امریکی جنگی طیاروں کے بعد بحری بیڑہ اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرق وسطیٰ منتقل
امریکا کو صرف ایک میزائل سے تباہ کیا جا سکتا ہے، ایرانی عالم یوسف طباطبائی
بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ذریعے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم ’پیٹریاٹ‘ مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔ پینٹاگون فوٹو : فائل
امریکا نے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم پیٹریاٹ کو جنگی بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کردیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایرانی دھمکیوں کے جواب میں گزشتہ روز 'ابراہام لنکن ایئرکرافٹ کیریر اسٹرائیک گروپ' کے بی-52 ایچ اسٹریٹوفورٹریس طیارے قطر میں اپنے فوجی اڈے میں بھیجے تھے اور اب بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ذریعے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم 'پیٹریاٹ' کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔
پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی تعیناتیاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں لیکن امریکا نے ان دھمکیوں کی نوعیت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے جنگی تعیناتیاں ایران کے عالمی جوہری توانائی معاہدے 2015 کی بعض شقوں سے دستبرداری کے بعد کی گئی ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں : ایرانی دھمکیوں کے پیش نظر امریکی بمبار طیارہ قطر پہنچ گیا
ادھر ایران پہلے ہی امریکی دعوؤں کو احمقانہ اور جنگی بیڑے کی تعیناتی کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دے چکا ہے۔ سینیئر ایرانی عالم یوسف طباطبائی نے احمدی نژاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی بیڑے کو صرف ایک میزائل سے تباہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی ممکنہ حملے کے پیشِ نظر فضائی دفاع کے میزائل سسٹم 'پیٹریاٹ' کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ میزائل سسٹم بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور جدید جنگی طیاروں کی روک تھام کے لیے بنا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری توانائی 2015 کی بعض شقوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جوہری توانائی کو ایٹمی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آزاد ہونے کا عندیہ دیا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایرانی دھمکیوں کے جواب میں گزشتہ روز 'ابراہام لنکن ایئرکرافٹ کیریر اسٹرائیک گروپ' کے بی-52 ایچ اسٹریٹوفورٹریس طیارے قطر میں اپنے فوجی اڈے میں بھیجے تھے اور اب بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ذریعے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم 'پیٹریاٹ' کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔
پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی تعیناتیاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں لیکن امریکا نے ان دھمکیوں کی نوعیت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے جنگی تعیناتیاں ایران کے عالمی جوہری توانائی معاہدے 2015 کی بعض شقوں سے دستبرداری کے بعد کی گئی ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں : ایرانی دھمکیوں کے پیش نظر امریکی بمبار طیارہ قطر پہنچ گیا
ادھر ایران پہلے ہی امریکی دعوؤں کو احمقانہ اور جنگی بیڑے کی تعیناتی کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دے چکا ہے۔ سینیئر ایرانی عالم یوسف طباطبائی نے احمدی نژاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی بیڑے کو صرف ایک میزائل سے تباہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی ممکنہ حملے کے پیشِ نظر فضائی دفاع کے میزائل سسٹم 'پیٹریاٹ' کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ میزائل سسٹم بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور جدید جنگی طیاروں کی روک تھام کے لیے بنا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری توانائی 2015 کی بعض شقوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جوہری توانائی کو ایٹمی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آزاد ہونے کا عندیہ دیا تھا۔