دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں
دہشتگردی پاکستان کا اولین حل طلب مسئلہ ہے جو ماضی کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔
دہشت گردوں کا تعاقب سائے کی طرح کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی سرگرم عمل ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستانی قوم اس وقت دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے، دہشتگردی پاکستان کا اولین حل طلب مسئلہ ہے جو ماضی کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ لیکن سلام ہے پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کو وہ انتہا پسندوں کے خلاف ڈٹ گئے ہیں اور ہزاروں جانیں نچھاور کر چکے ہیں لیکن ان کے عزم و حوصلے میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب دہشت گردوں کا تعاقب سائے کی طرح کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی سرگرم عمل ہیں، جو اپنی جانوں پر کھیل کر مادر وطن کی حفاظت اور دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں۔
شدت پسند عناصر کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ یہ ہمارے اندر موجود ہیں اور غیرملکی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اسی حوالے سے منگل کو ایک کامیابی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملی ہے جس میں لاہور کے علاقے گرین ٹائون میں القاعدہ تنظیم کے لیے کام کرنے والے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانے گیٹ وے منی ایکسچینج پر چھاپہ مار کر ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، ٹی وی، جعلی سمیں، موبائل فونز و دیگر جدید آلات برآمد کر لیے گئے، دہشت گردوں نے اپنا سیٹلائیٹ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، گرفتار ہونے والوں کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا گیا ہے جب کہ ملزمان کوٹ لکھپت جیل سمیت دیگر اہم عمارتوں میں دہشت گردی کی واردات کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، ملزمان تاجروں کو اغوا کر کے ان سے بھاری تاوان حاصل کرنا چاہتے تھے۔
خبر کے مندرجات پڑھنے کے بعد یہ اندازہ کرنا کسی کے لیے مشکل نہیں کہ روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر انتہا پسند گروہ جدید ٹیکنالوجی پر مکمل عبور اور اس کا منفی استعمال کرنا خوب جانتے ہیں، ان کے نیٹ ورک کے توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ہر محاذ پر شکست دی جائے۔ اسی حوالے سے گزشتہ دور حکومت میں موبائل فون ڈیوائس سے بم دھماکوں سے جانی نقصان کو روکنے کے لیے ملک بھر میں اہم دنوں اور تہواروں پر موبائل سروس معطل کر دی جاتی تھی۔
دہشتگردی کی وارداتوں میں ملزمان غیر رجسٹرڈ سمیں استعمال کرتے ہیں اور پی ٹی اے کی واضح ہدایات کے باوجود یہ سمیں سرعام فروخت ہوتی ہیں جس کے بعد ازاں سنگین اور بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک اور خوش کن خبر بھی اہل پاکستان کو ملی ہے جس کے مطابق فرنٹیئر کور نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی میں کوئٹہ کے علاقے فاروق اعظم چوک سیٹلائٹ ٹائون کے ایک گودام سے 100 ٹن یعنی ایک لاکھ چار ہزار584 کلوگرام دھماکا خیز مواد،20 ہزار تیار بم اور دیگر مواد برآمد کر کے8 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے کوئٹہ کو تباہی کے خوفناک منصوبے سے بچا لیا۔
جس میں 20 ہزار کلو گرام کے دیسی ساختہ بموں کے تیار مواد کو صرف فیوز لگا کر ہزارہ ٹائون میں ہونے والے خودکش ٹینکر دھماکے جیسے ایک سو سے زائد دھماکے کیے جا سکتے تھے جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔ زندہ قوموں پر آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں اور وہ اس میں سرخرو ہوتی ہیں۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جس میں بالٓاخر انتہا پسندوں کو شکست اور عوام کو فتح حاصل ہو گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک واضح قومی پالیسی اور قانون نافذ کرنیوالے تمام حساس اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط و فعال روابط کا ہونا لازمی امر ہے تا کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ کر اس عفریت کا سر کچلا جائے۔
شدت پسند عناصر کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ یہ ہمارے اندر موجود ہیں اور غیرملکی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اسی حوالے سے منگل کو ایک کامیابی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملی ہے جس میں لاہور کے علاقے گرین ٹائون میں القاعدہ تنظیم کے لیے کام کرنے والے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانے گیٹ وے منی ایکسچینج پر چھاپہ مار کر ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، ٹی وی، جعلی سمیں، موبائل فونز و دیگر جدید آلات برآمد کر لیے گئے، دہشت گردوں نے اپنا سیٹلائیٹ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، گرفتار ہونے والوں کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا گیا ہے جب کہ ملزمان کوٹ لکھپت جیل سمیت دیگر اہم عمارتوں میں دہشت گردی کی واردات کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، ملزمان تاجروں کو اغوا کر کے ان سے بھاری تاوان حاصل کرنا چاہتے تھے۔
خبر کے مندرجات پڑھنے کے بعد یہ اندازہ کرنا کسی کے لیے مشکل نہیں کہ روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر انتہا پسند گروہ جدید ٹیکنالوجی پر مکمل عبور اور اس کا منفی استعمال کرنا خوب جانتے ہیں، ان کے نیٹ ورک کے توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ہر محاذ پر شکست دی جائے۔ اسی حوالے سے گزشتہ دور حکومت میں موبائل فون ڈیوائس سے بم دھماکوں سے جانی نقصان کو روکنے کے لیے ملک بھر میں اہم دنوں اور تہواروں پر موبائل سروس معطل کر دی جاتی تھی۔
دہشتگردی کی وارداتوں میں ملزمان غیر رجسٹرڈ سمیں استعمال کرتے ہیں اور پی ٹی اے کی واضح ہدایات کے باوجود یہ سمیں سرعام فروخت ہوتی ہیں جس کے بعد ازاں سنگین اور بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک اور خوش کن خبر بھی اہل پاکستان کو ملی ہے جس کے مطابق فرنٹیئر کور نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی میں کوئٹہ کے علاقے فاروق اعظم چوک سیٹلائٹ ٹائون کے ایک گودام سے 100 ٹن یعنی ایک لاکھ چار ہزار584 کلوگرام دھماکا خیز مواد،20 ہزار تیار بم اور دیگر مواد برآمد کر کے8 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے کوئٹہ کو تباہی کے خوفناک منصوبے سے بچا لیا۔
جس میں 20 ہزار کلو گرام کے دیسی ساختہ بموں کے تیار مواد کو صرف فیوز لگا کر ہزارہ ٹائون میں ہونے والے خودکش ٹینکر دھماکے جیسے ایک سو سے زائد دھماکے کیے جا سکتے تھے جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔ زندہ قوموں پر آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں اور وہ اس میں سرخرو ہوتی ہیں۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جس میں بالٓاخر انتہا پسندوں کو شکست اور عوام کو فتح حاصل ہو گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک واضح قومی پالیسی اور قانون نافذ کرنیوالے تمام حساس اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط و فعال روابط کا ہونا لازمی امر ہے تا کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ کر اس عفریت کا سر کچلا جائے۔