ڈاکٹر کے بیٹے کا اغوا پی ایم سی اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث21مریض جاں بحق
ہلاک شدگان میں 5 بچے بھی شامل ، 200 آپریشن منسوخ، ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی دھمکی دے دی
ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی نواب شاہ سمیت تمام افسران اپنے اپنے بنگلوں پر آرام فرما رہے ہیں اور پولیس افسران نے صحافیوں کی ٹیلی فون کالز وصول کرنی بھی بند کردی ہے.
پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس شیخ کا بیٹا بازیاب نہ ہو سکا، پولیس نے بازیابی کی کوششیں بند کر دیں.
ڈاکٹروں کا احتجاج جاری، پی ایم سی اسپتال میں ڈاکٹروں کے ہڑتال کے باعث21 مریض جاں بحق ہوگئے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتال میں داخل مریضوں کے200 آپریشن بھی منسوخ ۔ مریضوں کی حالت خراب، ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ کے ڈین و قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس شیخ کے بیٹے کے اغوا کو 5 روز گزر گئے مگر پولیس بازیاب کرانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی نواب شاہ سمیت تمام افسران اپنے اپنے بنگلوں پر آرام فرما رہے ہیں اور پولیس افسران نے صحافیوں کی ٹیلی فون کالز وصول کرنی بھی بند کردی ہے دوسری جانب ڈاکٹر شمس شیخ کا خاندان شدید اذیت و پریشانی میں مبتلا ہے، بچے کی عدم بازیابی پر ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی نے ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔
ہڑتال کے باعث پیپلز میڈیکل کالج اسپتال میں 21 سے زائد مریض تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ رابطہ کرنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہاشم لانگاہ نے21 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اب تک 160مریضٰں کے آپریشن منسوخ کیے گئے ہیں، اسپتال میں صرف ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دی جارہی ہے، دوسری جانب کیمسٹ یونین کی بھی ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے شہر بھر کے میڈیکل اسٹورز بند ہیں.
پتھالوجی لیبارٹریاں اور ڈاکٹروں کے نجی کلینک بھی بند ہیں، ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی نے منگل کی صبح اسپتال میں احتجاجی کیمپ قائم کیاجس میں ڈاکٹر عبدالقیوم میمن، ڈاکٹر سلیم فیض، ڈاکٹر محمد علی سہیل، ڈاکٹر صالح، ڈاکٹر اسحاق، ڈاکٹر ہاشم لانگاہ، کیمسٹ یونین کے شکیل راجپوت، ذوالفقار آرائیں، فارما کلب کے مشرف کمال، خالد جیلانی، ستار سومرو، قادر بخش منگی، اسلم آرائیں، پیرامیڈیکل اسٹاف کے سلیم بھٹی، اکبر شاہ، ساون سندھی اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا کہ یرغمال بچے کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔
ڈاکٹروں کا احتجاج جاری، پی ایم سی اسپتال میں ڈاکٹروں کے ہڑتال کے باعث21 مریض جاں بحق ہوگئے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتال میں داخل مریضوں کے200 آپریشن بھی منسوخ ۔ مریضوں کی حالت خراب، ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ کے ڈین و قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس شیخ کے بیٹے کے اغوا کو 5 روز گزر گئے مگر پولیس بازیاب کرانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی نواب شاہ سمیت تمام افسران اپنے اپنے بنگلوں پر آرام فرما رہے ہیں اور پولیس افسران نے صحافیوں کی ٹیلی فون کالز وصول کرنی بھی بند کردی ہے دوسری جانب ڈاکٹر شمس شیخ کا خاندان شدید اذیت و پریشانی میں مبتلا ہے، بچے کی عدم بازیابی پر ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی نے ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔
ہڑتال کے باعث پیپلز میڈیکل کالج اسپتال میں 21 سے زائد مریض تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ رابطہ کرنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہاشم لانگاہ نے21 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اب تک 160مریضٰں کے آپریشن منسوخ کیے گئے ہیں، اسپتال میں صرف ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دی جارہی ہے، دوسری جانب کیمسٹ یونین کی بھی ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے شہر بھر کے میڈیکل اسٹورز بند ہیں.
پتھالوجی لیبارٹریاں اور ڈاکٹروں کے نجی کلینک بھی بند ہیں، ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی نے منگل کی صبح اسپتال میں احتجاجی کیمپ قائم کیاجس میں ڈاکٹر عبدالقیوم میمن، ڈاکٹر سلیم فیض، ڈاکٹر محمد علی سہیل، ڈاکٹر صالح، ڈاکٹر اسحاق، ڈاکٹر ہاشم لانگاہ، کیمسٹ یونین کے شکیل راجپوت، ذوالفقار آرائیں، فارما کلب کے مشرف کمال، خالد جیلانی، ستار سومرو، قادر بخش منگی، اسلم آرائیں، پیرامیڈیکل اسٹاف کے سلیم بھٹی، اکبر شاہ، ساون سندھی اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا کہ یرغمال بچے کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