پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے آج کھیلا جائے گا
پلیئرز انفرادی ریکارڈز بہتر بنانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے کوشاں، میزبان قائد حکمت عملی تبدیل کرکے مہمان ٹیم۔۔۔
ماضی کا بہتر ریکارڈ اپنی جگہ لیکن کامیابی میچ کے دن پرفارم کرنے والے کو ہی ملتی ہے، زیادہ تجربات کے امکانات مسترد، بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے، مصباح فوٹو: فائل
پاکستان نئے کپتان کے ساتھ لاچار زمبابوے پر کاری وار کیلیے تیار ہے، 3 ون ڈے میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ آج ہرارے میں ہوگا۔
ٹوئنٹی 20 مقابلوں میں کلین سوئپ کا شکار ہونے والی میزبان ٹیم کو حریف اسپنرز کا سخت چیلنج درپیش ہوگا، برینڈن ٹیلر کو قائدانہ صلاحیتوں کیساتھ اپنی کارکردگی سے بھی دیگر کھلاڑیوں کیلیے مثال قائم کرنا ہوگی، پاکستان کے ناصر جمشید سمیت کئی بیٹسمین فارم کی بحالی اور انفرادی ریکارڈز بہتر بنانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے، مصباح الحق کا کہنا ہے کہ حریف کے خلاف ماضی کا بہتر ریکارڈ اپنی جگہ لیکن کامیابی اسی کو ملتی ہے جو کھیل کے دن پرفارم کرے، انھوں نے زیادہ تجربات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ہر ٹیم خطرناک ہوتی ہے۔
چند نئے پلیئرز کو مواقع ضرور دینا چاہتے ہیں تاہم بھرپور قوت کے ساتھ صرف جیت کا عزم لیے میدان میں اترینگے۔دوسری جانب میزبان کپتان برینڈن ٹیلر حکمت عملی تبدیل کرکے پہلے معرکے میں ہی مہمان ٹیم کو دباؤ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹوئنٹی 20 سیریز میں پاکستانی اسکواڈ کی قیادت محمد حفیظ کے ہاتھوں میں تھی، ون ڈے میچز میں یہ ذمہ داری مصباح الحق نبھائیں گے، وہ مسائل کی شکارکمزور سائیڈ کی صلاحیتوں آزمانے کیلیے تیار ہیں، مختصر فارمیٹ کے پہلے مقابلے میں پاکستانی اسپنرز نے میزبان بیٹنگ لائن کیلیے مشکلات پیدا کرتے ہوئے 67 رنز کے عوض 4 اور دوسرے میں 75 رنز کے بدلے 5 وکٹوں کا بٹوارا کیا۔
منگل کے میچ میں بھی ٹاپ بولرز کی گھومتی گیندیں نو آموز بیٹسمینوں کا امتحان لیں گی،اپ سیٹ کی مدد سے ملکی کرکٹ کو نئی زندگی دینے کی خواہاں میزبان ٹیم کے کپتان برینڈن ٹیلر کو قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنی کارکردگی سے بھی دیگر کھلاڑیوں کیلیے مثال قائم کرنا ہوگی، حیران کن طور پر آخری اطلاعات آنے تک میزبان سلیکٹرز نے اسکواڈ کا اعلان نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف ناصر جمشید سمیت کئی مہمان بیٹسمین فارم کی بحالی اور انفرادی ریکارڈز بہتر بنانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے، اسد شفیق اور عمر امین میں سے کسی ایک کو جگہ ملے گی،اسپن کے شعبے میں سعید اجمل، آفریدی اور محمد حفیظ کی موجودگی میں عبدالرحمان کی جگہ بنتی نظر نہیں آتی۔یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 44 ون ڈے میچز کھیلے جاچکے۔
ان میں سے40 پاکستان نے جیتے، ایک ٹائی ہوا جبکہ ایک کا نتیجہ برآمد نہ ہو سکا، صرف 2 بار زمبابوے مضبوط حریف کو اپ سیٹ شکست دینے کی بے پناہ خوشی سے سرشار ہوا، میزبان ٹیم 1998 کے بعد سے گرین شرٹس کے خلاف ون ڈے فتح کو ترستی رہی ہے، دونوں ٹیمیں 2011 کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ہوں گی، بیٹنگ میں ناکامی کا خوف اس بار بھی مہمان سائیڈ کے اعصاب پر سوار ہے۔ کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ریکارڈز اپنی جگہ لیکن پرفارم کرنے والی ٹیم ہی جیتتی ہے،کسی کو کمزور حریف سمجھ کر نظر انداز نہیں کرسکتے، دنیا کی دیگر ٹیموں کی طرح زمبابوے کیخلاف بھی صرف فتح کا عزم لیے میدان میں اترینگے۔
انھوں نے زیادہ تجربات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ہر ٹیم خطرناک ہوتی ہے،چند نئے پلیئرزکو آزمانا چاہتے ہیں تاہم بھرپور قوت کے ساتھ فتح حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ دوسری جانب میزبان قائد برینڈن ٹیلر کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو ٹوئنٹی 20 سیریز کی شکست بھلا کر میدان میں اترنا ہوگا، ون ڈے میں حکمت عملی تبدیل کرینگے، کوشش ہوگی کہ پہلا میچ جیت کر پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں لے آئیں۔ اسسٹنٹ کوچ اسٹیو مانگونگو نے کہا کہ بھارت سے سیریز کے بعد پاکستان کے مقابل ٹوئنٹی 20 میچز میں بہتری کے کچھ آثار ضرور نظر آئے، ہمیں تینوں شعبوں میں عمدہ پرفارم کرنا ہوگا، مسئلہ یہ ہے کبھی ہماری بیٹنگ چل جائے تو بولنگ دغا دے جاتی ہے، ہمیں کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا۔
