کراچی کی زمینیں ہتھیانے کیلیے ادارے قبضہ مافیا سے مل گئے ہیں ہائیکورٹ

سیکریٹری بلدیات تجاوزات کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے مابین رابطے یقینی بنائیں،عدالت عالیہ کی ہدایت

پارک اور رفاہی مقاصد کیلیے مختص زمینوں پر بھی قبضے کیے جارہے ہیں۔فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ کراچی کی زمینیں ہتھیانے کیلیے بااختیار ادارے بھی قبضہ مافیا سے مل گئے ہیں۔

پارک اور رفاہی مقاصد کیلیے مختص زمینوں پر بھی قبضے کیے جارہے ہیں، بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کی زمینیں لاوارث ہیں جن کی حفاظت کرنیوالا کوئی نہیں، جب معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تو ادارے ایک دوسرے پر ذمے داریاں ڈال کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، آبزرویشن چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ ریمارکس کورنگی میں زمینوں پر قبضے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران دی،عدالت نے سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کیلیے متعلقہ اداروں کے مابین تعاون اور رابطوں کو یقینی بنایا جائے ،فاضل بینچ نے چیف سیکریٹری سندھ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد اور تجاوزات کے خاتمے کیلیے اقدامات کرکے4ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے۔



جمعیت دہلی پنجابی سوداگران نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ عبدالخالق اللہ والا ٹائون کورنگی میں گرلزکالج اور پارک کی زمین پر قبضہ کرکے 2000مکانات تعمیر کردیے گئے ہیں،اس ضمن میں متعلقہ اداروں کوبھی آگاہ کیا گیا مگر کسی نے قبضہ اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہیں کی،کے ایم سی کے وکیل خورشید جاوید نے بتایا کہ یہ معاملہ مختلف اداروں سے متعلق ہے جن کے مابین تعاون اور رابطے کا فقدان ہے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے تمام ندی نالوں کی فوری صفائی کا حکم دیتے ہوئے شہر کی تمام آبی گزرگاہوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے مقامی این جی او کے رہنما رانافیض الحسن کی درخواست کی سماعت کی، متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے ندی نالوں کی صفائی کا حکم دیا تھا مگر عدالتی حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا جسکی وجہ سے حالیہ بارش میں شہر کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا، درخواست میں چیف سیکریٹری،سیکریٹری خزانہ، ڈائریکٹر ماسٹر پلان، ایڈمنسٹریٹر و کمشنر کراچی، ایم ڈی ،کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈاور دیگر کو فریق بنایاگیاہے۔
Load Next Story