سفاری پارک مقابلے کی تفتیش کو طول دینے کی کوشش

3 افراد کو صبح 7 بجے اور 6 افراد کو مدہو گوٹھ کے محاصرے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا


Staff Reporter August 29, 2013
3 افراد کو صبح 7 بجے اور 6 افراد کو مدہو گوٹھ کے محاصرے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا. فوٹو : پی پی آئی / فائل

سفاری پاک پولیس مقابلے کی تفتیش طول پکڑتی جا رہی ہے۔

اعلیٰ پولیس افسران کی جانب سے تفتیشی افسران کو جائے وقوعہ کا دوبارہ نقشہ بنانے ، پولیس مقابلے میں شامل اہلکاروں کے مقام ، موبائلوں کی پوزیشن ، ملزمان و پولیس اہلکاروں کے درمیان فاصلے اور ان کی تعداد کے حوالے سے نشاندہی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ، پولیس مقابلے کی کلوز سرکٹ کیمروں کی ریکارڈنگ سے ملزمان کی نشاندہی اور پولیس کی جوابی کارروائی کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سفاری پارک پولیس مقابلے کی تفتیش کو بلاوجہ طول دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، سفاری پارک پولیس مقابلے کی سی سی فوٹیج میں وہ ملزمان جو براہ راست پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دیے وہ مقابلے میں مارے جا چکے ہیں۔

ایس ایس پی ایسٹ عمران شوکت جب مقابلے میں پولیس کی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہوگئے تو پولیس کی مدد کے لیے رینجرز پہنچی تھی جس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مدہو گوٹھ میں داخل ہو کر متعدد ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس مقابلے کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ نے منگل کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے 9 ملزمان بے گناہ ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ریکارڈ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے 9 میں سے 3 افراد کو صبح 7 سے ساڑھے 7 بجے کے دوران گرفتار کیا تھا جبکہ دیگر 6افراد کو پولیس مقابلے کے بعد مدہو گوٹھ میں محاصرے کے بعد گرفتار کیا تھا۔



پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقابلے کی تحقیقات کو بلاوجہ طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے تفتیشی افسران کو جائے وقوعہ کا دوبارہ نقشہ بنانے ، مقابلے میں شریک پولیس افسران و اہلکاروںکے مقام ، موبائلوں کی پوزیشن ، ملزمان و پولیس اہلکاروں کے درمیان فاصلے اور کی تعداد کے حوالے سے نشاندہی کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں ، ذرائع کے مطابق پولیس مقابلے کی کلوز سرکٹ کیمروں کی ریکارڈنگ سے ملزمان کی نشاندہی اور پولیس کی جوابی کارروائی کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 15 اگست کو سفاری پارک میں خونی پولیس مقابلے میں ملزمان کی فائرنگ سے ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری اور اے ایس آئی آصف محمود کو اپنی زندگی سے محروم ہونا پڑا تھا جبکہ ایس ایچ او بہادر آباد انسپکٹر حیدر زیدی سمیت متعدد پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوئے تھے ، پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے ڈی ایس پی قاسم غوری کے اہلخانہ نے خونی پولیس مقابلے کی اصل وجہ ایس ایچ او گلستان جوہر ملک سلیم کو قرار دیتے ہوئے اسے شامل تفتیش کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ملک سلیم کے خلاف تاحال خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

مقبول خبریں