ملک میں بمبئی بلڈ گروپ کے 8 افراد موجود ہیں ڈاکٹر ثاقب

بمبئی بلڈ گروپ کے افراد محتاط زندگی گزاریں،بلڈگروپس کی رجسٹریشن کی جائے

ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ بمبئی بلڈ گروپ دنیا بھر میں ناپید ہے. فوٹو: فائل

پاکستان میں بمبئی بلڈگروپ کے حامل 8 افراد موجود ہیں، دنیا میں بمبئی بلڈ گروپ کی نشاندہی 1952 میں بھارتی شہر بمبئی میں ہوئی۔

لہٰذا اس بلڈ گروپ کا نام بھی بمبئی رکھا گیا،10ہزار افراد میں سے ایک فرد بمبئی بلڈ گروپ کا حامل ہوتا ہے، بمبئی بلڈ گروپ کے افراد کو محتاط اور صحت مند زندگی گزارنی چاہیے تاکہ انھیں خون کی منتقلی کا سامنا نہ کرنا پڑے، ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ بمبئی بلڈ گروپ دنیا بھر میں ناپید ہے کیونکہ اس گروپ سے وابستہ افرادکوچاہیے کہ وہ اپنے اوراپنے بچوں کا زندگی بھر بہت خیال رکھیں کیونکہ اس گروپ کے حامل افراد کو خون کی ضرورت پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔




10ہزار میں سے صرف ایک فرد کا خون بمبئی گروپ ہوتا ہے خاص کر بمبئی بلڈ گروپ کی خواتین کو دوران زچگی خون کی ضرورت پڑنے پر پیچیدگی کا سامنا ہوتا ہے،عام طورپر اے ،بی بلڈگروپ کے افراد لاتعداد ہیں لیکن او بلڈگروپ سے تعلق رکھنے والے افرادکی بھی کمی ہے جبکہ بمبئی اور پیرابمبئی گروپ ناپید ہیں،ہر فردکواپنابلڈگروپ چیک کراناچاہے تاکہ ضرورت پڑنے پر خون کا بندوبست کیا جاسکے،پاکستان میں بلڈگروپ کی رجسٹریشن کی جائے تاکہ جن لوگوں کے بلڈ گروپ ناپید ہیں انھیں ایمرجنسی میں خون مہیا کیا جاسکے ،تھیلیسیمیا کی شکار بچی کا بلڈ گروپ بمبئی ہے ۔
Load Next Story