پاکستان اور روس کے پہلے اسٹریٹجک مذاکرات ماسکو میں شروع اقتصادی ودفاعی تعلقات کے فروغ پر بات ہوگی
پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کر رہے ہیں، مذاکرات میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ
ملاقات میں افغانستان کا ایشو اور دیگر معاملات بھی زیر بحث آئینگے، سیکریٹری خارجہ، تعلقات میں بہتری خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جس میں روس کے علاوہ چین سے اسٹرٹیجک تعلقات میں غیرم عمولی گرمجوشی دکھائی جارہی ہے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے سمیت متعدد معاملات پر پہلے اسٹرٹیجک مذاکرات بدھ کو ماسکو میں شروع ہوگئے۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں فریقین تخفیف اسلحہ، انسداد دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اس سے پہلے رواں ماہ روس کی فوج کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کر کے اعلیٰ فوجی قیادت سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ دونوں ملکوں میں اسٹرٹیجک بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کا انخلا آئندہ سال سے ہو رہا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے اور اس کے اپنے پرانے اتحادی اور افغان جنگ میں اس وقت کے سویت یونین کیخلاف اتحادی ملک امریکا سے تعلقات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ گزشتہ سال صدر زرداری، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ماسکو کا دورہ کیا تھا اور کسی بھی پاکستانی فوجی سربراہ کا یہ پہلا دورہ ماسکو تھا۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد سیکیورٹی تعاون، افغانستان کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی معاملات اور پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ پر بات کرنا ہے، ملاقات میں عالمی سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے روس سے تعلقات میں بہتری ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جس میں روس کے علاوہ چین سے اسٹریٹجک تعلقات میں غیرمعمولی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے سمیت متعدد معاملات پر پہلے اسٹرٹیجک مذاکرات بدھ کو ماسکو میں شروع ہوگئے۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں فریقین تخفیف اسلحہ، انسداد دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اس سے پہلے رواں ماہ روس کی فوج کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کر کے اعلیٰ فوجی قیادت سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ دونوں ملکوں میں اسٹرٹیجک بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کا انخلا آئندہ سال سے ہو رہا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے اور اس کے اپنے پرانے اتحادی اور افغان جنگ میں اس وقت کے سویت یونین کیخلاف اتحادی ملک امریکا سے تعلقات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ گزشتہ سال صدر زرداری، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ماسکو کا دورہ کیا تھا اور کسی بھی پاکستانی فوجی سربراہ کا یہ پہلا دورہ ماسکو تھا۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد سیکیورٹی تعاون، افغانستان کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی معاملات اور پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ پر بات کرنا ہے، ملاقات میں عالمی سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے روس سے تعلقات میں بہتری ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جس میں روس کے علاوہ چین سے اسٹریٹجک تعلقات میں غیرمعمولی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