گئی جنہوں نے انتخابات کے انعقاد پر زور دیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے 42 انتخابی حلقوں میں 22 اگست کو ضمنی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔
اشتیاق احمد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر فوج کو تعینات کیا جائے۔ 22 اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 42 حلقوں میں ضمنی انتخابات کےلئے 7606 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے جن میں 3ہزار 80 نارمل جبکہ حساس 2ہزار 686 حساس اور ایک ہزار 840 انتہائی حساس ہیں۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ حساس میں پولنگ اسٹیشنز کے باہر جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز میں اندر اور باہر پاک فوج کے اہلکار تعینات ہوں گے ۔ اس کے علاوہ پریزائڈنگ آفیسر کے ساتھ ساتھ وہاں سیکیورٹی پر معمور کمیشنڈ آرمی افسر کو بھی میجسٹریٹ کے اختیار دیئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا غلط کام نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج وقت پر آنے شروع ہوجائیں تاکہ نتائج پر کسی بھی قسم کا سوال نہ اٹھایا جاسکے۔
الیکشن کمیشن نے دہشتگردی اور سیلاب کے باوجود تمام خالی نشستوں پر 22 اگست کو ضمنی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین گیلانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے اجلاس میں چاروں صوبائی چیف الیکشن کمشنرز، چیف سیکرٹریز،سیکریٹری دفاع آصف یاسین ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، چیرمین این ڈی ایم اے اور چیرمین نادرا نے شرکت کی، اجلاس میں بریفنگ کے دوران سیکریٹری دفاع آصف یاسین کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر ضمنی انتخاب ملتوی کردیا جائے جبکہ سیلاب کے باعث جھل مگسی میں بھی انتخاب کے التوا کا معاملہ زیر غور آیا، محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ضمنی انتخابات مون سون بارشوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔
قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق جیلانی نےکہا کہ چند حلقوں میں خدشات کے علاوہ 11 مئی کے انتخابات کی شفافیت کو سب نے تسلیم کیا ہے سیلاب کے باعث فوج ریڈ الرٹ پر ہے اس لئے ضمنی انتخابات میں پاک فوج کی جانب سے مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے بتایا کہ جھل مگسی میں سیلاب کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور مقامی انتظامیہ سے بات کرنے پر پتہ شلا کہ سیلاب سے حلقے کے 4 پولنگ اسٹیشنز متاثر ہوئے ہیں جس کے لئے متبادل انتطامات کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ضمنی انتخاب کے دوران دہشتگردی کے خدشے کے پیش نظر اس حلقے کے امیدواروں سے مشاورت کی گئی جنہوں نے انتخابات کے انعقاد پر زور دیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے 42 انتخابی حلقوں میں 22 اگست کو ضمنی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔
اشتیاق احمد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر فوج کو تعینات کیا جائے۔ 22 اگست کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 42 حلقوں میں ضمنی انتخابات کےلئے 7606 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے جن میں 3ہزار 80 نارمل جبکہ حساس 2ہزار 686 حساس اور ایک ہزار 840 انتہائی حساس ہیں۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ حساس میں پولنگ اسٹیشنز کے باہر جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز میں اندر اور باہر پاک فوج کے اہلکار تعینات ہوں گے ۔ اس کے علاوہ پریزائڈنگ آفیسر کے ساتھ ساتھ وہاں سیکیورٹی پر معمور کمیشنڈ آرمی افسر کو بھی میجسٹریٹ کے اختیار دیئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا غلط کام نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج وقت پر آنے شروع ہوجائیں تاکہ نتائج پر کسی بھی قسم کا سوال نہ اٹھایا جاسکے۔