ٹوئنٹی 20 مقابلوں میں کلین سوئپ کا شکار ہونے والی میزبان ٹیم کو حریف اسپنرز کا سخت چیلنج درپیش ہوگا، برینڈن ٹیلر کو قائدانہ صلاحیتوں کیساتھ اپنی کارکردگی سے بھی دیگر کھلاڑیوں کیلیے مثال قائم کرنا ہوگی، پاکستان کے ناصر جمشید سمیت کئی بیٹسمین فارم کی بحالی اور انفرادی ریکارڈز بہتر بنانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے، مصباح الحق کا کہنا ہے کہ حریف کے خلاف ماضی کا بہتر ریکارڈ اپنی جگہ لیکن کامیابی اسی کو ملتی ہے جو کھیل کے دن پرفارم کرے، انھوں نے زیادہ تجربات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ہر ٹیم خطرناک ہوتی ہے۔
چند نئے پلیئرز کو مواقع ضرور دینا چاہتے ہیں تاہم بھرپور قوت کے ساتھ صرف جیت کا عزم لیے میدان میں اترینگے۔دوسری جانب میزبان کپتان برینڈن ٹیلر حکمت عملی تبدیل کرکے پہلے معرکے میں ہی مہمان ٹیم کو دباؤ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹوئنٹی 20 سیریز میں پاکستانی اسکواڈ کی قیادت محمد حفیظ کے ہاتھوں میں تھی، ون ڈے میچز میں یہ ذمہ داری مصباح الحق نبھائیں گے، وہ مسائل کی شکارکمزور سائیڈ کی صلاحیتوں آزمانے کیلیے تیار ہیں، مختصر فارمیٹ کے پہلے مقابلے میں پاکستانی اسپنرز نے میزبان بیٹنگ لائن کیلیے مشکلات پیدا کرتے ہوئے 67 رنز کے عوض 4 اور دوسرے میں 75 رنز کے بدلے 5 وکٹوں کا بٹوارا کیا۔
منگل کے میچ میں بھی ٹاپ بولرز کی گھومتی گیندیں نو آموز بیٹسمینوں کا امتحان لیں گی،اپ سیٹ کی مدد سے ملکی کرکٹ کو نئی زندگی دینے کی خواہاں میزبان ٹیم کے کپتان برینڈن ٹیلر کو قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنی کارکردگی سے بھی دیگر کھلاڑیوں کیلیے مثال قائم کرنا ہوگی، حیران کن طور پر آخری اطلاعات آنے تک میزبان سلیکٹرز نے اسکواڈ کا اعلان نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف ناصر جمشید سمیت کئی مہمان بیٹسمین فارم کی بحالی اور انفرادی ریکارڈز بہتر بنانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے، اسد شفیق اور عمر امین میں سے کسی ایک کو جگہ ملے گی،اسپن کے شعبے میں سعید اجمل، آفریدی اور محمد حفیظ کی موجودگی میں عبدالرحمان کی جگہ بنتی نظر نہیں آتی۔یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 44 ون ڈے میچز کھیلے جاچکے۔
ان میں سے40 پاکستان نے جیتے، ایک ٹائی ہوا جبکہ ایک کا نتیجہ برآمد نہ ہو سکا، صرف 2 بار زمبابوے مضبوط حریف کو اپ سیٹ شکست دینے کی بے پناہ خوشی سے سرشار ہوا، میزبان ٹیم 1998 کے بعد سے گرین شرٹس کے خلاف ون ڈے فتح کو ترستی رہی ہے، دونوں ٹیمیں 2011 کے بعد پہلی بار آمنے سامنے ہوں گی، بیٹنگ میں ناکامی کا خوف اس بار بھی مہمان سائیڈ کے اعصاب پر سوار ہے۔ کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ریکارڈز اپنی جگہ لیکن پرفارم کرنے والی ٹیم ہی جیتتی ہے،کسی کو کمزور حریف سمجھ کر نظر انداز نہیں کرسکتے، دنیا کی دیگر ٹیموں کی طرح زمبابوے کیخلاف بھی صرف فتح کا عزم لیے میدان میں اترینگے۔
انھوں نے زیادہ تجربات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ہر ٹیم خطرناک ہوتی ہے،چند نئے پلیئرزکو آزمانا چاہتے ہیں تاہم بھرپور قوت کے ساتھ فتح حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ دوسری جانب میزبان قائد برینڈن ٹیلر کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو ٹوئنٹی 20 سیریز کی شکست بھلا کر میدان میں اترنا ہوگا، ون ڈے میں حکمت عملی تبدیل کرینگے، کوشش ہوگی کہ پہلا میچ جیت کر پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں لے آئیں۔ اسسٹنٹ کوچ اسٹیو مانگونگو نے کہا کہ بھارت سے سیریز کے بعد پاکستان کے مقابل ٹوئنٹی 20 میچز میں بہتری کے کچھ آثار ضرور نظر آئے، ہمیں تینوں شعبوں میں عمدہ پرفارم کرنا ہوگا، مسئلہ یہ ہے کبھی ہماری بیٹنگ چل جائے تو بولنگ دغا دے جاتی ہے، ہمیں کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا۔