بلاول کی نیب میں پیشی جیالوں پر واٹر کینن کا استعمال کئی کارکن گرفتار
پولیس نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ جانے والے کارکنان کو ڈی چوک پر روک لیا جہاں پولیس اور جیالوں میں ہاتھا پائی ہوئی
زرداری ہاؤس کے داخلی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے فوٹو: فائل
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیب کے سامنے پیش ہوگئے ہیں جب کہ آصف زرداری نے پیش ہونے سے معذرت کرلی ہے۔
نیب نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارک لین کمپنی کی انکوائری میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے جب کہ آصف زرداری کو سولر پراجیکٹ کے غیر قانونی ٹھیکوں کے کیس میں طلب کیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نیب اولڈ ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔ پولیس نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ جانے والے کارکنان کو ڈی چوک پر روک لیا جہاں پولیس اور جیالوں میں ہاتھا پائی ہوئی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے نیب دفتر تک پہنچنے والے سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
بلاول سے 32 سوالات
ذرائع کے مطابق نیب کی تفتیشی ٹیم نے بلاول بھٹو زرداری کو سوالنامہ دیا ہے جس میں 32 سوالات ہیں۔ نیب نے بلاول بھٹو زرداری اوپل 225 انکوائری میں 14 روزمیں جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔
بلاول کا نیب میں انٹرویو، ترجمان
بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان نے نیب کی تفتیش سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلاول بھٹوزرداری کا نیب میں مختصر انٹرویو ہوا، چیئرمین پیپلز پارٹی کا کمپنی کے مالی اور انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلاول بھٹو کو نیب کی جانب سے ایک سوال نامہ دیا گیا،سوال نامہ کا جواب وکلا کی مشاورت سے جمع کروا دیا۔
آصف زرداری کی معذرت
آصف زرداری نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دی ہے۔ان کا موقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے، اس لئے عید کے بعد کوئی بھی تاریخ دے دی جائے وہ پیش ہوجائیں گے۔
نیب کا موقف ہے کہ غیر قانونی ٹھیکے دینے سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
اسلام آباد میں جیالوں کے داخلے پر پابندی
پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستے سیل کر دیے گئے۔ صرف سرکاری اور نجی ملازمین کو کارڈ دکھا کر آنے دیا گیا۔ راستوں کی بندش سے سرکاری ملازمین بھی میلوں کا سفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے علاوہ نیب کے دفتر کے اطراف بھی جیالوں اور میڈیا کے نمائندوں کا داخلہ بند تھا۔
پولیس جیالوں کو روکنے میں ناکام
زرداری ہاؤس کے داخلی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے موقع پر گرفتاریوں کے لیے پرزنر وین اور مخصوص گاڑیاں بھی موجود ہیں تاہم پولیس اہلکار جیالوں کو زرداری ہاؤس جانے سے روکنے میں ناکام ہوگئی۔
ڈرتے ہیں تبدیلی والے،بلاول بھٹوزرداری
پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو روکنے کے حکومتی اقدام پر بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات گئے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، یہ نوٹی فکیشن خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لیے جاری کیا گیا۔
نیب نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارک لین کمپنی کی انکوائری میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے جب کہ آصف زرداری کو سولر پراجیکٹ کے غیر قانونی ٹھیکوں کے کیس میں طلب کیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نیب اولڈ ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔ پولیس نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ جانے والے کارکنان کو ڈی چوک پر روک لیا جہاں پولیس اور جیالوں میں ہاتھا پائی ہوئی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے نیب دفتر تک پہنچنے والے سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
بلاول سے 32 سوالات
ذرائع کے مطابق نیب کی تفتیشی ٹیم نے بلاول بھٹو زرداری کو سوالنامہ دیا ہے جس میں 32 سوالات ہیں۔ نیب نے بلاول بھٹو زرداری اوپل 225 انکوائری میں 14 روزمیں جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔
بلاول کا نیب میں انٹرویو، ترجمان
بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان نے نیب کی تفتیش سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلاول بھٹوزرداری کا نیب میں مختصر انٹرویو ہوا، چیئرمین پیپلز پارٹی کا کمپنی کے مالی اور انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلاول بھٹو کو نیب کی جانب سے ایک سوال نامہ دیا گیا،سوال نامہ کا جواب وکلا کی مشاورت سے جمع کروا دیا۔
آصف زرداری کی معذرت
آصف زرداری نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دی ہے۔ان کا موقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے، اس لئے عید کے بعد کوئی بھی تاریخ دے دی جائے وہ پیش ہوجائیں گے۔
نیب کا موقف ہے کہ غیر قانونی ٹھیکے دینے سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
اسلام آباد میں جیالوں کے داخلے پر پابندی
پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستے سیل کر دیے گئے۔ صرف سرکاری اور نجی ملازمین کو کارڈ دکھا کر آنے دیا گیا۔ راستوں کی بندش سے سرکاری ملازمین بھی میلوں کا سفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے علاوہ نیب کے دفتر کے اطراف بھی جیالوں اور میڈیا کے نمائندوں کا داخلہ بند تھا۔
پولیس جیالوں کو روکنے میں ناکام
زرداری ہاؤس کے داخلی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے موقع پر گرفتاریوں کے لیے پرزنر وین اور مخصوص گاڑیاں بھی موجود ہیں تاہم پولیس اہلکار جیالوں کو زرداری ہاؤس جانے سے روکنے میں ناکام ہوگئی۔
ڈرتے ہیں تبدیلی والے،بلاول بھٹوزرداری
پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو روکنے کے حکومتی اقدام پر بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات گئے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، یہ نوٹی فکیشن خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لیے جاری کیا گیا۔