احوال کچھ پسماندگان کا

گذشتہ روز ایک ’’پسماندے‘‘ سے سرراہ ملاقات ہوئی۔ نہایت ہی بے مزہ ہو رہا تھا۔۔

barq@email.com

گذشتہ روز ایک ''پسماندے'' سے سرراہ ملاقات ہوئی۔ نہایت ہی بے مزہ ہو رہا تھا۔ پوچھا بھئی کیا حال چال ہے۔ بیزاری کی انتہا کرتے ہوئے بولا ، دو بیویوں کے شوہر سے اچھا ہوں۔دوبارہ پوچھا ،کیا ہو رہا ہے آج کل۔ بولا ، بس ''دھوپ'' اور ''ہوا'' پر جی رہے ہیں۔

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

تُو بھی اپنا نہیں کہ تم سے کہیں

لیکن ہم سمجھ گئے کیونکہ اس نے ''دھوپ'' اور ''ہوا'' پر گزارہ کہہ کر سب کچھ کہہ دیا تھا۔ کسی اور صوبے کے لوگ شاید اس اصطلاح کو نہ سمجھتے ہوں لیکن صوبہ خیبر پختون خوا کے، جس کا تخلص خیر پخیر ہے، رہنے والے جانتے ہیں کہ دھوپ اور ہوا پر رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ لیکن ٹھہریئے پہلے ''پسماندوں'' کے بارے میں تو بتا دیں۔ صوبہ خیبر پختون خوا میں پسماندہ دو قسم کے ہوتے ہیں بلکہ ان کے دو بڑے بڑے خاندان ہیں۔ ایک کو ''خاندان سرکاریہ'' کہا جاتا ہے دوسرا ''خاندان سیاسیہ'' کہلاتا ہے، خاندان سیاسیہ کے پسماندے تو وہ ہوتے ہیں جو اپنے خاندان کے دور حکومت میں غالبؔ بنے ہوئے ہوتے ہیں یعنی

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

اس دور میں ان سے ملنا یا بات کرنا تو دور، ٹیلی فون پر ہیلو ہائے کرنا بھی صرف خاص قسم کے خوش نصیبوں کو نصیب ہوتا ہے بلکہ یوں کہئے کہ یہ ''برہمن'' بن جاتے ہیں اور خاندان کے باہر کے ''شودورں'' کا سایہ بھی اپنے اوپر نہیں پڑنے دیتے۔ لوگ صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے بھی نہ جانے کیا کیا جتن کرتے رہتے ہیں کہ بڑے بڑے افسروں کو یوں ٹھینگے پر رکھتے ہیں جسے خاشاک کو جوتے کی نوک سے ادھر ادھر کیا جاتا ہے، اس قسم کے پسماندوں کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو جھینگر ہوتے ہیں صرف ''بیانات'' کے راگ الاپ الاپ کر خوش رہتے ہیں اور ''سیزن'' گزرنے پر بھوک کا شکار ہوتے ہیں جب کہ دوسری قسم چیونٹیوں کی ہوتی ہے جو اس دور میں جو کچھ بھی ملتا ہے اسے اپنے اوپر لادا کر اپنے بل میں پہنچاتے ہیں اور سیزن گزرنے پر آرام سے بیٹھ کر دوسرے سیزن تک کھاتے رہتے ہیں۔

خاندان سیاسیہ کے یہ پسماندے تو شاید دوسرے صوبوں میں پائے جاتے ہیں لیکن خاندان سرکاریہ کے پسماندے صرف اور صرف ہمارے صوبے کے نصیب میں ہوتے ہیں کیونکہ اس قسم کے پسماندوں کا گزارہ ''آفات سماوی'' پر ہوتا ہے ''آفات ارضی'' ہم نے اس لیے شامل کیے کہ ''آفات ارضی'' یہ خود ہوتے ہیں جو آفات سماوی کی مدد لے کر نازل ہوتے ہیں، یوں سمجھئے کہ اگر ہم پرندوں میں ان کی مثال دیکھنا چاہیں تو ''گدھ'' سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں جو دشت بدشت صحرا بہ صحرا اڑتے ہوئے کسی لاش کو تلاش کرتے رہتے ہیں، فلموں وغیرہ میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض اوقات یہ گدھ صحرا میں پڑے کسی بے ہوش یا زخمی کو بھی لاش سمجھ کر حملہ کر دیتے ہیں اور اگر مطلوبہ شکار ابھی تھوڑا بہت زندہ ہو تو اس کے قریب بیٹھ کر انتظار بھی کر لیتے ہیں جیسا کہ ابھی چند روز پہلے ہوا لیکن افسوس کہ

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

سیلاب کی آمد آمد تھی، سرکاری پسماندوں کے گھروں میں چہرے کھل اٹھے لیکن افسوس کہ اس مرتبہ سیلاب نے دغا بازی سے کام لیا حالانکہ پسماندوں نے ٹھیک ٹھیک ''مقامات'' پر اپنے تبادلے کروا کر مورچے جما لیے تھے لیکن کسے معلوم تھا کہ محبوبِ دغا باز کی طرح آفات سماوی بھی دھوکہ دے جاتے ہیں۔

