فاروق نائیک کو مشیر قانون سندھ بنانے کا نوٹیفکیشن دو گھنٹے بعد واپس

قانون کے مشیر فاروق ایچ نائیک سندھ اسمبلی کے رکن نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے۔

قانون کے مشیر فاروق ایچ نائیک سندھ اسمبلی کے رکن نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے۔ فوٹو ایکسپریس

حکومت سندھ نے صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر میندھروسے قانون کا قلمدان واپس لینے اور سابق وفاقی وزیر قانون اور سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک کو حکومت سندھ کا مشیر برائے قانون مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن دو گھنٹے کے بعد منسوخ کردیا۔


نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈاکٹر سکندر میندھروسے قانون کا قلمدان واپس لیا گیا تھا تاہم پارلیمانی امور کا قلمدان ان کے پاس رہنے دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ماحولیات کا قلمدان بھی انہیں سونپا گیا تھا۔ سندھ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ قانون اور پارلیمانی امور کے قلمدان الگ الگ کردیے گئے تھے۔

نوٹیفیکیشن جاری کرتے وقت یہ بھی نہ سوچا گیا کہ وزیر قانون کے بغیر اسمبلی نہیں چل سکتی اور قانون کے مشیر فاروق ایچ نائیک سندھ اسمبلی کے رکن نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے۔ نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد شاید حکومت کے ذمے داران کو یہ احساس ہوا ہوگا کہ وزیر قانون کے بغیر سندھ اسمبلی کو چلانا مشکل ہوگا۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو خودوکالت بھی کرتے رہے ہیں اور آئین اور قانون کے بارے میں ان کی آگاہی کسی سے کم نہیں ہے۔ لہذاٰ دو گھنٹے کے بعد نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا گیا۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو کے پاس بدستور قانون کا قلمدان رہے گا۔

Recommended Stories

Load Next Story