شہر میں ڈنگی وائرس سے مزید17افراد متاثر سرکاری اسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم نہ ہو سکے
روزانہ درجنوں افراد اسپتال لائے جانے لگے،برساتی پانی اور کچرے کے ڈھیروں کی صفائی نہ ہوسکی
ڈنگی وائرس پر کنٹرول کے لیے قائم کیے گئے ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق مزید 17 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوگئے ہیں. فوٹو: فائل
شہر میں مون سون کی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والے حشرات میں ڈنگی وائرس کا سبب بننے والے مچھروں کی افزائش بھی بڑے پیمانے پر ہورہی ہے جس کے باعث روزانہ ڈنگی وائرس میں مبتلا درجنوں مریض اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کرائے جارہے ہیں۔
شہر کے کئی علاقوں میں کھڑے برساتی پانی اور کچرے کے ڈھیروں کی صفائی نہیں ہوسکی جس کے باعث ڈنگی وائرس کے علاوہ دیگر وبائی بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے جبکہ ڈنگی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، سرکاری اسپتالوں میں اب تک مریضوں کے لیے آئیسولیشن وارڈ قائم ہوسکے اور نہ ہی پلیٹ لیٹ کی وافر مقدار مریضوں کے لیے موجود ہے متاثرہ افراد کے رشتہ دار پلیٹ لیٹ کے حصول کے لیے لیباریٹریوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولیات ناپید ہونے سے تیماردار اپنے مریضوں کو نجی اسپتال منتقل کررہے ہیں۔
ڈنگی وائرس پر کنٹرول کے لیے قائم کیے گئے ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق مزید 17 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوگئے ہیں اور اب تک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 728 ہوگئی ہے،ماہرین طب نے بلدیہ عظمی کراچی اور محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر جراثیم کش اسپرے مہم شروع کی جائے،ڈنگی وائرس کا علاج نجی اسپتالوں میں مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب عوام کی دسترس سے باہر ہے ،لہٰذامحکمہ صحت متاثرہ مریضوں کو پلیٹ لیٹ کی فراہمی اور تشخیصی مراکز میں سہولتیں فراہم کرے۔
شہر کے کئی علاقوں میں کھڑے برساتی پانی اور کچرے کے ڈھیروں کی صفائی نہیں ہوسکی جس کے باعث ڈنگی وائرس کے علاوہ دیگر وبائی بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے جبکہ ڈنگی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، سرکاری اسپتالوں میں اب تک مریضوں کے لیے آئیسولیشن وارڈ قائم ہوسکے اور نہ ہی پلیٹ لیٹ کی وافر مقدار مریضوں کے لیے موجود ہے متاثرہ افراد کے رشتہ دار پلیٹ لیٹ کے حصول کے لیے لیباریٹریوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولیات ناپید ہونے سے تیماردار اپنے مریضوں کو نجی اسپتال منتقل کررہے ہیں۔
ڈنگی وائرس پر کنٹرول کے لیے قائم کیے گئے ڈنگی سرویلنس سیل کے مطابق مزید 17 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوگئے ہیں اور اب تک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 728 ہوگئی ہے،ماہرین طب نے بلدیہ عظمی کراچی اور محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر جراثیم کش اسپرے مہم شروع کی جائے،ڈنگی وائرس کا علاج نجی اسپتالوں میں مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب عوام کی دسترس سے باہر ہے ،لہٰذامحکمہ صحت متاثرہ مریضوں کو پلیٹ لیٹ کی فراہمی اور تشخیصی مراکز میں سہولتیں فراہم کرے۔