کراچی میں امن … فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کی جائے

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیے بغیر کراچی کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار

کراچی کے حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ ایم کیو ایم جیسی اہم اور بڑی سیاسی جماعت وہاں فوج بلانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے اس مطالبہ پر بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ درست نہیں' ٹارگٹڈ آپریشن کی ضرورت ہے' وفاقی حکومت نے ایسا خاکہ تیار کیا ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکے گا اور سیاسی اتفاق رائے سے آپریشن کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بدھ کو سپریم کورٹ کو بھی کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے موقع پر یہ کہنا پڑا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز ناکام ہو گئے ہیں' حکومتی رٹ صفر ہے۔

کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے مگر بدقسمتی سے ایک جدید شہر ہونے کے باوجود یہاں امن و امان کی خراب صورت حال اور روز گرتی لاشیں دیکھ کر یوں گماں گزرتا ہے جیسے یہاں کوئی منظم حکومت نہیں بلکہ دہشت گردوں' بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز ہی کا راج ہے۔ کراچی میں اب تک امن قائم کیوں نہیں ہو سکا' بھتہ خوروں' دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کو قانون کی گرفت میں کیوں نہیں لایا جا سکا' یہ وہ سوال ہے جو شہریوں کی جانب سے مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی سیاسی وابستگیاں ہیں' قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیے بغیر کراچی کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی میں شناخت شدہ قاتلوں' بھتہ خوروں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ کراچی میں ماضی میں بھی آپریشن ہوئے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی گئی مگر ان آپریشن کے خلاف کچھ سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے کہ حکومت نے ان کے کارکنوں کو نشانہ بنا کر جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔ یہ آپریشن وقتی طور پر تو امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئے مگر مستقل کوئی حل نہ نکل سکا اور کراچی کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئے۔ اب جب وزیر داخلہ اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مجرموں کی سیاسی وابستگیاں ہیں تو کراچی میں آپریشن شروع کرنے سے قبل حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہو گا تاکہ بعدازاں حکومت کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اور افراد قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار کر لیتے ہیں اور جب کبھی ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو سیاسی جماعتیں اسے سیاسی انتقام قرار دے کر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ کراچی میں آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے دو اہم امور پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔


ایک، وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے تعاون سے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرے اور دوسرا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیا جائے۔ اس آپریشن میں ہر قسم کے مفادات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالتوں کو بھی اس سلسلے میں حکومت سے بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔ کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام حکومتی ادارے یکسو ہو کر حکومت کا ساتھ دیں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر چھپے ہوئے بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کیا اور قانون کی گرفت سے بچانے کی کوشش کی تو حکومتی کوششیں ناکام ہو جائیں گی اور کراچی میں کبھی امن قائم نہ ہو سکے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی ان ہی امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز نے بہت سے مجرم پکڑے مگر پولیس اور عدالتیں انھیں چھوڑ دیتی ہیں' رینجرز مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں' مجرم اور معصوم میں فرق ہونا چاہیے۔

جہاں تک سندھ میں فوجی آپریشن کا مطالبہ ہے تو اس وقت فوج پر پہلے ہی بہت دبائو ہے' فوج قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب سرحدوں کی صورتحال بھی اطمینان بخش نہیں' فوج وہاں بھی سلامتی کے امور پر توجہ مرتکز کیے ہوئے ہے' ایسے میں کراچی کی گلی کوچوں میں فوج بھیجنے سے بہت سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ مجرموں کے خلاف آپریشن کے دوران اگر چند ایک بے گناہ افراد بھی مارے جاتے ہیں تو اس سے شہریوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جانے لگے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ کراچی میں اندرونی سلامتی کو برقرار رکھنے والے اداروں کو بروئے کار لایا جائے۔ پولیس اور رینجرز کو سیاسی وابستگیوں اور دبائو سے آزاد کر کے مجرموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جانی چاہیے۔ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران بھی ڈی جی رینجرز نے سپریم کورٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ سیاسی جماعتوں نے عسکری ونگز بنا رکھے ہیں، حالات کی خرابی کے ذمے دار بھی یہ سیاسی عسکری ونگز ہیں' رینجرز نے سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو بھی پکڑا مگر عدالتی نظام کی کمزوری کے باعث یہ مجرم عدالتوں سے ضمانت پر رہا یا مقدمات میں بری ہو جاتے ہیں اور دوبارہ ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

جب تک گرفتار ہونے والے دہشت گرد عدالتوں سے اپنے انجام کو نہ پہنچیں جرائم پر قابو پانا مشکل ہے۔ عدالتوں کو بھی اپنے اندرونی نظام کی اس کمزوری پر توجہ دینا ہو گی جس سے فائدہ اٹھا کر دہشت گرد عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ عدالتیں گرفتار دہشت گردوں کو سخت سزائیں دیں تو جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں نو گو ایریاز ابھی تک موجود ہیں' روزانہ لوگوں کی ایک تعداد بے گناہ ماری جا رہی ہے۔ سندھ کی موجودہ حکومت گزشتہ حکومت ہی کا تسلسل ہے' وہ گزشتہ پانچ سال کے دوران بھی کراچی میں بدامنی کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور عدالت کو متحرک ہونا پڑے گا۔ موجودہ وفاقی حکومت نے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات سے بچنے اور کراچی میں آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر وفاقی حکومت کراچی میں فوج نہیں بھیج سکتی وزیراعلیٰ سندھ کپتان بنیں' رینجرز کراچی میں آپریشن کے لیے تیار ہے۔ رینجرز نے کراچی میں بہت سے مجرم پکڑے ہیں' اب بھی رینجرز اور پولیس کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے کراچی کو دوبارہ سے امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ بہر حال کراچی میں قیام امن کے لیے فوج بلائی جائے' ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے یا اس کا کوئی اور حل ڈھونڈا جائے' جو کچھ بھی کرنا ہے' جلد حتمی فیصلہ کیا جائے۔ مطالبات' بیانات اور مصلحتوں میں پہلے ہی بہت وقت ضایع کیا جا چکا ہے' اس کا خمیازہ شہر قائد کے عوام اور کاروباری طبقہ بھگت رہے ہیں' سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں ہیں' انتظامیہ اپنی جگہ مشکل میں ہے لیکن ان کی مجبوریوں اور مصلحتوں میں عوام مارے جا رہے ہیں' اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی میں امن کے لیے جو طریقہ بھی مناسب اور قانونی ہے' اسے اختیار کرنے میں تاخیر نہ کی جائے۔
Load Next Story