حیسکو نادہندگان سے اربوں روپے کی وصولی میں ناکام

لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے لگا، نااہلی کے باعث تبدیل کیے گئے اہلکاربھی واپس آگئے

حیسکو ان محکموں و نجی صارفین سے وصولی میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے. فوٹو: فائل

ٹنڈوالہیار میں سرکاری محکموں سمیت مختلف ادارے، صنعتوں، نجی وکمرشل صارفین اور ٹیوب ویل حیسکو کے اربوں روپے کے نادہندہ ہیں۔

حیسکو انتظامیہ واجبات وصولی میں ناکام، ملازمین کو تنخواہیں وقت پر نہیں مل رہی، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے لگا۔ تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن1سب ڈویژن 2اور سب ڈویژن ٹنڈوجام سمیت حیسکو کے سرکاری محکموں، پرائیویٹ صنعتوں، نجی وکمرشل صارفین، اسکارپ، اور ٹیوب ویلوں پر حیسکو کے بجلی کے بلوں کی بقایا جات ڈیڑھ ارب روپے سے بڑھ چکے ہیں۔ ان میں سندھ حکومت کے پولیس، خوراک، اسمال انڈسٹریز، اینیمل ہسبنڈری، ہائی وے، ایجوکیشن، صحت، ڈسٹرکٹ کو نسلز، ٹائون میونسپل ایڈمنسٹریشن، آب پاشی، زراعت، سندھ لوکل گورنمنٹ، وٹرنری کے محکمے شامل ہیں جبکہ وفاقی حکومت میں شامل ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام بھی نادہندہ ہیں۔




حیسکو ان محکموں و نجی صارفین سے وصولی میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، عدم ادائیگی کی وجہ سے ٹنڈوالہیار ضلع میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں حیسکو چیف نے ٹنڈوالہیار کے تینوں سب ڈویژنوں سے درجنوں لائن سپرنٹنڈنٹ اور لائن مینوں کو تبادلہ کر کے دیگر اضلاع میںپوسٹنگ کر دی تھی جن میں سے اکثر بااثر ملازمین نے دوبارہ پوسٹنگ کروالی ہیں۔ ایکئیسن ٹنڈوالہیار فرید احمد سومرو کے مطابق سرکاری نادہندگان کی واجبات کی عدم ادائیگی پر بجلی منقطع کرنے کے آرڈرز بھی مل گئے ہیں، جلد ہی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
Load Next Story