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت،


ہم اگر غالبؔ کے معتقد ہیں تو ایسے ہی نہیں ہیں، غالبؔ میں یہ کمال بدرجہ اتم موجود تھا کہ اُس زمانے میں اس زمانے کی باتیں کر لیتے تھے اگرچہ نقادوں کے نزدیک وہ اپنے زمانے سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے پیدا ہوئے تھے لیکن ہمارا خیال یہ کہ پیدا تو اس دور میں ہوئے تھے لیکن موجودہ زمانے پر بھی نگاہ رکھتے تھے چنانچہ اپنے شعروں میں ایسا نکتہ رکھ دیتے تھے جو دونوں زمانوں کے لیے کفایت کر لیا تھا یعنی اس زمانے کے لوگ کچھ اور معنی اخذ کر کے لطف اٹھا لیتے ہیں جب کہ اصل معنی ہمارے دور کے لیے ہوتے تھے، ہم بھی ایک عرصے تک ان کے اکثر شعروں کے ظاہری معنی نکالتے تھے مثلاً یہ شعر لیجیے

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

کسے معلوم تھا کہ اس شعر میں ''مرنے'' کا مطلب اپنا مرنا نہیں بلکہ دوسروں کا مرنا ہے اور ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب پاکستان نامی مملکت وجود میں آئے گی اور اس کے ایک صوبے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی ساری امیدیں دوسروں کے مرنے سے وابستہ ہوں گی ۔۔۔ ذرا صوبہ خیبر پختون خوا میں افغان مہاجرین سے لے کر موجودہ آئی ڈی پیز تک اور زلزلے سے لے کر سیلابوں تک کو ذہن میں رکھ کر اس شعر کو دوبارہ پڑھئے، خاص طور پر یہ ابھی ابھی کا ''سیلاب'' جو آنے والا تھا لیکن نہیں آیا،

اب کے برس ساون میں، جب وہ آئیں گے ملنے

ہم نگاہوں سے اس کی آرتی اتاریں گے

اگر اب بھی بات آپ کی سمجھ میں نہ آئی ہو تو چلیے ترکی کا ایک افسانہ آپ کو سناتے ہیں جو غالباً ترکی کے معروف افسانہ نگار عزیز کا لکھا ہوا ہے، اس افسانے میں ایک ایسے خاندان کا تذکرہ ہے جو کئی لحاظ سے پاکستان سے مشابہت رکھتا ہے۔ خاندان کا سربراہ مر چکا ہے، صرف ایک بیوہ ماں ہے اور اس کے چار بچے ہیں، یہ لوگ کئی دن کے بھوکے ہیں لیکن کھانے کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہو رہی ہے۔

آخر کار بچوں میں سے ایک بچہ بھوک سے مر جاتا ہے۔ اڑوس پڑوس کے لوگ رواج کے مطابق میت والے گھر میں کھانا دے جاتے ہیں، چند روز اس طرح آرام سے گزر جاتے ہیں اور بچے انواع و اقسام کے کھانے کھا کھا کر خوش ہو جاتے ہیں لیکن پھر حالات آہستہ نارمل ہوئے لوگوں نے کھانا دینا بند کر دیا اور بھوک نے پھر اس خاندان کو اپنے جبڑوں میں دبوچنا شروع کر دیا، ظاہر ہے کہ بھوک کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا، صرف ایک روٹی کے پاس ہوتا ہے اور روٹی تو روٹی ہوتی ہے،

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

کئی دن گزر گئے، ایک بچی ان میں بے ہوش ہو گئی۔ ماں اسے گود میں لیے بیٹھی تھی کہ اتنے میں ذرا بڑا بیٹا ماں کے دوسرے پہلو سے چمٹ گیا اور بھوک کی چبھن سے تڑپ کر وہ ماں کے کاندھے سے لگے لگے بولا ، ماں نورنیہ کب مرے گی؟ اس کے تصور میں اڑوس پڑوس سے آئے ہوئے کھانے کے خوانچے گھوم رہے تھے۔ اس موقع پر غالبؔ کا شعر پھر یاد کر لیجیے، منحصر مرنے پہ... جس پسماندے کا ذکر ہم نے ابتداء میں کیا تھا، وہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہا تھا جس طرح وہ بچہ ... جسے نورینہ کے مرنے اور اڑوس پڑوس کے خوانچوں کا انتظار تھا لیکن اس بچے سے یہ پسماندہ ذرا اچھی پوزیشن میں تھا کیونکہ ''دھوپ اور ہوا'' تو اسے میسر ہے، دھوپ اور ہوا کا مطلب تنخواہ اور اوپر کی روزمرہ آمدنی کا ہوتا ہے، کسی اور علاقے کا تو علم نہیں لیکن ہمارے اس صوبے میں ''دھوپ اور ہوا'' پر گزارہ صرف نکمے لوگ ہی کرتے ہیں، خاندان میں میت ہونے اور اڑوس پڑوس سے آئے ہوئے خوانچوں کی بات ہی کچھ اور ہے نہ حساب نہ کتاب نہ گنتی نہ شمار جتنا چاہے ٹھونس لو، یا اپنے بل میں لے جا کر ذخیرہ کر لو، جہاں تک سیاسی پسماندگان کا تعلق ہے، ان کا ابھی گزارہ چل رہا ہے، خاص طور پر ان کی جو چیونٹے تھے ان کے ذخیروں میں اب بھی اتنا مال ہے کہ اگلی بار یا اگلی آفت آنے تک گزارہ چل سکے گا لیکن بے چارے جھینگر کہاں جائیں گے، کتنی امیدیں باندھی تھیں جب دریاؤں میں طغیانی اور سیلاب کے خطرے کی خبریں آنے لگی تھیں، ممکن ہے ایک دوسرے کو مبارک بادیں بھی دی گئی ہوں لیکن اس مرتبہ ''دعاؤں'' میں شاید وہ تاثیر نہیں تھی کہ ایک مرتبہ پھر اڑوس پڑوس کے خوانچے آنا شروع ہو جائیں۔

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
Load Next Story