ٹنڈو الہیار سہ روزہ پولیو مہم کے دوران سیکڑوں بچے قطرے پینے سے محروم
تعلقہ جھنڈو مری میں 37، چمبڑ22 اور ٹنڈوالٰہیار کے 92 بچے شامل ہیں، فکسڈ اور ٹرانزٹ پوائنٹس سے پولیس غائب
تعلقہ جھنڈو مری 37، چمبڑ22 اور ٹنڈوالٰہیار میں 92 بچوں کو قطرے نہ پلائے جاسکے۔ فوٹو: فائل
ضلع ٹنڈوالٰہیار میں سہ روزہ پولیو مہم کے دران سیکڑوں بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے۔
تعلقہ جھنڈو مری 37، چمبڑ22 اور ٹنڈوالٰہیار میں 92 بچوں کو قطرے نہ پلائے جاسکے۔ فکسڈ اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر پہلے روز تو پولیس نفری دیکھی گئی جبکہ بقیہ دنوں میں پولیس غائب رہی، عملے کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔ محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ بچے انکاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ٹنڈوالٰہیار میں بھی 19، 20 ور 21 تاریخوں تک سہ روزہ پولیو مہم پہلے روز ہی عملہ مختلف پوائنٹوں پر تاخیر سے پہنچا جبکہ پولیس کے جوان عملے کے ہمراہ پہلے روز تو نظر آئے جبکہ 20 اور 21 کو پولیس کے جوان پوائنٹوں سے غائب رہے ۔
جس پر فوکل پرسن اور ایریا منیجر متعلقہ آفیسرز اور ڈی ایچ او کو شکایت کرتے رہے، پولیو ٹیم کے ارکان میں شامل ورکروں نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ پولیس کی عدم موجودگی میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارا کام متعلقہ افسرانوں کو بتاناہے ، ضلع ٹنڈوالٰہیار کے تعلقہ چمبڑ میں 22 اور جھنڈو مری میں 37 جبکہ ٹنڈوالٰہیار میں 92 بچے پولیو کے قطرے پینے سے قاصر رہے۔
باالترتیب 151 بچوں کو قطرے نہ پلائے جاسکے۔دوسری جانب مقامی صحت کے عملداروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ بچے انکاری ہیں یعنی ٹیمیں تو گئی ہیں قطرے پلانے لیکن والدین اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔ مذکورہ سہ روزہ پولیو میں حیران کن امر یہ کہ ڈی ایچ او سمیت محکمہ صحت کے عملداروں کی ٹنڈوالٰہیار شہر میں موجودگی کے باوجود سب سے زیادہ بچے ٹنڈوالٰہیار شہر میں قطروں سے محروم رہتے ہیں۔
تعلقہ جھنڈو مری 37، چمبڑ22 اور ٹنڈوالٰہیار میں 92 بچوں کو قطرے نہ پلائے جاسکے۔ فکسڈ اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر پہلے روز تو پولیس نفری دیکھی گئی جبکہ بقیہ دنوں میں پولیس غائب رہی، عملے کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔ محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ بچے انکاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ٹنڈوالٰہیار میں بھی 19، 20 ور 21 تاریخوں تک سہ روزہ پولیو مہم پہلے روز ہی عملہ مختلف پوائنٹوں پر تاخیر سے پہنچا جبکہ پولیس کے جوان عملے کے ہمراہ پہلے روز تو نظر آئے جبکہ 20 اور 21 کو پولیس کے جوان پوائنٹوں سے غائب رہے ۔
جس پر فوکل پرسن اور ایریا منیجر متعلقہ آفیسرز اور ڈی ایچ او کو شکایت کرتے رہے، پولیو ٹیم کے ارکان میں شامل ورکروں نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ پولیس کی عدم موجودگی میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارا کام متعلقہ افسرانوں کو بتاناہے ، ضلع ٹنڈوالٰہیار کے تعلقہ چمبڑ میں 22 اور جھنڈو مری میں 37 جبکہ ٹنڈوالٰہیار میں 92 بچے پولیو کے قطرے پینے سے قاصر رہے۔
باالترتیب 151 بچوں کو قطرے نہ پلائے جاسکے۔دوسری جانب مقامی صحت کے عملداروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ بچے انکاری ہیں یعنی ٹیمیں تو گئی ہیں قطرے پلانے لیکن والدین اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔ مذکورہ سہ روزہ پولیو میں حیران کن امر یہ کہ ڈی ایچ او سمیت محکمہ صحت کے عملداروں کی ٹنڈوالٰہیار شہر میں موجودگی کے باوجود سب سے زیادہ بچے ٹنڈوالٰہیار شہر میں قطروں سے محروم رہتے ہیں۔