جماعت اسلامی نے بھی نئے بلدیاتی بل کو مسترد کر دیا
سندھ حکومت سے صوبہ نہیں سنبھل رہا،اب بلدیاتی اختیارات بھی اپنے نام کر لیے
بل ے بارے میں نہ عوام کومعلوم ہے اور نہ اسمبلی سے بل پاس کرانے والے نمائندوں کو۔ فوٹو: فائل
جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے امیر شیخ شوکت علی اور جنرل سیکریٹری حافظ طاہرمجید راجپوت نے نئے بلدیاتی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت سے صوبہ نہیں سنبھل رہا۔
بلدیاتی بل کے ذریعے بلدیاتی اختیارات بھی اپنے نام کر لیے ہیں۔ سندھ اسمبلی سے بلدیاتی بل کی منظوری بلدیہ کے اختیارات صوبے کے کنٹرول میں دینا ہے۔ اختیارات کی اس جنگ میں عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے بلدیاتی بل کی منظوری کا سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عوام کو ہوگا۔ بلدیاتی کام کے لیے اب شہریوں کو صوبائی حکومت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اختیارات کے بغیر بلدیہ کیا کام کرے گی یا اختیارات کے بغیر اس کی کیا ذمہ داری ہوگی۔
یہ نہ عوام کومعلوم ہے اور نہ اسمبلی سے بل پاس کرانے والے نمائندوں کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختیارات کی جنگ میں بلدیاتی بل کو مسلسل مذاق بنایا ہوا ہے۔ بل کا اجرا کرنا، پھر کچھ دنوں بعد واپس لینا مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔ مہذب ممالک میں مہذب قوانین بنائے جاتے ہیں، عوام کے اکثر مسائل کا تعلق بلدیات سے متعلق ہوتا ہے، اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں مسائل کے بہتر حل کے لیے اختیارات نچلی سطح پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اختیارات کا اِرتکاز آمریت کو پروان چڑھاتا ہے، جس سے عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں تاخیر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں بلدیاتی بل کی منظوری سے صوبائی حکومت نے نچلی سطح کے اختیارات کی ذمے داری اٹھا کر فاش غلطی کی ہے، اب بلدیاتی مسائل حل نہ ہونے کی ذمے داری بھی اسی پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صوبے کے نئے بلدیاتی بل کی اصولی پر مخالفت کرتی ہے اور صوبائی حکومت کومشورہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ اور ہمارے مزاج کے مطابق ممالک کے بلدیاتی نظام کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد صوبے کے لیے بہترین بلدیاتی نظام منظور کرائیں۔
بلدیاتی بل کے ذریعے بلدیاتی اختیارات بھی اپنے نام کر لیے ہیں۔ سندھ اسمبلی سے بلدیاتی بل کی منظوری بلدیہ کے اختیارات صوبے کے کنٹرول میں دینا ہے۔ اختیارات کی اس جنگ میں عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے بلدیاتی بل کی منظوری کا سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عوام کو ہوگا۔ بلدیاتی کام کے لیے اب شہریوں کو صوبائی حکومت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اختیارات کے بغیر بلدیہ کیا کام کرے گی یا اختیارات کے بغیر اس کی کیا ذمہ داری ہوگی۔
یہ نہ عوام کومعلوم ہے اور نہ اسمبلی سے بل پاس کرانے والے نمائندوں کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختیارات کی جنگ میں بلدیاتی بل کو مسلسل مذاق بنایا ہوا ہے۔ بل کا اجرا کرنا، پھر کچھ دنوں بعد واپس لینا مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔ مہذب ممالک میں مہذب قوانین بنائے جاتے ہیں، عوام کے اکثر مسائل کا تعلق بلدیات سے متعلق ہوتا ہے، اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں مسائل کے بہتر حل کے لیے اختیارات نچلی سطح پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اختیارات کا اِرتکاز آمریت کو پروان چڑھاتا ہے، جس سے عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں تاخیر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں بلدیاتی بل کی منظوری سے صوبائی حکومت نے نچلی سطح کے اختیارات کی ذمے داری اٹھا کر فاش غلطی کی ہے، اب بلدیاتی مسائل حل نہ ہونے کی ذمے داری بھی اسی پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صوبے کے نئے بلدیاتی بل کی اصولی پر مخالفت کرتی ہے اور صوبائی حکومت کومشورہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ اور ہمارے مزاج کے مطابق ممالک کے بلدیاتی نظام کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد صوبے کے لیے بہترین بلدیاتی نظام منظور کرائیں۔