پولیس افسران اور اہلکاروں کی عدالتی حکم عدولی پر آئی جی کو نوٹس جاری
تھانہ گلبرگ کے انسپکٹر محمد صادق ، زاہد بخاری ، سب انسپکٹر خالد محمود ، غلام مصطفی اوردیگرمقدمات میں پیش نہیں ہوئے
شوکاز کا جواب نہ دینے اور عدالت کو مطمئن نہ کرنے پرآئی جی اور پولیس افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی
پولیس افسران واہلکاروں کی عدالتی حکم عدولی پر آئی سندھ کو شوکاز نوٹس جاری کردیے گئے۔
ڈرگ کورٹ کے چیئرمین ساتھی محمد اسحاق اور ممبرنزہت قادری نے ضابطہ فوجداری کے ایکٹ 174کے تحت آئی جی سندھ کے ماتحت ملازمین کی جانب سے مسلسل عدالتی حکم عدولی پر شوکازنوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے ، عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے ، ڈرگ کورٹ نے شوکاز نوٹس میں تحریر کیا ہے کہ ان کے ماتحت ملازمین اس وقت کے تھانہ گلبرگ کے انسپکٹر محمد صادق ، زاہد بخاری ، سب انسپکٹر خالد محمود ، غلام مصطفی ، ہیڈکانسٹیبل آصف اور عابد رضا کو متعدد بار گواہی کیلیے کورٹ میں طلب کیا تھا ۔
ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ایس ایس پی ،ڈی آئی جی کے توسط سے بھی طلب کیا اور ان کی تنخواہیں تک روکنے کے احکام جاری کیے لیکن اعلیٰ افسران نے انھیں پیش کیا اور نہ ہی گواہوں نے کورٹ میں پیش ہونے کی زحمت کی ہے، گواہوں کی عدم حاضری کے باعث ولی محمد ، محمد ندیم ، محمد شاہد ، عطا الرحمن ، محمد ہاشم ، غلام اسرار سمیت دیگر کے مقدمات 2006سے التوا کا شکار ہیں، کورٹ نے آئی جی سندھ کو متنبہ کیا ہے کہ شوکاز کا جواب نہ دینے اور کورٹ کو مطمئن نہ کرنے پر ان کے خلاف عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی۔
ڈرگ کورٹ کے چیئرمین ساتھی محمد اسحاق اور ممبرنزہت قادری نے ضابطہ فوجداری کے ایکٹ 174کے تحت آئی جی سندھ کے ماتحت ملازمین کی جانب سے مسلسل عدالتی حکم عدولی پر شوکازنوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے ، عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے ، ڈرگ کورٹ نے شوکاز نوٹس میں تحریر کیا ہے کہ ان کے ماتحت ملازمین اس وقت کے تھانہ گلبرگ کے انسپکٹر محمد صادق ، زاہد بخاری ، سب انسپکٹر خالد محمود ، غلام مصطفی ، ہیڈکانسٹیبل آصف اور عابد رضا کو متعدد بار گواہی کیلیے کورٹ میں طلب کیا تھا ۔
ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ایس ایس پی ،ڈی آئی جی کے توسط سے بھی طلب کیا اور ان کی تنخواہیں تک روکنے کے احکام جاری کیے لیکن اعلیٰ افسران نے انھیں پیش کیا اور نہ ہی گواہوں نے کورٹ میں پیش ہونے کی زحمت کی ہے، گواہوں کی عدم حاضری کے باعث ولی محمد ، محمد ندیم ، محمد شاہد ، عطا الرحمن ، محمد ہاشم ، غلام اسرار سمیت دیگر کے مقدمات 2006سے التوا کا شکار ہیں، کورٹ نے آئی جی سندھ کو متنبہ کیا ہے کہ شوکاز کا جواب نہ دینے اور کورٹ کو مطمئن نہ کرنے پر ان کے خلاف عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی۔